راولپنڈی: موسلادھار بارش،روات میں سیلابی ریلے سے کئی گھر تباہ،شہری نقل مکانی پر مجبور

راولپنڈی(کشمیر ڈیجیٹل)جڑواں شہروں میںموسلادھار بارش کے دوران راولپنڈی کے نواحی علاقے روات میں سیلابی صورتحال پیدا ہوگئی۔

روات کے ددوچھہ ڈیم کے قریب برساتی نالہ بپھر کر آبادی میں داخل ہوگیا جس کے نتیجے میں متعدد دیہات زیر آب آگئے اور کئی مکانات گر کر تباہ ہوگئے۔

علاقہ مکینوں کے مطابق برساتی نالے کا پانی بروالہ اور خانپور گاؤں میں داخل ہوگیا جس کے باعث گھروں، مسجد اور مرکزی شاہراہ میں پانی بھر گیا۔

سیلابی ریلے کے باعث کئی مکانات منہدم ہوگئے جبکہ علاقے میں شدید خوف و ہراس پھیل گیا۔مقامی افراد کا کہنا ہے کہ ددوچھہ ڈیم کے قریب واقع گاؤں میں صورتحال انتہائی تشویشناک ہے اور مسجد مکمل طور پر پانی میں ڈوب چکی ہے۔

علاقہ مکینوں نے شکوہ کیا کہ سیلابی صورتحال کے باوجود ضلعی انتظامیہ اور ریسکیو کی کوئی امدادی ٹیم تاحال متاثرہ علاقوں میں نہیں پہنچی، جس کے باعث متاثرین اپنی مدد آپ کے تحت محفوظ مقامات پر منتقل ہونے کی کوشش کر رہے ہیں۔

مزید یہ بھی پڑھیں:، آزادکشمیر اتنا ہی عزیز ہے جتنا پنجاب، آزادکشمیر کا 10 گنا بجٹ بڑھائیں گے ،نوازشریف

دوسری جانب جڑواں شہروں میں بارش کے پیش نظر واسا نے ہائی الرٹ جاری کر دیا ہے۔

منیجنگ ڈائریکٹر واسا عزیز اللہ خان کے مطابق نشیبی علاقوں میں واسا کا عملہ اور ہیوی مشینری تعینات کر دی گئی ہے، جبکہ لیاقت باغ، کمیٹی چوک انڈر پاس، مری روڈ اور صادق آباد سمیت اہم مقامات پر نکاسی آب کے لیے خصوصی انتظامات کیے گئے ہیں۔

ایم ڈی واسا کے مطابق نالہ لئی کی مسلسل نگرانی کی جا رہی ہے اور اس میں پانی کا بہاؤ معمول کے مطابق ہے۔

مزید یہ بھی پڑھیں:چوہدری یٰسین کا چیف الیکشن کمشنر کو خط ،انٹرنیٹ فوری بحالی کا مطالبہ

تازہ ترین اعداد و شمار کے مطابق سیدپور میں 64 ملی میٹر، شمس آباد میں 34 ملی میٹر، نیو کٹاریاں میں 33 ملی میٹر، پی ایم ڈی میں 33 ملی میٹر، گولڑہ میں 32 ملی میٹر، بوکرہ میں 29 ملی میٹر، پیرودھائی میں 26 ملی میٹر، گوالمنڈی میں 25 ملی میٹر اور کچہری میں 21 ملی میٹر بارش ریکارڈ کی گئی ہے۔

ترجمان واسا کے مطابق ایم ڈی کی ہدایت پر فیلڈ افسران خود نکاسی آب کے کام کی نگرانی کر رہے ہیں۔ واسا نے شہریوں سے اپیل کی ہے کہ نالوں اور گٹروں میں کچرا نہ پھینکیں، گٹروں کے ڈھکن نہ کھولیں اور کسی بھی ہنگامی صورتحال کی صورت میں فوری طور پر واسا ہیلپ لائن سے رابطہ کریں۔