بھارت میں طلبہ پر پولیس تشدد اور داخلہ امتحانات میں پیپر لیک کے معاملے پر کانگریس کی جانب سے وزیراعظم نریندر مودی کی رہائشگاہ کے باہر کیے گئے احتجاج کے دوران پولیس نے قائد حزب اختلاف راہول گاندھی، کانگریس کی سینئررہنما پریانکا گاندھی اور دیگر متعدد رہنماؤں کو حراست میں لے لیا۔
کانگریس کی جانب سے منعقدہ احتجاج میں مظاہرین نے طلبہ کے خلاف پولیس کارروائی کی مذمت کرتے ہوئے وزیراعظم نریندر مودی اور وفاقی وزیر تعلیم دھرمیندرا پردھان کے خلاف نعرے لگائے اور وزیر تعلیم سے فوری استعفے کا مطالبہ کیا۔
یہ بھی پڑھیں: مودی حکومت نے بھارت کی خودمختاری کو کمزور کر دیا ، راہول گاندھی
پولیس نے احتجاجی مظاہرے کو منتشر کرنے کے لیے کارروائی کرتے ہوئے راہول گاندھی، پریانکا گاندھی اور کانگریس کے دیگر رہنماؤں کو گرفتار کر لیا۔
پولیس کی جانب سے قائد حزب اختلاف راہول گاندھی کو گھسیٹ کر حراست میں لیا گیا جس کی ویڈیو اور تصاویر سوشل میڈیا پر وائرل ہو گئی ہیں۔
مودی نوجوانوں کے سب سے بڑے دشمن ہیں، راہول گاندھی
گرفتاری سے قبل مظاہرین سے خطاب کرتے ہوئے راہول گاندھی نے وزیراعظم نریندر مودی پر شدید تنقید کی اور کہا کہ اگر بھارتی نوجوانوں کا تاریخ میں کوئی بدترین دشمن رہا ہے تو وہ نریندر مودی ہیں۔
انہوں نے میڈیکل اور کالجوں کے داخلہ امتحانات میں مبینہ بڑے پیمانے پر پیپر لیک اور بے ضابطگیوں کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ لاکھوں طلبہ کا مستقبل داؤ پر لگ گیا، مگر حکومت کسی ایک بھی ذمہ دار شخص کو قانون کے کٹہرے میں نہیں لا سکی۔
یہ بھی پڑھیں: نئی دہلی میں طلبہ پر وحشیانہ طاقت کا استعمال بھارتی فوج کے تشدد میں ملوث ہونے کا ثبوت
راہول گاندھی نے کہا کہ افسوسناک امر یہ ہے کہ امتحانی اسکینڈل میں ملوث افراد آج بھی آزاد گھوم رہے ہیں، جبکہ اپنے حقوق کے لیے آواز بلند کرنے والے نوجوانوں کو پولیس تشدد اور گرفتاریوں کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے۔
انہوں نے کہا کہ طلبہ کو نہ صرف احتجاج کے حق سے محروم کیا جا رہا ہے بلکہ انہیں وفاقی وزیر تعلیم سے استعفے کا مطالبہ کرنے کی بھی اجازت نہیں دی جا رہی، جو جمہوری اقدار کے منافی ہے۔




