پاکستان اور کشمیر کا تعلق انمٹ ،ہم پہلے پاکستانی ہیں پھر کشمیری ہیں، چیف جسٹس آزاد کشمیر راجہ سعید اکرم

اسلام آباد :چیف جسٹس آزاد جموں و کشمیر جسٹس راجہ سعید اکرم خان نے کہا ہے کہ آزاد جموں و کشمیر کی جوڈیشری اور عوام کو پاکستان بھر کی بارز اور وکلاء کی جانب سے ہمیشہ بے پناہ محبت اور عزت ملی ہے، پاکستان اور کشمیر کا تعلق انمٹ ہے۔

ہم پہلے پاکستانی ہیں اور پھر کشمیری ہیں، پاکستان کی محبت اور حمایت ہمیشہ ہمارے ساتھ رہی ہے۔حریت رہنماء سید علی گیلانی کا نعرہ ہم پاکستانی ہیں پاکستان ہمارا ہے ہر کشمیری کے دل کی آواز ہے ۔

سپریم کورٹ بار ایسوسی ایشن پاکستان کی جانب سے اپنے اعزاز میں منعقدہ تقریب سے خطاب کرتے ہوئےچیف جسٹس آزاد جموں و کشمیر نے کہا کہ میرے لیے یہ اعزاز کی بات ہے کہ میں اس بار کا لائف ممبر ہوں۔

یہ بھی پڑھیں:چیف جسٹس یحییٰ آفریدی سے سپریم کورٹ آزادکشمیر کے وفد کی اہم ملاقات

انہوں نے صدر سپریم کورٹ بار ہارون الرشید ،احسن بھون ،سید قلب حسن ، حسن رضا پاشا، جسٹس رانا شمیم، سمیت دیگر سینئر وکلاء کا شکریہ ادا کرتے ہوئے کہا کہ بار نے ہمیشہ انہیں عزت اور محبت دی ہے۔

انہوں نے کہا کہ احسن بھون کے ساتھ میرا تعلق لاہور کے شروع کے دنوں سے ہے ،ہم نے وکالت اکٹھے شروع کی،میری زندگی کا ایک بڑا حصہ پاکستان میں گزرا ہے اور میں بار کا فنانس سیکرٹری بھی منتخب ہوا۔ اس دوران بار نے مجھے بے پناہ عزت دی سابق چیف جسٹس،میرے محسن سردار اسلم کی محبت اور شفقت ہمیشہ میرے ساتھ رہی،چیف جسٹس آزاد جموں و کشمیر نے کہا کہ ہماری زندگی کا بیشتر وقت بار میں گزرتا ہے۔

آزاد جموں و کشمیر میں جوڈیشل سسٹم کے قیام اور استحکام میں پاکستان کی عدلیہ اور وکلاء کا بنیادی کردار ہے۔ صدر مملکت، پارلیمنٹ، سپریم کورٹ اور ہائی کورٹ سمیت ریاستی اداروں کے نظام میں بار اور عدلیہ کا کردار انتہائی اہم ہے۔

انہوں نے کہا کہ چیف جسٹس کا منصب سنبھالنے کے بعد میری توجہ عدالتی نظام کی بہتری اور ادارہ جاتی اصلاحات پر مرکوز رہی۔ میرے ساتھی جج صاحبان انتہائی قابل اور باصلاحیت ہیں۔

سینئر جج سپریم کورٹ جسٹس رضا علی خان ایڈووکیٹ جنرل رہ چکے ہیں، سپریم کورٹ اور ہائی کورٹ بار کے صدر رہے ہیں اور بار کونسل میں بھی خدمات انجام دے چکے ہیں۔ آج ہم آزاد جموں و کشمیر سپریم کورٹ میں 2025-26 کے مقدمات کے فیصلے ہوتے دیکھ رہے ہیں، جو پوری ٹیم کی مشترکہ محنت کا نتیجہ ہے۔

انہوں نے کہا کہ آزاد جموں و کشمیر کی تاریخ ہزاروں سال پرانی ہے۔ پاکستان 14 اگست 1947 کو معرضِ وجود میں آیا جبکہ قراردادِ الحاق پاکستان 19 جولائی 1947 کو منظور ہوئی تھی۔ کشمیری عوام اپنے حقِ خودارادیت کے حصول کے لیے جدوجہد کر رہے ہیں۔

آزاد کشمیر میں لوگ سفید کفن میں دفن ہوتے ہیں جبکہ مقبوضہ جموں و کشمیر میں شہداء کو سبز ہلالی پرچم میں دفن کیا جاتا ہے، جو کشمیریوں کی پاکستان سے وابستگی کی واضح علامت ہے۔

