بارہ مہاجر نشستیں: آئینی تحفظ، ریاستی وحدت اور مسئلہ کشمیر کے تاریخی مقدمے کا اہم امتحان؟

آزاد کشمیر کی سیاسی جماعتوں کے قائدین کے نام کھلا خط
تحریر: فرحت علی میر
گذشتہ روز 30 مئی 2026ء کو مظفرآباد میں وفاقی حکومت کے وزراء و مشیران اور پاکستان پیپلز پارٹی کے اراکین پارلیمنٹ پر مشتمل وفد، وزیر اعظم حکومت آزاد جموں و کشمیر اور جوائنٹ عوامی ایکشن کمیٹی کے مابین منعقدہ مذاکرات بارہ مہاجر نشستوں سمیت دیگر مطالبات پر اتفاق رائے پیدا کرنے میں ناکام رہے اور اجلاس عملی طور پر ایک ڈیڈ لاک پر ختم ہوا۔ جوائنٹ عوامی ایکشن کمیٹی کے ساتھ مذاکراتی عمل میں غالباً پہلی مرتبہ مسلم لیگ (ن) آزاد کشمیر کے صدر شاہ غلام قادر اور پاکستان پیپلز پارٹی آزاد کشمیر کے صدر چوہدری محمد یاسین بھی شریک ہوئے۔ مذاکرات میں کامیابی یا نتیجہ خیزی کے بجائے پیدا ہونے والے تعطل کے نتیجے میں احتجاجی مظاہروں کی مقررہ تاریخ 9 جون 2026ء سے قبل آزاد کشمیر کی تمام سیاسی جماعتوں پر مشتمل ایک آل پارٹیز کانفرنس (اے پی سی) بلانے کا فیصلہ کیا گیا تاکہ اس حساس اور دور رس نتائج کے حامل معاملے پر وسیع تر سیاسی مشاورت کی جا سکے ۔

اگرچہ یہ فیصلہ اپنی جگہ خوش آئند ہے، لیکن ایک بنیادی سوال بہرحال اپنی جگہ موجود ہے کہ جس معاملے کا تعلق ریاست جموں و کشمیر کی آئینی ساخت، تاریخی تشخص، حق خودارادیت، مہاجرین کی نمائندگی اور پاکستان کے کشمیر سے متعلق مستقل قومی مؤقف سے ہو، اس پر جامع سیاسی مشاورت کا آغاز بہت پہلے کیوں نہ کیا گیا؟ مذاکراتی تعطل کے بعد آل پارٹیز کانفرنس بلانے کا فیصلہ درحقیقت اس امر کی نشاندہی کرتا ہے کہ اس مسئلے کی آئینی اور تاریخی پیچیدگیوں کا ادراک ابتدا میں مطلوبہ سطح پر نہیں کیا گیا۔ تاہم اس پورے معاملے کا ایک اور نہایت اہم پہلو بھی ہے جسے نظر انداز کرنا سیاسی اور فکری دونوں اعتبار سے ناانصافی ہوگی۔ جوائنٹ عوامی ایکشن کمیٹی کی تحریک کا آغاز دراصل بارہ مہاجر نشستوں کے خاتمے کے مطالبے سے نہیں ہوا تھا۔ اس تحریک کی بنیاد عوام کی ان شکایات اور تشویشات پر رکھی گئی تھی جو طویل عرصے سے حکمرانی کے معیار، ترقیاتی ترجیحات، مالیاتی نظم و نسق، عوامی خدمات اور ریاستی اداروں کی کارکردگی کے حوالے سے سامنے آ رہی تھیں۔ عوامی ایکشن کمیٹی نے ابتدا میں جن مسائل کو اجاگر کیا ان میں آزاد کشمیر کی تعمیر و ترقی میں سست روی، قدرتی اور مالی وسائل کے مؤثر اور شفاف استعمال کا فقدان، بدعنوانی کے الزامات، میرٹ کی پامالی، سیاسی مداخلت سے متاثرہ انتظامی ڈھانچہ، تعلیم اور صحت عامہ کے شعبوں میں معیار کی مسلسل گراوٹ، اشرافیہ کو حاصل غیر معمولی مراعات، انصاف کے حصول کے پیچیدہ اور مہنگے نظام سے پیدا ہونے والی مشکلات اور مجموعی طور پر حکمرانی کے بحران سے متعلق سوالات شامل تھے۔ یہ وہ موضوعات تھے جن کا براہ راست تعلق عام آدمی کی زندگی، ریاستی اداروں کی کارکردگی اور عوامی فلاح و بہبود سے تھا۔

