چیئرمین پیپلز پارٹی بلاول بھٹو کا کہنا ہے کہ کہ ہر مسئلے کا حل مذاکرات اور سیاسی عمل میں موجود ہے، اگر ایران اور امریکا جیسے ممالک کے درمیان بات چیت اور مفاہمت ممکن ہو سکتی ہے
اگر آبنائے ہرمز کھل سکتی ہے تو کشمیر کے مسائل بھی سیاسی بصیرت اور مذاکرات کے ذریعے حل کیے جا سکتے ہیں۔
وہ آزاد کشمیر کے ضلع میرپور کی تحصیل ڈڈیال میں انتخابی جلسے سے خطاب کر رہے تھے۔ ریاست میں جاری کشیدگی پر بات کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ موجودہ حالات میں ہر کشمیری اور ہر پاکستانی پریشان ہے اور آزاد کشمیر میں جو صورتحال اس وقت پیدا ہوچکی ہے، ماضی میں اس کی مثال نہیں ملتی۔
بلاول بھٹو نے کہا کہ یہ آزاد کشمیر کی تاریخ کے اہم ترین انتخابات ہیں اور ان کا اثر صرف آزاد کشمیر تک محدود نہیں رہے گا بلکہ پاکستان کی سیاست پر بھی مرتب ہوگا۔
انہوں نے کہا کہ اگر سیاسی بحران پیدا ہوتا ہے تو غیرجمہوری قوتیں اس سے فائدہ اٹھاتی ہیں، اس لیے تمام سیاسی قوتوں کی ذمہ داری ہے کہ وہ عوام کی نمائندگی کریں اور جمہوری عمل کو مضبوط بنائیں۔
مزید یہ بھی پڑھیں:مودی چاہتا تو پاکستان کو دو منٹ میں فکس کر دیتا‘‘معرکہ حق میں کامیابی پر نورین خان کا متنازعہ بیان
سیاست صرف اقتدار حاصل کرنے کا نام نہیں بلکہ عوام کی خدمت اور ان کی آواز بننے کا نام ہے۔ قائد عوام شہید ذوالفقار علی بھٹو اور محترمہ بینظیر بھٹو شہید نے ہمیشہ عوام کی خدمت کا درس دیا، اور وہ بھی انہی کے نقش قدم پر چلتے ہوئے کشمیری عوام کی آواز بنیں گے۔
چیئرمین پیپلزپارٹی بلاول بھٹو نے کہا کہ اگر عوام نے انہیں موقعملا تو وہ مظفرآباد، اسلام آباد، پارلیمنٹ، اقوام متحدہ اور ہر عالمی فورم پر کشمیریوں کا مقدمہ لڑیں گے۔
چیئرمین پیپلز پارٹی نے آزاد کشمیر میں جاری احتجاجی صورتحال پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے حکومت اور مظاہرین دونوں سے اپیل کی کہ عام کشمیری عوام کو مشکلات سے بچایا جائے۔
انہوں نے کہا کہ احتجاج ہر شہری کا آئینی اور جمہوری حق ہے، لیکن قانون کو ہاتھ میں لینا درست نہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ جدید دور میں موبائل فون اور انٹرنیٹ کی بندش، سڑکوں کی بندش اور خوراک و ادویات کی ترسیل میں رکاوٹوں سے عام شہری شدید متاثر ہو رہے ہیں۔
بلاول بھٹو نے کشمیر کے موجودہ تنازع اور احتجاجی صورتحال کے حل کے لیے “ٹرتھ اینڈ ری کنسیلی ایشن کمیشن” (Truth and Reconciliation Commission) قائم کرنے کی تجویز دیتے ہوئے کہا کہ اس کمیشن میں تمام فریقین کو سنا جائے، حقائق سامنے لائے جائیں اور انصاف پر مبنی حل نکالا جائے۔
