لندن: برطانوی وزیراعظم اینڈی برنہم نے امریکا کو ایران کے خلاف دفاعی حملوں کیلئے برطانوی فوجی اڈے استعمال کرنے کی اجازت دیدی۔
بلوم برگ کے مطابق برطانیہ کے نئے وزیراعظم اینڈی برنہم نے امریکا کو ایران کے خلاف ان حملوں کے لیے برطانوی فوجی اڈے استعمال کرنے کی منظوری دے دی ہے جنہیں برطانیہ دفاعی کارروائیاںقرار دیتا ہے۔
یہ بھی پڑھیں:برطانوی وزیراعظم اینڈی برنہم نے کابینہ تشکیل دیدی،شبانہ محمود دوبارہ وزیرداخلہ مقرر
یہ فیصلہ سابق وزیراعظم کیئر اسٹارمر کی پالیسی کا تسلسل ہےجبکہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ ایران کے خلاف اپنی فوجی کارروائیاں مزید تیز کر رہے ہیں۔
رپورٹ میں بتایا گیاہے کہ کیئر اسٹارمر نے جمعہ کو سینئر وزرا اور اعلیٰ حکام کا اجلاس طلب کیا، جس میں رواں ماہ کے آغاز میں امریکی فوجی کارروائیاں دوبارہ شروع ہونے کے بعد برطانیہ کی پالیسی پر غور کیا گیا۔
رپورٹ میں بتایا گیا کہ اجلاس میں فیصلہ کیا گیا کہ ڈیاگو گارسیا اور آر اے ایف فیئرفورڈ کے فوجی اڈے امریکی طیاروں کے استعمال کے لیے بدستور دستیاب رہیں گے، تاکہ وہ ایرانی میزائل خطرات کا مقابلہ کر سکیں اور آبنائے ہرمز سے متعلق اہداف پر کارروائیاں جاری رکھ سکیں۔
پیر کے روز وزیراعظم بننے والے اینڈی برنہم کو اجلاس میں ہونے والی گفتگو سے آگاہ کیا گیا اور انہوں نے اس فیصلے سے اتفاق کیا۔
رپورٹ میں ان کے بارے میں کہا گیا ہے کہ وہ دفاعی امریکی حملوں کے لیے برطانوی فوجی اڈوں کی منظوری سے متعلق سابق حکومت کی پالیسی برقرار رکھیں گے۔
یہ بھی پڑھیں:10 ڈاؤننگ اسٹریٹ کی مشہور بلی نے 7ویں برطانوی وزیراعظم کا استقبال کیا
اس فیصلے کا مطلب ہے کہ امریکا کی موجودہ فوجی کارروائیوں کے بعض مراحل میں برطانوی فوجی اڈے استعمال کیے جانے کا امکان ہے۔
یہ پیش رفت امریکا کی جانب سے ایران کے خلاف دسویں روز بھی جاری فوجی کارروائیوں کے بعد سامنے آئی ہے۔ امریکی سینٹرل کمانڈ کے مطابق رات بھر ایرانی فوجی کمانڈ سینٹرز، لانچ سائٹس اور فضائی دفاعی نظام کو نشانہ بنایا گیاتاہم برطانوی حکام صدر ٹرمپ کی جانب سے پلوں اور بجلی گھروں پر حملوں کی دھمکیوں پر تشویش کا اظہار بھی کر رہے ہیں۔




