ایران کے وزیر خارجہ عباس عراقچی نے انکشاف کیا ہے کہ سابق رہبرِ اعلیٰ آیت اللہ علی خامنہ ای کی رہائش گاہ پر ہونے والے حملے کی وجہ سکیورٹی خلا تھا۔
امریکا اور اسرائیل کو ایرانی قیادت کے اہم اجلاسوں کی معلومات حاصل تھیں۔ انہوں نے خدشہ ظاہر کیا کہ ممکنہ طور پر یہ خطرہ اب بھی موجود ہے۔
یہ بھی پڑھیں:ٹرمپ دو اہم سفارتی کامیابیوں کا بیڑہ غرق کر کے امن کی باتیں کرتے ہیں ، ایرانی سفیر
ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی نے معروف مقامی فلم ساز اور میڈیا ایکٹیوسٹ جواد مغوئی کو ماجرائے جنگ (جنگ کی کہانی) کے عنوان سے ایک تفصیلی انٹرویو دیا ہے۔
اس خصوصی انٹرویو میں عباس عراقچی نے جنگ کے آغاز سے لے کر اب تک سفارت کاری سمیت دیگر اہم پہلوؤں پر کھل کر گفتگو کی ہے۔
عباس عراقچی نے بتایا کہ 28 فروری کی صبح انہوں نے سابق سپریم لیڈر کو امریکا کے ساتھ جاری مذاکرات کی صورت حال سے آگاہ کرنے کے لیے ان کے چیف آف اسٹاف علی اصغر حجازی سے ملاقات کی تھی۔
انہوں نے واقعے کی تفصیل بیان کرتے ہوئے کہا کہ حملے کے روز جب وہ رہائش گاہ سے باہر نکل رہے تھے تو انہوں نے علی اصغر حجازی سے پوچھا کہ آیا رہبرِ اعلیٰ بھی موجود ہیں تو حجازی نے جواب دیا کہ انہیں اس بارے میں علم نہیں ہے۔
ایرانی وزیر خارجہ نے بتایا کہ حملے کے وقت خامنہ ای اپنے دفتر میں ہی موجود تھے، اس وقت خارجہ تعلقات سے متعلق مشاورتی اسٹریٹجک کونسل کا ہفتہ وار اجلاس جاری تھا جب کہ دفاعی کونسل کا اجلاس بھی ہو رہا تھا۔
عباس عراقچی نے دعویٰ کیا کہ امریکا اور اسرائیل کو ایرانی اعلیٰ قیادت کی میٹنگز کے بارے میں معلومات حاصل تھیں۔ دشمن کو سابق رہبرِ اعلیٰ کی روزمرہ سرگرمیوں کا علم تھا اور اسی بنیاد پر حملے کیلئے درست وقت اور مقام کا انتخاب کیا گیا۔
انہوں نے کہا کہ اس وقت ایک ساتھ مختلف اجلاسوں کا ہونا غیر معمولی بات نہیں تھی بلکہ دشمن کو ان تمام میٹنگز کی معلومات مل جانا ایک بڑے سکیورٹی خلا کا نتیجہ تھا جو ممکنہ طور پر اب بھی موجود ہے۔
ایرانی وزیر خارجہ نے کہا کہ یہ مسئلہ صرف اندرونی معلومات تک رسائی یا جاسوسی تک محدود نہیں بلکہ بعض اوقات یہ فیصلہ سازی کے عمل کی سمت پر بھی اثر انداز ہو سکتا ہے۔
یہی وجہ ہے کہ وہ اس معاملے پر مزید تفصیلات فراہم نہیں کرنا چاہتے، سیکیورٹی ادارے بھی اس کی تحقیقات کر رہے ہیں۔
انہوں نے انکشاف کیا کہ ایران کے نئے سپریم لیڈر سے ان کی اب تک کوئی ملاقات نہیں ہوئی ہے۔ انہوں نے بتایا کہ سپریم لیڈر تک رسائی انتہائی محدود ہے اور چند مخصوص افراد ہی ان سے ملاقات کرسکتے ہیں۔
یہ بھی پڑھیں:امریکی صدر کے حکم پر ایران کیخلاف فضائی حملے شروع کر دئیے :سینٹ کام کا اعلان
انہوں نے کہا کہ مجتبیٰ خامنہ ای کا سپریم لیڈر کے طور پر سامنے آنا امریکا کے لیے ایک پیغام تھا کہ جنگ ہو یا امن، حالات جیسے بھی ہوں، ایران اپنی پالیسی، اصولوں اور نظریات سے پیچھے نہیں ہٹے گا۔
انہوں نے بتایا کہ 26 فروری کو جنیوا میں ہونے والے مذاکرات بغیر کسی معاہدے کے ختم ہوئے کیوں کہ ایران افزودگی معطل کرنے پر آمادہ نہیں تھا تاہم تکنیکی سطح کے مذاکرات جاری رہنے کی توقع تھی جو بعد میں صورتحال خراب ہونے کے باعث متاثر ہوگئے۔
عباس عراقچی نے یہ بھی کہا کہ ان کے خیال میں جوہری معاملہ محض ایک بہانہ تھا، امریکا اور اسرائیل کا اصل مقصد ایران میں سیاسی تبدیلی لانا تھا۔