انہوں نے کہا کہ انہوں نے یہ تجویز حکومت اور احتجاج کرنے والوں دونوں کے سامنے رکھی، لیکن اب تک کسی جانب سے مثبت جواب نہیں ملا۔ ان کا کہنا تھا کہ اگر ان کی تجویز قبول نہیں تو پھر فریقین اپنا قابل عمل متبادل حل پیش کریں۔
انہوں نے کہا کہ کمیشن کے کام مکمل ہونے تک احتجاج مؤخر کیا جانا چاہیے تاکہ عام عوام کو مزید مشکلات کا سامنا نہ کرنا پڑے۔ بلاول بھٹو نے کہا کہ جن لوگوں نے دہشت گردی، چوری یا دیگر جرائم کیے ہیں، انہیں قانون کے مطابق سزا دی جائے، لیکن ایک یا چند افراد کی غلطی کی سزا پورے کشمیر کے عوام کو نہیں دی جا سکتی۔
مزید یہ بھی پڑھیں:آزاد کشمیر انتخابات؛ پاکستان پیپلز پارٹی کی انتخابی مہم تیز ، بلاول بھٹو کے جلسوں کا شیڈول جاری
بلاول بھٹو نے کہا کہ ہر مسئلے کا حل مذاکرات اور سیاسی عمل میں موجود ہے۔ انہوں نے مثال دیتے ہوئے کہا کہ اگر ایران اور امریکا جیسے ممالک کے درمیان بات چیت اور مفاہمت ممکن ہو سکتی ہے ۔
اگر آبنائے ہرمز کھل سکتی ہے تو کشمیر کے مسائل بھی سیاسی بصیرت اور مذاکرات کے ذریعے حل کیے جا سکتے ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ کشمیر کا فیصلہ کوئی اور ملک نہیں بلکہ کشمیری عوام خود کریں گے۔
انہوں نے کہا کہ پیپلز پارٹی ہمیشہ غریب، متوسط طبقے اور محروم عوام کی نمائندہ جماعت رہی ہے۔ پارٹی کا کشمیری عوام سے تین نسلوں پر محیط رشتہ ہے اور پیپلز پارٹی ہی آزاد کشمیر کے عوام کو حقِ حاکمیت، حقِ ملکیت اور حقِ روزگار دلا سکتی ہے۔
انہوں نے کہا کہ پیپلز پارٹی سمجھتی ہے کہ کشمیر کے دریا، پہاڑ اور وسائل کشمیری عوام کی ملکیت ہیں اور ان پر سب سے پہلا حق کشمیریوں کا ہے۔
اپنے خطاب میں بلاول بھٹو نے مسلم لیگ (ن) اور وفاقی حکومت کو بھی تنقید کا نشانہ بنایا۔ انہوں نے کہا کہ بعض وفاقی وزراء کے بیانات سے ایسا تاثر ملا کہ وہ میرپور، راولاکوٹ اور کوٹلی جیسے علاقوں کو کشمیر کا حصہ ہی نہیں سمجھتے۔
انہوں نے وزیراعظم شہباز شریف سے مطالبہ کیا کہ وہ اس معاملے پر قوم کو وضاحت دیں، اور اگر یہ حکومتی پالیسی نہیں تو ایسے وزراء کے خلاف کارروائی کی جائے۔
انہوں نے یہ بھی کہا کہ بعض وفاقی وزراء پہلے ہی انتخابات کے نتائج اپنے حق میں آنے کے دعوے کر رہے ہیں، لیکن فیصلہ صرف عوام نے کرنا ہے۔
چیئرمین پیپلز پارٹی نے دعویٰ کیا کہ جس طرح پیپلز پارٹی نے کراچی، خیبرپختونخوا اور بلوچستان میں نفرت کی سیاست کو شکست دی اسی طرح آزاد کشمیر میں بھی عوام نفرت اور تقسیم کی سیاست کو مسترد کریں گے۔
انہوں نے کہا کہ گلگت بلتستان میں بھی پیپلز پارٹی نے یہ روایت توڑی کہ وفاق میں جس جماعت کی حکومت ہو، وہاں بھی اسی جماعت کی حکومت بنے۔