چیف جسٹس نے کہا کہ پاکستان میں سپاہی سے لے کر جنرل، بیوروکریسی، عدلیہ اور وکلاء سمیت مختلف شعبہ ہائے زندگی میں آزاد کشمیر سے تعلق رکھنے والے افراد خدمات انجام دے رہے ہیں۔ پاکستان ہمارا ہے اور ہم پاکستانی ہیں۔ پاکستان کی محبتیں اور حمایت ہمیشہ ہمارے ساتھ رہی ہیں۔

انہوں نے کہا کہ قرآن مجید میں ارشاد ہے کہ بعض فیصلے انسانوں کو گراں گزرتے ہیں، حالانکہ ان میں اللہ تعالیٰ کی مصلحت پوشیدہ ہوتی ہے۔ ہمیں اللہ تعالیٰ کے فیصلوں پر بھروسہ رکھنا چاہیے۔

چیف جسٹس آزاد جموں و کشمیر نے کہا کہ میں اس دن کا منتظر ہوں جب دوبارہ سپریم کورٹ بار پاکستان میں آ کر اپنے ساتھی وکلاء سے دل کی باتیں کر سکوں۔ ہم نے حال ہی میں جوڈیشل کانفرنس کا انعقاد کیا جس میں بار کی بھرپور نمائندگی ہوئی۔ چیف جسٹس پاکستان سمیت معزز جج صاحبان اور وکلاء نے ہمیں عزت بخشی، جس سے بھارت کو یہ واضح پیغام گیا کہ پاکستان اور کشمیر کا تعلق ناقابلِ تنسیخ اور انمٹ ہے۔

یہ بھی پڑھیں:مظفرآباد: سپریم کورٹ بار ایسوسی ایشن آزاد جموں و کشمیر کے انتخابات کا شیڈول، اہم نشستوں پر کانٹے کا مقابلہ متوقع

انہوں نے کہا کہ میرے پاس ایسے الفاظ نہیں جن سے میں سپریم کورٹ بار کے صدر ہارون الرشید اور دیگر عہدیداران کا شکریہ ادا کر سکوں۔ 18 سال بعد اپنی بار میں بطور چیف جسٹس آزاد جموں و کشمیر کھڑا ہونا میرے لیے انتہائی جذباتی اور اعزاز کا لمحہ ہے۔

انہوں نے کہا کہ گجرات بار، سیالکوٹ بار، نارووال بار، کراچی بار اور ہائی کورٹ بار سمیت پاکستان بھر کی مختلف بارز نے ہمیشہ مجھے بے پناہ عزت اور محبت دی ہے۔ میری خواہش ہے کہ بار کونسل ایک ترمیم کرے تاکہ پاکستان سپریم کورٹ و ہائی کورٹ کے وکلاء کو آزاد جموں و کشمیر سپریم کورٹ و ہائی کورٹ میں بھی پیش ہونے کا موقع مل سکے۔

انہوں نے کہا کہ آزادجموں و کشمیر میں جسٹس یوسف صراف مرحوم ،جسٹس سردار سید محمد خان مرحوم ،جسٹس محمد شریف بخآری ،جسٹس راجہ افراسیاب خان ،چیف جسٹس خواجہ سعید احمد ،چیف جسٹس خواجہ شاد ،جسٹس مجید ملک مرحوم و دیگر ہماری جوڈیشری کے درخشندہ ستارے تھے ۔

چیف جسٹس نے کہا کہ ہماری کوشش ہے کہ میرپور میں بھی ایسی ہی ایک تقریب کا اہتمام کیا جائے تاکہ پاکستان اور آزاد کشمیر کی وکلاء برادری کے درمیان روابط مزید مضبوط ہوں۔

انہوں نے سپریم کورٹ بار کے صدر ہارون الرشید ، اور دیگر عہدیداران کا خصوصی شکریہ ادا کرتے ہوئے کہا کہ جج صاحبان کو وکلاء ہی قانون کی روشنی میں رہنمائی فراہم کرتے ہیں۔ عدلیہ اور وکلاء کا باہمی تعاون انصاف کی فراہمی اور قانون کی بالادستی کے لیے ناگزیر ہے۔

پاکستان بار کونسل کے ممبر اور جوڈیشل کمیشن پاکستان کے ممبر احسن بھون نے چیف جسٹس آزاد جموں و کشمیر جسٹس راجہ سعید اکرم خان اور جج صاحبان کو سپریم کورٹ بار ایسوسی ایشن پاکستان آمد پر خوش آمدید کہا۔ انہوں نے کہا کہ چیف جسٹس آزاد جموں و کشمیر کی بار آمد ہمارے لیے باعثِ اعزاز ہے۔

