وزیراعظم فیصل راٹھور،ان کے والد مرحوم کیخلاف سوشل میڈیا پوسٹیں کرنے پر مقدمہ درج

فارورڈ کہوٹہ: وزیراعظم آزاد کشمیر فیصل ممتاز راٹھور اور ان کے والد سابق وزیراعظم ممتاز حسین راٹھور مرحوم کے خلاف مبینہ طور پر سوشل میڈیا پر نازیبا اور توہین آمیز مواد شیئر کرنے کے الزام میں جوائنٹ عوامی ایکشن کمیٹی کے کور ممبر مرتضیٰ شریف میر سمیت دیگر افراد کے خلاف مقدمہ درج کر لیا گیا ہے۔

پولیس ذرائع کے مطابق مقدمہ تھانہ ممتاز آباد میں درج کیا گیا ہے جس کے بعد معاملے کی تحقیقات کا آغاز کر دیا گیا ہے۔ایف آئی آر میں نامزد افراد پر سوشل میڈیا کے ذریعے مبینہ طور پر قابل اعتراض مواد نشر کرنے کا الزام عائد کیا گیا ہے۔

یہ بھی پڑھیں:آزادکشمیر بار کونسل کی حکومت اور ایکشن کمیٹی کو مذاکرات کی میزبانی کی پیشکش

مختلف سماجی اور عوامی حلقوں کا کہنا ہے کہ سوشل میڈیا پر کسی بھی فرد کی عزت اور ساکھ کو نقصان پہنچانے والے عناصر کے خلاف قانون کے مطابق کارروائی ہونی چاہیے۔

واقعے کے بعد علاقے میں اس بحث نے زور پکڑ لیا ہے کہ آیا قانون کا اطلاق تمام شہریوں پر یکساں انداز میں ہو رہا ہے یا نہیں۔بعض حلقوں کا موقف ہے کہ انصاف کے تقاضوں کو پورا کرنے کے لیے بااثر شخصیات اور عام شہریوں کے لیے ایک ہی قانونی معیار اپنانا ضروری ہے۔

ادھر جوائنٹ عوامی ایکشن کمیٹی حویلی نے اپنے بعض ارکان کے خلاف مقدمات درج ہونے پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ قانون کا استعمال سیاسی بنیادوں پر نہیں ہونا چاہیے۔

کمیٹی کے رہنماؤں نے مطالبہ کیا کہ تمام معاملات کی شفاف اور غیرجانبدارانہ تحقیقات کی جائیں تاکہ حقائق عوام کے سامنے آسکیں۔

یہ بھی پڑھیں:وزیراعظم کی میزبانی میں آل پارٹیز کانفرنس: اہم رہنماوں کی شرکت

سیاسی و سماجی حلقوں کا کہنا ہے کہ سوشل میڈیا کے بڑھتے ہوئے استعمال کے ساتھ توہین، کردار کشی اور نفرت انگیز مواد کے معاملات میں قانون کی غیرجانبدار عملداری ہی عوام کے اعتماد کو مضبوط بنا سکتی ہے۔