اسلام آباد:وزیراعظم پاکستان شہباز شریف کے مشیر برائے سیاسی امور رانا ثنااللہ نے خبردار کیا ہے کہ بلاول بھٹو زرداری کی حالیہ تقاریر سیاسی ماحول کو مزید کشیدہ کر سکتی ہیں۔
نجی ٹی وی کے پروگرام میں گفتگو کرتے ہوئے رانا ثنااللہ نے بلاول بھٹو زرداری کے بیان کو نامناسب قرار دیا۔
یہ بھی پڑھیں: آزاد کشمیر الیکشن کیلئے پیپلز پارٹی سب سے مضبوط جماعت ہے ، بلاول بھٹو
انہوں نے کہاکہ خواجہ آصف کے حوالے سے بلاول بھٹو کا طرزِ گفتگو درست نہیں تھا۔ ان کے مطابق ووٹ حاصل کرنے کے لیے نفرت پر مبنی سیاست کے بجائے بلاول بھٹو کو ایک قومی رہنما کے طور پر بات کرنی چاہیے۔
رانا ثنااللہ کا کہنا تھا کہ مسلم لیگ (ن) میں کسی کو توہین آمیز انداز میں پارٹی سے نکالنے کی نہ ماضی میں کوئی روایت رہی ہے اور نہ اب ہے۔
انہوں نے مزید کہاکہ آزاد کشمیر کے وزیراعظم فیصل راٹھور نے جوائنٹ ایکشن کمیٹی کو کالعدم قرار دیا جس کی وفاقی حکومت نے مکمل حمایت کی اور وہ اس فیصلے کے ساتھ کھڑی ہے۔
مشیر وزیراعظم کا کہنا تھا کہ وفاقی اور کشمیرحکومت کی پالیسی ہے کہ دھرنے والوں کو انگیج کیاجائے، ایکشن نہ لیا جائے، حکومت کی واضح لائن ہے پہلے دھرنا ختم کریں، اس کے بعد مطالبات پر غور ہوسکتا ہے۔
دھرنا اور احتجاج راولاکوٹ تک محدود ہے،باقی کشمیر میں الیکشن مہم جاری ہے، ہم نے دھرنے والوں سےکہا کہ لانگ مارچ موخر کرلیں، الیکشن ہونے دیں۔
یہ بھی پڑھیں:پاکستان اور آزادکشمیر کے لازوال رشتے کو چیلنج کیا جا رہا : خواجہ آصف
رانا ثنا اللہ کا کہنا تھا کہ ان کے تمام مطالبات پورے ہوگئے، صرف سیٹوں کے اور ایک دو اور مطالبات ہیں، دھرنے والوں سےکہا کہ وہ کشمیر کی آل پارٹیزکانفرنس میں ایجنڈا رکھیں۔
کالعدم ایکشن کمیٹی 9 جون کو دھرنے پر بضد تھی، ایکشن کمیٹی کے پیچھے ایسی قوتیں تھیں جو چاہتی تھیں کہ مظفرآبادکا گھیراؤ کرلیں۔
ان کا کہنا تھا کہ جی بی کو عبوری صوبہ بنانے پر پارلیمان میں بحث ہونی چاہیے، سینیٹ میں گلگت بلتستان کی نمائندگی ہوسکتی ہے، جی بی اسمبلی نمائندے بھیج سکتی ہے، جموں کشمیرکی تحریک آزادی کو آئینی نقصان نہ ہو تو عبوری اسٹیٹس دینے میں حرج نہیں۔
رانا ثنا اللہ کا کہنا تھا کہ انوارالحق کی حکومت کے بعد ہم نےکہا کہ نئے انتخابات کرائے جائیں لیکن پیپلزپارٹی نے کہا کہ ہمیں چار پانچ ماہ حکومت کرنا ہے، کشمیر میں پیپلزپارٹی نے حکومت بنالی، ہم اپوزیشن میں بیٹھے، اگر اس وقت الیکشن ہوجاتے تو آج دھرنے اور احتجاج کی نوبت نہ آتی۔
واضح رہے کہ 2 روز قبل بلاول بھٹو زرداری نے وزیر دفاع خواجہ آصف کو وفاقی کابینہ سے ہٹانے کا مطالبہ کیا تھا۔
یہ بھی پڑھیں:چند افراد کی غلطی کی سزا پوری کشمیری عوام کو نہیں دی جا سکتی، بلاول بھٹو
انہوں نے سوال اٹھایا تھا کہ کشمیر سے متعلق وزیر دفاع کا بیان وفاقی حکومت کی پالیسی ہے یا نہیں، جس پر وزیراعظم شہباز شریف کو وضاحت دینی چاہیے۔
بلاول بھٹو نے اتوار کوآزاد کشمیر کے شہر کوٹلی میں جلسہ عام سے خطاب کرتے ہوئے ایک بار پھر وزیر دفاع خواجہ آصف پر تنقید کی ہے۔