عوامی دباؤ کے نتیجے میں بعض معاملات، خصوصاً بجلی کے نرخوں اور آٹے کی قیمتوں کے حوالے سے اقدامات بھی کیے گئے۔ لیکن یہ حقیقت بھی اپنی جگہ موجود ہے کہ جن بنیادی اور ساختی نوعیت کی اصلاحات کا مطالبہ کیا جا رہا تھا، ان پر خاطر خواہ پیش رفت دکھائی نہیں دی۔ مزید برآں جن شکایات اور مطالبات کا بڑا حصہ براہ راست حکومت آزاد کشمیر کی انتظامی اور حکومتی ذمہ داریوں سے متعلق تھا، ان کے بارے میں اصلاح احوال کی سنجیدہ کوششوں کے بجائے معاملہ بتدریج حکومت پاکستان اور وفاقی سطح کے کردار کے گرد گھومنے لگا۔ یہ امر غور طلب ہے کہ آزاد کشمیر میں حکمرانی، ترقیاتی ترجیحات، مالی شفافیت، ادارہ جاتی احتساب، تعلیم، صحت، عدالتی اصلاحات اور عوامی خدمات کی بہتری جیسے مسائل بنیادی طور پر آزاد کشمیر کے اپنے نظام حکومت، سیاسی قیادت اور ریاستی اداروں سے متعلق ہیں۔ ان مسائل کے حل کے لیے اصل توجہ اصلاحات، احتساب اور بہتر طرز حکمرانی پر مرکوز ہونی چاہیے تھی۔ بدقسمتی سے وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ عوامی احتجاج کے ابتدائی اور بنیادی مطالبات پس منظر میں جاتے چلے گئے اور مہاجرین جموں و کشمیر کی بارہ نشستوں کے خاتمے کا مطالبہ احتجاجی بیانیے کا سب سے نمایاں اور متنازع موضوع بنتا چلا گیا۔ نتیجتاً آج صورتحال یہ ہے کہ گویا تمام سیاسی، انتظامی اور مالیاتی خرابیوں کا نقطۂ آغاز اور نقطۂ اختتام انہی بارہ نشستوں کو قرار دے دیا گیا ہے، حالانکہ ریاست کو درپیش بہت سے بنیادی مسائل اپنی جگہ بدستور موجود ہیں۔

حقیقت یہ ہے کہ بارہ مہاجر نشستوں کا معاملہ چند انتخابی حلقوں یا نشستوں کی تعداد کا سوال نہیں بلکہ ریاست جموں و کشمیر کی وحدت، آزاد حکومت ریاست جموں و کشمیر کی نمائندہ حیثیت اور مسئلہ کشمیر کے بنیادی بیانیے سے جڑا ہوا ایک حساس آئینی مسئلہ ہے۔ مہاجرین جموں و کشمیر مقیم پاکستان کی نمائندگی کسی وقتی سیاسی مصلحت یا انتظامی بندوبست کا نتیجہ نہیں۔ اس کی جڑیں ریاست جموں و کشمیر کی آزادی کی جدوجہد، آزاد حکومت کے قیام، معاہدہ کراچی، اتحادِ ثلاثہ کے سیاسی منشور، بنیادی جمہوریتوں کے انتخابی نظام، گورنمنٹ ایکٹ 1970 اور عبوری آئین 1974 کے تاریخی ارتقاء میں پیوست ہیں۔ تاریخی ریکارڈ کے مطابق 4 اکتوبر 1947ء کو مہاراجہ ہری سنگھ کی معزولی اور ایک متوازی حکومت کے قیام کا اعلان منظر عام پر آیا، جس کی خبر 8 اکتوبر 1947ء کو لاہور کے معروف اخبار سول اینڈ ملٹری گزٹ میں شائع ہوئی۔ اسی سیاسی اور انقلابی عمل کے تسلسل میں 24 اکتوبر 1947ء کو سردار محمد ابراہیم خان کی قیادت میں “آزاد حکومت ریاست جموں و کشمیر” کے قیام کا تاریخی اعلامیہ جاری کیا گیا۔۔

مزید یہ بھی پڑھیں:وزیراعظم راجہ فیصل ممتاز راٹھور اور چوہدری محمد یاسین نےوفاقی ہائی پاور کمیٹی کے ممبران کو الوداع کیا

