مظفرآباد (کشمیر ڈیجیٹل)آزادکشمیر میں عوامی حقوق کے مطالبات کی آڑ میں جاری احتجاجی سرگرمیوں کے دوران صورتحال نے نیا رخ اختیار کرلیا ۔
ذرائع نے دعویٰ کیا ہے کہ ایکشن کمیٹی کے دھرنے میں شرکت کیلئے کالے کپڑوں میں ملبوس اسلحہ بردار شرپسند عناصر کی آمد کا انکشاف ہوا ہے۔
جس کے بعد قانون نافذ کرنیوالے اداروں نے ممکنہ امن و امان کی صورتحال کے حوالے سے نگرانی مزید سخت کردی ۔
معتبر ذرائع کے مطابق دھرنے میں مبینہ طور پر کالے کپڑوں میں ملبوس مسلح عناصر کی موجودگی نے عوامی حلقوں میں تشویش پیدا کردی ہے۔
ذرائع کے مطابق بعض مشتبہ عناصر احتجاجی مقام کی جانب پیش قدمی کر رہے تھے جنہیں سکیورٹی فورسز نے کارروائی کرتے ہوئے حراست میں لے لیا۔
ذرائع کے مطابق زیرحراست افراد کے قبضے سے اسلحہ بھی برآمد ہوا، تاہم اس حوالے سے برآمد ہونے والے اسلحے کی نوعیت، افراد کی تعداد اور ان کے خلاف درج مقدمات کی تفصیلات تاحال سامنے نہیں آسکیں۔
بھارتی را فنڈنگ
دوسری جانب ذرائع نے ایکشن کمیٹی کی بعض سرگرمیوں کے حوالے سے بھارتی را کی جانب سے نئی فنڈنگ کا انکشاف سامنے آگیا۔
ذرائع کے مطابق کمیٹی کے بعض سینئر ارکان کو بھارت کی جانب سے بھاری رقوم موصول ہونے کی اطلاعات کا جائزہ لیا جا رہا ہے
یہ بھی معلوم کرنے کی کوشش کی جا رہی ہے کہ آیا ان رقوم کا احتجاجی سرگرمیوں کے علاوہ کسی دوسرے مقصد، خصوصاً اسلحے یا دیگر وسائل کی خریداری کیلئے استعمال تو نہیں کیا گیا۔
عوامی حقوق کی تحریک اور امن و امان
سیاسی و سماجی حلقوں کا کہنا ہے کہ پرامن احتجاج ہر شہری کا قانونی حق ہے، تاہم احتجاج کے دوران اسلحے کی نمائش، تشدد یا کسی بھی قسم کی تخریبی سرگرمی کی اجازت نہیں دی جانی چاہیے۔
عوامی حلقوں کے مطابق حکومت کو بھی ایسے معاملات میں شفاف تحقیقات کے ذریعے حقائق عوام کے سامنے لانے چاہئیں تاکہ افواہوں اور غیر مصدقہ اطلاعات کا سدباب ہوسکے۔
احتجاجی سرگرمیوں میں مسلح عناصر کی شمولیت
ذرائع کا کہنا ہے کہ قانون نافذ کرنیوالے ادارے اس امر کی تحقیقات کر رہے ہیں کہ آیا گرفتار کئے گئے افراد کا کسی منظم گروہ سے تعلق ہے یا وہ ذاتی حیثیت میں احتجاج میں شرکت کیلئے جا رہے تھے۔
سکیورٹی حکام کی جانب سے مبینہ طور پر اس بات کا بھی جائزہ لیا جا رہا ہے کہ احتجاجی سرگرمیوں کے دوران کسی ممکنہ ناخوشگوار واقعے کی منصوبہ بندی تو نہیں کی جا رہی تھی۔
ذرائع کے مطابق عوامی احتجاج کے دوران مسلح افراد کی موجودگی امن و امان کیلئے سنجیدہ خطرہ بن سکتی ہے، اس لئے حساس مقامات، داخلی و خارجی راستوں اور احتجاجی مقامات پر سکیورٹی اقدامات میں اضافہ کیا گیا ہے۔