صدر سپریم کورٹ بار ایسوسی ایشن پاکستان ہارون الرشید نے چیف جسٹس آزاد جموں و کشمیر جسٹس راجہ سعید اکرم خان کو سپریم کورٹ بار آمد پر دلی مبارکباد اور خوش آمدید کہا۔ انہوں نے کہا کہ چیف جسٹس آزاد کشمیر اور معزز جج صاحبان کی سپریم کورٹ بار آمد ہمارے لیے باعثِ مسرت اور اعزاز ہے۔ انہوں نے چیف جسٹس آزاد کشمیر کی عدالتی خدمات اور بار کے ساتھ ان کی دیرینہ وابستگی کو خراجِ تحسین پیش کیا۔

تقریب کے اختتام پر سپریم کورٹ بار ایسوسی ایشن کے صدر ہارون الرشید نے احسن بھون اور سید قلب حسن کے ہمراہ چیف جسٹس آزادجموں و کشمیر ،سینئرجج سپریم کورٹ آزادجموں و کشمیر اور جج سپریم کورٹ کو شیلڈ ز پیش کیں ۔پالستان بار کونسل کی جانب سے بھی چیف جسٹس آزادجموں و کشمیر کو شیلڈ پیش کی گئی ۔

چیف جسٹس سپریم کورٹ آزادجموں و کشمیر نے سپریم کورٹ بار ایسوسی ایشن کے صدر ہارون الرشید کو بھی شیلڈ دی ۔چیف جسٹس آزادجموں و کشمیر سپریم کورٹ ،سینئر جج سپریم کورٹ آزادجموں و کشمیر اور جج سپریم کورٹ آزادجموں و کشمیر نے معزز ممبران سپریم کورٹ بار ایسوسی ایشن کے ساتھ سپریم کورٹ پاکستان میں نئے انرول منٹ ہونے والے وکلاء کو سرٹیفکیٹ بھی دییے ۔چیف جسٹس سپریم کورٹ آزادجموں و کشمیر ،سینئر جج سپریم کورٹ کورٹ آزادجموں و کشمیر اور جج سپریم کورٹ آزادجموں وکشمیر کو سندھی اجرک اور ٹوپی کا روائتی تحفہ پیش کیا گیا۔

یہ بھی پڑھیں:سپریم کورٹ:6 انتخابی حلقوں کے نتائج کے خلاف دائر درخواستوں پر سماعت 15 اکتوبر کو ہوگی

اس موقع پر ان کے ہمراہ آزادجموں و کشمیر سپریم کورٹ کے سینئر جج جسٹس رضا علی خان ،جج سپریم کورٹ جسٹس خالد یوسف چوہدری بھی تھے ۔اس موقع پر سپریم کورٹ بار ایسوسی ایشن پاکستان کے صدر ہارون الرشید ایڈووکیٹ ، پاکستان بار کونسل اور ممبر جوڈیشل کمیشن احسن بھون ایڈووکیٹ ،ممبر جوڈیشل کونسل سید قلب حسن ،وائس چیئرمین پاکستان بار کونسل ،ایڈیشنل ایڈوکیٹ جنرل پاکستان نسیم ممتاز ایڈووکیٹ ،ایڈووکیٹ جنرل آزادکشمیر راجہ ندیم خان ایڈووکیٹ ،سیکرٹری سپریم کورٹ بار ایسوسی ایشن ، ملک زاہد اسلم اعوان ایڈووکیٹ ،راجہ محمد اشتیاق وائس چیئرمین، آزاد جموں و کشمیر بار کونسل،بلا مقابلہ نومنتخب صدر سپریم کورٹ بار آزادجموں و کشمیر فیاض حیدر نوابی ایڈووکیٹ ،صدر ڈسٹرکٹ بار میرپور بابر اعظم ایڈووکیٹ ،نائب صدور،خوشحال خان اعوان ایڈووکیٹ، لیاقت علی ترین ایڈووکیٹ، خالد مسعود سندھو ایڈووکیٹ، فضل شاہ محمود ایڈووکیٹ، ایڈیشنل سیکرٹری سردار طارق حسین ایڈووکیٹ، سیکرٹری فنانس محترمہ سائرہ خالد راجپوت ایڈووکیٹ، ایگزیکٹو ممبران الہی بخش مینگل ایڈووکیٹ، شاہ رسول کاکڑ ایڈووکیٹ محترمہ راحیلہ بی بی ایڈووکیٹ، محترمہ ضیاء اللہ درانی ایڈووکیٹ، حافظہ مہناز ندیم عباسی ایڈووکیٹ ،جاوید عمران رانجھا ایڈووکیٹ، امجد علی شیرازی ایڈووکیٹ ،ڈاکٹر شاہنواز میمن ایڈووکیٹ اور سید ذوالفقار حیدر شاہ ،راجہ محمد اشفاق کے علاؤہ سینئر وکلاء کی بڑی تعداد موجود تھی ۔