ایران اور روس کا جوہری شعبے میں تعاون کیلئے اربوں ڈالر کا معاہدہ

‏ایران اور روس کے درمیان جوہری شعبے میں تعاون کیلئے 25 ارب ڈالر کا معاہدہ طے پاگیا جسے بڑی پیشرفت قرار دیا جا رہا ہے۔

غیرملکی میڈیا رپورٹس کے مطابق ایران اور روس نے 25 ارب ڈالر مالیت کا ایک وسیع ایٹمی تعاون معاہدہ طے کیا ہے، جس کا مقصد تہران کے ایٹمی ڈھانچے کو وسعت دینا ہے۔

یہ بھی پڑھیں:ایران کے ساتھ ڈیل کی صورت میں سپریم لیڈرسے ملاقات ممکن ،ڈونلڈٹرمپ

اس معاہدے کے ذریعے دونوں ممالک کے درمیان اسٹریٹجک تعلقات مزید مضبوط ہوں گے۔

ماسکو میں منعقدہ آن لائن کانفرنس جس میں ایران اور روس دونوں ممالک کے حکام اور ماہرین نے شرکت کی۔

ایران کے سفیر کاظم جلالی نے خطاب کرتے ہوئےکہا کہ ہرمز منصوبہ اور بوشہر نیوکلیئر پاور پلانٹ کی توسیع، پُرامن ایٹمی توانائی کے شعبے میں ایران اور روس کے درمیان دو طرفہ تعاون کے سب سے اہم منصوبوں میں شامل ہیں۔

ایرانی سفیر کاظم جلالی نے بتایا کہ بوشہر نیوکلیئر پاور پلانٹ اس وقت فعال ہے، جبکہ اس کے دوسرے اور تیسرے یونٹس زیرِ تعمیر ہیں۔

انہوں نے کہا کہ 25 ارب ڈالر کی سرمایہ کاری سے چلنے والا ہرمز منصوبہ ایران کا سب سے بڑا ایٹمی منصوبہ ہے، جو ایران کے نجی شعبے اور روس کی سرکاری ایٹمی کمپنی روساتوم کے تعاون سے تیار کیا جا رہا ہے۔

ایرانی سفیر نے چھوٹے پیمانے کے ایٹمی بجلی گھروں پر مشترکہ تعاون کے منصوبوں کا بھی ذکر کیا اور امید ظاہر کی کہ یہ منصوبے جلد عملی مرحلے میں داخل ہو جائیں گے۔

یہ بھی پڑھیں:صدر ٹرمپ ایران کیخلاف دوبارہ جنگ نہیں چاہتے، امریکی اخبار کا دعویٰ

انہوں نے کہا کہ روسی گیس کی ایران کے ذریعے ترسیل اور یوریشیائی ممالک کے ساتھ تجارت میں توسیع، تہران اور ماسکو کے درمیان تیزی سے ترقی پانے والے تعاون کے شعبوں میں شامل ہیں۔

آخر میں ایرانی سفیر نے عالمی فورمز پر روس کی سیاسی حمایت پر شکریہ ادا کیا اور توانائی، ٹرانسپورٹ، جدید ٹیکنالوجیز اور معاشی ترقی سمیت مختلف شعبوں میں تہران اور ماسکو کے درمیان اسٹریٹجک تعاون کو مزید مضبوط بنانے کی اہمیت پر زور دیا۔