اس اعلامیہ میں نہایت وضاحت اور بلیغ انداز میں کہا گیا کہ نئی حکومت “ریاست جموں و کشمیر کے عوام کی متحدہ آواز کی ترجمان” ہے، جس کا مقصد عوام کو ڈوگرہ آمریت سے نجات دلانا، ریاست میں نظم و نسق بحال کرنا، جمہوری دستور ساز اسمبلی کے قیام کی راہ ہموار کرنا اور ریاست کی جغرافیائی سالمیت و سیاسی انفرادیت کا تحفظ یقینی بنانا ہے۔ آزادی کی اس جدوجہد کو 1929ء سے جاری عوامی تحریک کا تسلسل قرار دیا گیا اور واضح کیا گیا کہ عارضی حکومت کا مقصد ریاست کے عوام کو اپنی آزادانہ رائے کے اظہار کے لیے سازگار ماحول فراہم کرنا ہے۔ یہ الفاظ بذات خود اس حقیقت کا ثبوت ہیں کہ آزاد حکومت ریاست جموں و کشمیر کو کبھی صرف موجودہ آزاد کشمیر کے محدود جغرافیائی خطے کی انتظامیہ کے طور پر نہیں دیکھا گیا بلکہ اسے پوری ریاست جموں و کشمیر کی نمائندہ اور عبوری حکومت کے طور پر پیش کیا گیا۔ اسی فلسفے کی جھلک 1947ء میں اختیار کیے گئے سرکاری پرچم اور ریاستی ترانے میں بھی نمایاں طور پر دیکھی جا سکتی ہے، جن میں ریاست جموں، کشمیر، لداخ، گلگت اور دیگر اکائیوں کی وحدت اور آزادی کے عزم کی عکاسی کی گئی۔
اسی تناظر میں 1949ء کے معاہدہ کراچی کا مطالعہ بھی ضروری ہے۔ بعض حلقے اس معاہدے کو بنیاد بنا کر یہ تاثر دینے کی کوشش کرتے ہیں کہ آزاد کشمیر کا کردار صرف موجودہ آزاد علاقوں تک محدود ہو گیا تھا، حالانکہ معاہدہ کراچی کے اصل مندرجات اس تاثر کی تردید کرتے ہیں۔ حکومت پاکستان کو مہاجرین جموں و کشمیر سے رابطہ اور ان کی بحالی کی ذمہ داری سونپی گئی، لیکن اس کا مقصد مہاجرین کا ریاست جموں و کشمیر سے تعلق ختم کرنا نہیں تھا بلکہ پاکستان میں ان کی آبادکاری اور فلاح و بہبود کو یقینی بنانا تھا۔ اسی معاہدے میں آزاد حکومت ریاست جموں و کشمیر کو اقوام متحدہ کے کمیشن برائے انڈیا و پاکستان کے ساتھ مسئلہ کشمیر پر گفت و شنید اور مشاورت میں معاونت کی ذمہ داری دی گئی، جبکہ آل جموں و کشمیر مسلم کانفرنس کو ریاست کے دونوں حصوں اور پاکستان میں مقیم مہاجرین کے درمیان سیاسی رابطہ، استصواب رائے کی تیاری، مسئلہ کشمیر کے بارے میں شعور بیدار کرنے اور سیاسی سرگرمیوں کی تنظیم جیسے اہم فرائض تفویض کیے گئے۔ یہ تمام انتظامات اس امر کا واضح ثبوت ہیں کہ معاہدہ کراچی کا مقصد ریاست جموں و کشمیر کی وحدت کو کمزور کرنا نہیں بلکہ مسئلہ کشمیر کے مختلف پہلوؤں کے لیے ذمہ داریوں کی تقسیم تھا۔ اسی نظریاتی اور سیاسی تسلسل کا اظہار 5 اگست 1968ء کے اتحادِ ثلاثہ کے تاریخی اعلامیہ میں بھی ملتا ہے۔ سردار محمد عبدالقیوم خان، سردار محمد ابراہیم خان اور کے ایچ خورشید نے متفقہ طور پر اعلان کیا کہ:

