وادی نیلم(کشمیرڈیجیٹل )آزادکشمیر میں کالعدم عوامی جوائنٹ ایکشن کمیٹی کاانتشاری بیانیہ دم توڑ گیا ۔
عوام سول سوسائٹی نے ہڑتال کی کال مسترد کردی۔ریاست بھر میں کالعدم ایکشن کمیٹی کی لاک ڈاؤن پہیہ جام کی ہڑتال عوام نے مسترد کر دی ہے۔
مزید یہ بھی پڑھیں:بھارتی فنڈنگ،کالعدم ایکشن کمیٹی کے دھرنے میں شرپسندوں کی موجودگی کا انکشاف
وادی نیلم میں مرکزی شاہراہ سمیت رابطہ سڑکوں پرپبلک و پرائیویٹ ٹریفک کی آمدرفت معمول کے مطابق جاری ہے ۔
ضلعی ہیڈکواٹر آٹھمقام سب ڈویژن شاردہ سمیت چھوٹے بڑے تجارتی مقامات بازار مارکیٹیں کھلی کاروباری سرگرمیاں جاری رکھی ہوئی ہیں ۔
سرکاری دفاتر سکولزکالجز کھلے روزمرہ معمولات زندگی رواں دواں رہی سول سوسائٹی سیاسی و سماجی حلقوں کا کالعدم ایکشن کمیٹی سے اظہار لاتعلقی کرتے ہوئے ریاست اور حکومت سے امن عامہ بحال رکھنے کی اپیل کی ہے۔
حکومت کی طرف سے امن عامہ میں خلل ڈالنے والوں کے خلاف بلاتاخیرفوری کارروائی کے احکامات جاری کئے گئے ہیں۔
پولیس سکیورٹی ادارے کسی بھی صورت حال سے نمٹنے کیلئے الرٹ،اقبال حسن ڈپٹی کمشنر نیلم نے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ عوام کاریاست کے بیانیہ کے ساتھ چلنا خوش آئند ہے۔
ذرائع کے مطابق آزادکشمیر کے دیگر اضلاع مظفرآباد،باغ،میرپور،بھمبر میں بھی کالعدم ایکشن کمیٹی کی ہڑتال کی کال کو شہریوں تاجروں طلباء سیاسی سماجی تنظیموں نے مسترد کر دیا ہے۔
ذرائع کے مطابق راولاکوٹ کے گردونواح میں کالعدم ایکشن کمیٹی کے انتشاری جتھوں نے راستوں کو بند کرنے کی کوشش کی لیکن سکیورٹی اہلکاروں کی بروقت کارروائی سے انتشاری بھاگ جاتے ہیں۔
ریاست بھر کے لوگ کالعدم ایکشن کمیٹی کی انتشاری سرگرمیوں سے تنگ آگئی ہے۔اور برملا حکومت اور پولیس سے قانون کی رٹ قائم کرنے کی اپیل کی جارہی ہے۔
ذرائع کے مطابق ایکشن کمیٹی کے دھرنے میں بھی لوگوں کی تعداد کم ہورہی ہے۔ان کے دھرنوں میں کالعدم تنظیموں کے مسلح افراد سکیورٹی دستوں پولیس پر فائرنگ کرتے ہیں۔
قوم پرست عناصر،منشیات فروش یا مذہبی انتہا پسند انتشاری جتھوں کی پشت پناہی کررہے ہیں۔عوام میں کالعدم ایکشن کمیٹی اپنا وجود ختم کرچکی ہے۔
ذرائع کے مطابق ایکشن کمیٹی کی آڑ میں ریاست مخالف سرگرمیوں میں ملوث عناصر اور سوشل میڈیا پر جھوٹے پروپگنڈے کرنے والوں کے خلاف ریاست گیر کریک ڈاؤن کیا جا رہا ہے۔
کالعدم ایکشن کمیٹی کے اراکین نے زیادہ تر اظہار لاتعلقی شروع کرنے کے ساتھ زیادہ تر اب روپوش ہورہے ہیں۔حکومت کی طرف سےقانون کی رٹ کی بحالی کیلئے اقدامات شروع کر دئیے گئے ہیں۔
ذرائع کے مطابق حکومت کی طرف سے صرف ایک ہی آپشن دیا گیا ہے کہ پہلے دھرنا ختم کیا جائے اس کے بعد مذاکرات کا لائحہ عمل دیا جاسکتا ہے۔
کالعدم ایکشن کمیٹی کبھی شرائط تسلیم کرنے کے باوجود کہتی ہے کہ انھیں بیرون ملک سے اورسیز کی مشاورت سے فیصلہ کرتے ہیں جس سے ظاہر ہوتا ہے کہ ریاست کے اندر انتشار پھیلانے کی ڈوریں پاکستان مخالف قوتیں چلا رہی ہیں۔
مزید یہ بھی پڑھیں:کشمیر بھر میں کالعدم ایکشن کمیٹی کی ہڑتال کی کال مسترد، کاروبار اور زندگی معمول کے مطابق جاری
کالعدم ایکشن کمیٹی کی کال پر عوام کی عدم توجہ سے ان کا انتشار اب دم توڑ چکا ہے۔




