جہلم ویلی کے علاقہ گوہر آباد میں مسلم لیگ (ن) اور پاکستان پیپلز پارٹی کے کارکنوں کے درمیان ہونے والے تصادم کے بعد علاقے میں کشیدگی پھیل گئی ہے اور پولیس نے 20ملزمان کو گرفتار کر کے مقدمہ درج کر لیا گیا ہے۔
واقعے کے دوران سٹی تھانہ ہٹیاں بالا میں بھی دوبارہ جھگڑا ہوا، جس کے نتیجے میں تھانے کے شیشے ٹوٹ گئے،متعدد گاڑیوں کو جزوی نقصان پہنچا جبکہ دو پولیس اہلکار زخمی ہو گئے۔
یہ بھی پڑھیں:آزادکشمیر انتخابات، 19نشستوں کے مکمل نتائج آگئے،ن لیگ14،پی پی 5 پر کامیاب
ہٹیاں بالا سے تعلق رکھنے والے ایک صحافی کے مطابق یہ واقعہ نومنتخب رکنِ قانون ساز اسمبلی دیوان علی خان چغتائی کے آبائی گاؤں گوہر آباد میں دونوں جماعتوں کے کارکنوں کے درمیان تلخ کلامی سے شروع ہوا جو بعد ازاں ہاتھا پائی،تصادم میں تبدیل ہو گیا۔
پولیس کی مداخلت کے باوجود صورتحال کشیدہ رہی،دونوں گروپ سٹی تھانہ ہٹیاں بالا پہنچ گئے،جہاں ایک بار پھر جھڑپ ہوئی۔
پولیس نے صورتحال پر قابو پانے کے لیے لاٹھی چارج کیا اور ضلع بھر سے اضافی نفری طلب کر لی۔جھڑپ کے دوران 2پولیس اہلکار زخمی ہوئے جبکہ سرکاری اور نجی املاک کو بھی نقصان پہنچا۔
پولیس نے کارروائی کرتے ہوئے ممبر ضلع کونسل فیصل مغل، ممبر ضلع کونسل اسد چغتائی، ٹھیکیدار آزاد مغل سمیت 20 افراد کو گرفتار کر لیا، جبکہ 3گاڑیاں بھی ضبط کر لی گئیں۔
پولیس حکام کے مطابق گرفتار افراد کے خلاف سرکار کی مدعیت میں انسدادِ دہشت گردی ایکٹ سمیت دیگر متعلقہ دفعات کے تحت مقدمہ درج کر لیا گیا ہے اور مزید قانونی کارروائی جاری ہے۔
یہ بھی پڑھیں:پونچھ والو! میں آرہا ہوں، کشمیر کے غیور ، بہادر عوام کو سلام ، بلاول کا ویڈیو پیغام
واقعہ کی اطلاع ملنے پر ڈپٹی کمشنر جہلم ویلی اور ایس پی جہلم ویلی موقع پر پہنچ گئے، جہاں انہوں نے صورتحال کا جائزہ لیا اور پولیس کو امن و امان برقرار رکھنے، واقعے میں ملوث تمام افراد کے خلاف بلاامتیاز قانونی کارروائی مکمل کرنے کی ہدایت کی ہے۔
پولیس کی جانب سے علاقے میں سکیورٹی مزید سخت کر دی گئی ہے جبکہ حکام نے شہریوں سے اپیل کی ہے کہ وہ امن و امان برقرار رکھنے میں انتظامیہ سے تعاون کریں اور کسی بھی قسم کی افواہوں پر کان نہ دھریں۔