“ریاست جموں و کشمیر ایک ناقابل تقسیم وحدت ہے اور ریاست کے مستقبل کے بارے میں کوئی بھی حل قابل قبول نہیں ہوگا جو اس کی بنیادی سیاسی حقیقت کے منافی ہو۔ اسی اعلامیہ میں مطالبہ کیا گیا کہ آزاد حکومت ریاست جموں و کشمیر کی تشکیل نو اس انداز میں کی جائے کہ وہ ریاست کے تمام عناصر کی مؤثر نمائندہ ہو اور اس کے ساتھ پوری ریاست کی بااختیار حکومت کا سلوک کیا جائے۔ مزید برآں پاکستان میں مقیم کشمیری مہاجرین کی نمائندگی پر مشتمل ایک منتخب اور ذمہ دار حکومت کے قیام کو آزاد حکومت کے نظریاتی کردار کے لیے ناگزیر قرار دیا گیا۔درحقیقت مہاجر نمائندگی کا تصور 1970ء یا 1974ء میں پیدا نہیں ہوا تھا۔ 1960ء میں بنیادی جمہوریتوں کے نظام کے نفاذ کے بعد صدر حکومت کے انتخاب کے لیے قائم 2400 رکنی الیکٹورل کالج میں 1200 نمائندے آزاد کشمیر سے اور 1200 نمائندے مہاجرین جموں و کشمیر مقیم پاکستان سے منتخب کیے جاتے تھے، جن میں جموں اور وادئ کشمیر کے مہاجرین کو مساوی نمائندگی دی گئی تھی۔یہی سلسلہ بعد کے ادوار میں بھی مختلف انتظامی تبدیلیوں کے باوجود برقرار رہا۔ گورنمنٹ ایکٹ 1970 کے نفاذ کے بعد جب آزاد کشمیر میں منتخب قانون ساز اسمبلی اور ذمہ دار حکومت کا نظام قائم ہوا تو مہاجرین جموں و کشمیر کی نمائندگی کو باقاعدہ قانون کے تحت اس نئے آئینی ڈھانچے کا حصہ بنایا گیا۔ بعد ازاں سال 2018 میں تیرہوین آئینی ترامیم کے زریعے یہی نمائندگی آزاد جموں و کشمیر عبوری آئین 1974ء کے آرٹیکل 22 میں آئینی تحفظ حاصل کرنے پر منتج ہوئی ۔ چنانچہ آج بارہ مہاجر نشستوں کے خاتمے یا ان میں بنیادی تبدیلی کا سوال صرف انتخابی اصلاحات کا معاملہ نہیں بلکہ ایک آئینی مسئلہ ہے۔ عبوری آئین 1974ء کے آرٹیکل 33 کے مطابق ایسی کسی بھی تبدیلی کے لیے دو تہائی اکثریت سے آئینی ترمیم ضروری ہے۔ موجودہ 53 رکنی اسمبلی میں اس مقصد کے لیے کم از کم 36 ارکان کی حمایت درکار ہوگی۔ مزید برآں ایک عملی اور سیاسی حقیقت یہ بھی ہے کہ جن بارہ نشستوں کے خاتمے کی بات کی جا رہی ہے، انہی نشستوں سے منتخب ارکان اسمبلی بھی اس آئینی عمل کا حصہ ہوں گے۔ اس لیے یہ معاملہ محض سیاسی نعرے یا عوامی مطالبے سے کہیں زیادہ پیچیدہ آئینی نوعیت اختیار کر چکا ہے۔