امریکی نمائندوں کے ساتھ ایک ملاقات کا احوال بتاتے ہوئے انہوں نے کہا کہ میں اسٹیو وٹکوف سے سوال کیا کہ ’کبھی ایسا ہوا ہے کہ آپ کسی اہم میٹنگ میں بیٹھے ہوں اور خطرہ ہو کہ آپ کسی بھی لمحے بمباری کا نشانہ بننے والے ہیں جس پر اسٹیو وٹکوف چونک گئے۔
میں نے پھر سوال کیا کہ ’آپ فون پر بات کر رہے ہوں اور خطرہ ہو وہ کسی بھی لمحے آپ کے ہاتھ میں ہی پھٹ سکتا ہے یا کبھی ایسا ہوا ہو کہ ’اہلِ خانہ سے گفتگو کرتے ہوئے آپ کو اندیشہ ہو کہ یہ ان کے ساتھ آخری ملاقات ہوسکتی ہے؟۔
عباس عراقچی کے مطابق اسٹیو وٹکوف کی جانب سے کوئی جواب نہ ملا تو میں نے انہیں کہا کہ ’ہم روزانہ اسی صورت حال سے گزرتے ہیں مگر دیکھ لیں کہ ہم ڈٹ کر کھڑے ہیں۔
ایران کو بمباری کی دھمکیوں سے نہیں ڈرایا جا سکتا کیوں ایران وینزویلا نہیں ہے کہ ایک لیڈر کے نشانہ بننے پر گھٹنے ٹیک دے، بلکہ یہ ادارہ جاتی مزاحمت پر مبنی نظام ہے۔
ایرانی وزیرِ خارجہ کے مطابق امریکا اور اس کے اتحادیوں نے ابتدا ہی سے ایران سے یورینیم افزودگی صفر تک لانے کا مطالبہ کیا لیکن ایران نے اس مؤقف کو قبول نہیں کیا۔
ان کا کہنا تھا کہ جب مخالف فریق مذاکرات کے ذریعے اپنے مقاصد حاصل نہ کر سکا تو اس نے فوجی کارروائی کا راستہ اختیار کیا تاہم اسکی یہ کوشش بھی مقاصد حاصل کرنے میں ناکام رہی۔
یہ بھی پڑھیں:امریکا نے مزید حملے کئے جنگ کا رخ بدل دینگے، ایرانی کمانڈر کی دھمکی
انہوں نے کہا کہ یہ مذاکرات اس بات کا ثبوت دینے کے لیے بھی ضروری تھا کہ امریکا اور اسرائیل سے مذاکرات نہیں کیے جاسکتے۔
جنگ بندی سے متعلق سوال پر ان کا کہنا تھا کہ یہ فیصلہ ایرانی اعلیٰ قیادت نے اجتماعی طور پر کیا تھا۔ ان کے مطابق سپریم نیشنل سکیورٹی کونسل نے اس بارے میں فیصلہ کیا اور کونسل کی منظوریوں کے تحت ہی ان کے نفاذ کا وقت بھی طے کیا جاتا ہے۔
عباس عراقچی نے بتایا کہ ایران پر حملوں سے قبل ہی ایک علاقائی ملک کے اہم رہنما نے انہیں خبردار کیا تھا کہ ایران کی قیادت کو نشانہ بنایا جا سکتا ہے۔
عباس عراقچی کا کہنا تھا کہ انہوں نے جواب دیا کہ ایران پر کے کسی بھی حملے کا بھرپور جواب دیا جائے گا۔
عباس عراقچی نے اس دوران جنگ سے متعلق احوال بتاتے ہوئے کہا کہ اس پورے تنازع کے دوران وہ اور ان کے ساتھی وزارتِ خارجہ کی عمارت میں ہی موجود رہے اور تمام تر خطرات کے باوجود دیگر ممالک کے وزرائے خارجہ، ایرانی سفارت خانوں اور حکام سے رابطے جاری رکھے۔
انہوں نے کہا کہ دشمن نے یہ غلط اندازہ لگایا کہ ایران کمزور ہو چکا ہے، اس کی دفاعی صلاحیت ختم ہوچکی ہے اور ان کا خیال تھا کہ ایران کی قیادت کو ختم کرنے سے نظام کمزور ہو جائے گا۔
ان کے مطابق 40 روزہ جنگ کے دوران ایران نے عسکری محاذ پر کسی پہلو کو نظر انداز نہیں کیا تاہم اسے سیاسی شخصیات کے تحفظ کے معاملے میں مزید اقدامات کی ضرورت محسوس ہوئی۔
یہ بھی پڑھیں:امریکا ایران مفاہمتی یادداشت کو ناکام بنانے کی کوشش کس نے کی؟جے ڈی وینس کا بڑا انکشاف
انہوں نے کہا کہ ’ہم جنگ اس وقت نہیں لڑتے جب یہ بہت مہنگی اور خطرناک ہو بلکہ صرف اس وقت لڑتے ہیں جب نہ لڑنا زیادہ نقصان دہ ہوسکتا ہے۔
ایرانی وزیرِ خارجہ نے واضح کیا کہ مذاکرات کی میز پر بیٹھنے کا مطلب اصولی مؤقف سے دست بردار ہونا نہیں، بلکہ یہ ایک حکمتِ عملی ہے جس کا مقصد مزید نقصانات سے بچنا اور اس بڑھتی ہوئی کشیدگی کو کم کرنا ہے۔