اس سے بھی بڑھ کر سوال یہ ہے کہ کیا بارہ مہاجر نشستوں کا خاتمہ ریاست جموں و کشمیر کی وحدت، آزاد حکومت کی نمائندہ حیثیت اور مسئلہ کشمیر کے تاریخی بیانیے پر اثر انداز نہیں ہوگا؟ کیا 24 اکتوبر 1947ء کے اعلامیہ، معاہدہ کراچی، اتحادِ ثلاثہ کے منشور، گورنمنٹ ایکٹ 1970 اور عبوری آئین 1974 کے تاریخی تسلسل کو نظر انداز کرتے ہوئے کوئی ایسا فیصلہ کیا جا سکتا ہے جو ریاست کے غیر منقسم تشخص اور حق خودارادیت کے مقدمے کو کمزور نہ کرے؟ آج جبکہ 7 جون 2026ء کو کل جماعتی کانفرنس کے انعقاد کا فیصلہ ہو چکا ہے، ضرورت اس امر کی ہے کہ شریک سیاسی جماعتیں اس معاملے کو محض عوامی دباؤ، احتجاجی تحریک یا نشستوں کی عددی تقسیم کے تناظر میں نہ دیکھیں بلکہ ان تاریخی، آئینی اور نظریاتی حقائق کو بھی پیش نظر رکھیں جن پر آزاد حکومت ریاست جموں و کشمیر کی بنیاد رکھی گئی تھی۔ درحقیقت یہ کانفرنس صرف بارہ نشستوں کے مستقبل کا تعین نہیں کرے گی بلکہ اس امر کا بھی امتحان ہوگی کہ آزاد کشمیر کی سیاسی قیادت ریاست جموں و کشمیر کی وحدت، مسئلہ کشمیر کے تاریخی بیانیے اور ریاستی اداروں کے آئینی تشخص کے بارے میں کس حد تک فکری گہرائی، سیاسی بصیرت اور دور اندیشی رکھتی ہے۔ عوامی مطالبات یقیناً جمہوری معاشروں میں غیر معمولی اہمیت رکھتے ہیں، لیکن عوامی مطالبات کا پائیدار اور دانشمندانہ جواب صرف وہی سیاسی قیادت دے سکتی ہے جو وقتی جذبات اور طویل المدت قومی مفادات کے درمیان توازن پیدا کرنے کی صلاحیت رکھتی ہو۔ سیاسی جماعتوں کے لیے یہ بھی ضروری ہوگا کہ وہ صرف بارہ نشستوں کے سوال پر ہی اپنی پوزیشن واضح نہ کریں بلکہ ان بنیادی عوامی شکایات اور مطالبات پر بھی جامع اصلاحی پروگرام کے ساتھ سامنے آئیں جنہوں نے جوائنٹ عوامی ایکشن کمیٹی کی تحریک کو جنم دیا تھا۔

یہ حقیقت بھی پیش نظر رہنی چاہیے کہ 1947ء سے آج تک آزاد حکومت ریاست جموں و کشمیر محض ایک انتظامی ڈھانچہ نہیں بلکہ اقوام متحدہ کی قراردادوں کے مطابق ریاست جموں و کشمیر کے متوقع جمہوری تصفیے کے انتظار میں قائم ایک عبوری ریاستی نظم کی حیثیت رکھتی ہے۔ گزشتہ تقریباً آٹھ دہائیوں کے دوران اسی نظام کے تحت مقننہ، انتظامیہ اور عدلیہ پر مشتمل ایک مکمل ریاستی ڈھانچہ (Statecraft) وجود میں آیا جس نے بنیادی حقوق، جمہوری نمائندگی، آئینی حکمرانی اور ریاستی اداروں کے تسلسل کو برقرار رکھنے میں کلیدی کردار ادا کیا ہے۔ لہٰذا اصل سوال صرف یہ نہیں کہ بارہ مہاجر نشستیں برقرار رہتی ہیں یا نہیں، بلکہ یہ بھی ہے کہ آیا اس بحث کے دوران آزاد حکومت ریاست جموں و کشمیر کے اس تاریخی اور آئینی کردار کو محفوظ رکھا جا سکے گا جس کی بنیاد ریاست جموں و کشمیر کی وحدت، حق خودارادیت اور عوامی نمائندگی کے اصولوں پر رکھی گئی تھی۔

اگر اس نکتے کو نظر انداز کیا گیا تو ممکن ہے کہ ایک محدود سیاسی مسئلے کا حل تلاش کرتے ہوئے ہم غیر ارادی طور پر ایک بہت بڑے آئینی، تاریخی اور نظریاتی سوال کو جنم دے بیٹھیں۔
بارہ مہاجر نشستوں کا معاملہ درحقیقت نمائندگی کے چند حلقوں یا اسمبلی کی چند نشستوں کا نہیں بلکہ ریاست جموں و کشمیر کے تاریخی تشخص، آئینی وحدت اور اس نظریاتی بنیاد کا سوال ہے جس پر آزاد حکومت ریاست جموں و کشمیر کا وجود قائم ہے۔ اسی لیے اس کے بارے میں کوئی بھی فیصلہ وقتی سیاسی مصلحتوں، انتظامی سہولتوں یا جذباتی نعروں کی بنیاد پر نہیں بلکہ آئینی حکمت، تاریخی شعور، قومی ذمہ داری، اصلاحِ احوال کے واضح پروگرام اور وسیع تر اتفاق رائے کی بنیاد پر کیا جانا چاہیے۔ آنے والے دنوں میں کل جماعتی کانفرنس کے شرکاء کے سامنے دراصل یہی اصل امتحان ہوگا۔