سابق وزیراعظم نواز شریف آج 2 جون کو انتخابی سرگرمیوں کے سلسلے میں گلگت بلتستان پہنچیں گے، چیف الیکشن کمشنر گلگت بلتستان نے نواز شریف کے دورے کی منظوری دے دی ہے۔
الیکشن کمیشن نے نواز شریف کے انتخابی دورے کے لیے عدم اعتراض سرٹیفکیٹ جاری کر دیا، نواز شریف کا دورہ انتخابی ضابطہ اخلاق کی پابندی سے مشروط قرار دیا گیا ہے۔
یہ بھی پڑھیں: گلگت بلتستان الیکشن، پنجاب پولیس کی بھاری نفری طلب
الیکشن قوانین کی خلاف ورزی پر قانونی کارروائی کی تنبیہ کی گئی ہے، مسلم لیگ (ن) کی درخواست پر نواز شریف کے دورے کا باقاعدہ اجازت نامہ جاری کیا گیا۔
ادھر گلگت بلتستان میں چوتھے عام انتخابات کے لیے انتخابی مہم اپنے عروج پر پہنچ چکی ہے، چیئرمین پیپلزپارٹی بلاول بھٹو زرداری سمیت سیاسی جماعتوں کے مرکزی رہنماؤں نے گلگت میں ڈیرے ڈال رکھے ہیں۔
قانون ساز اسمبلی کی 24 جنرل نشستوں پر7جون کو پولنگ ہوگی جبکہ 9مخصوص نشستیں ہیں،سال 2009 میں پہلی بار یہاں باقاعدہ انتخابات ہوئے جس میں پیپلز پارٹی کامیاب ہوئی اور مہدی شاہ پہلے وزیراعلیٰ بنے
اس کے بعد 2015 میں مسلم لیگ ن نے حکومت بنائی اور حافظ حفیظ الرحمان وزیراعلیٰ منتخب ہوئے، جبکہ 2020 کے تیسرے عام انتخابات میں تحریک انصاف نے حکومت بنائی اور خالد خورشید وزیراعلیٰ بنے۔
جولائی 2023 میں گلگت بلتستان کی اعلیٰ عدالت نے خالد خورشید کو نااہل قرار دے دیا جس کے بعد تحریک انصاف کے ناراض دھڑے، پیپلز پارٹی اور مسلم لیگ ن کے ارکان نے مل کر ایک مخلوط حکومت بنائی، جس نے حاجی گلبر خان کو نیا وزیراعلیٰ منتخب کیا۔ 24 نومبر 2025 کو اسمبلی کی پانچ سالہ مدت پوری ہوئی۔
اس کے بعد، وزیر اعظم شہباز شریف نے بطور چیئرمین گلگت بلتستان کونسل گورنمنٹ آف گلگت بلتستان آرڈر 2018 کے آرٹیکل 48-A(2)“ کے تحت جسٹس۰ر) یار محمد کو گلگت بلتستان کا نگران وزیراعلیٰ مقرر کیا جبکہ موسمی صورتحال کے باعث انتخابات تاخیر کا شکار ہوئے۔
اس بار بظاہر گلگت بلتستان میں دو بڑی سیاسی جماعتوں کے درمیان مقابلہ نظر آ رہا ہے، پیپلز پارٹی اور ن لیگ نے زور و شور سے مہم شروع کی ہے اور سب سے زیادہ امیدوار بھی انہی دونوں جماعتوں نے کھڑے کیے ہیں۔
یہ بھی پڑھیں: سالانہ ترقیاتی پروگرام ، آزادکشمیر اور گلگت بلتستان کیلئے153ارب مختص کئے جائیں گے، احسن اقبال
پیپلز پارٹی نے تمام 24 حلقوں میں اپنے امیدوار کھڑے کر کے سب سے بڑی جماعت ہونے کا دعویٰ کیا ہے جبکہ مسلم لیگ ن 22 حلقوں میں اپنے امیدواروں کے ساتھ میدان میں ہے اور دو حلقوں میں اس نے دوسری جماعتوں سے اتحاد کیا ہے۔
دوسری جانب پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) انتخابی مہم میں دور دور تک نظر نہیں آرہی۔ اس بار تحریک انصاف کو انتخابی نشان بھی جاری نہیں ہوا اور ان کے امیدوار آزاد حیثیت سے میدان میں ہیں۔
پہلی بار استحکامِ پاکستان پارٹی بھی گلگت بلتستان میں سرگرم نظر آ رہی ہے اور سابق وزیراعلیٰ حاجی گلبر خان کی سربراہی میں الیکشن میں حصہ لے رہی ہے۔
بظاہر پیپلز پارٹی اور ن لیگ میں مقابلہ نظر آ رہا ہے، جبکہ کچھ حلقوں میں شخصی ووٹ بھی اثر انداز ہوں گے، جس سے استحکام پارٹی کو فائدہ ہو سکتا ہے۔
گلگت بلتستان کے انتخابات کا ایک اہم پہلو یہ ہے کہ اسلام آباد کی سیاست یہاں پر گہرا اثر ڈالتی ہے. تاریخ بتاتی ہے کہ گلگت بلتستان میں الیکشن پر اسلام آباد کا اثر ہوتا ہے اور جس جماعت کی اسلام آباد میں حکومت ہوتی ہے۔
ماضی میں اسی جماعت کو انتخابات میں کامیابی ملی ہے، گزشتہ تین انتخابات میں یہی دیکھنے کو ملا اور اس بار بھی ایسا ہی نظر آ رہا ہے۔
یوں اس بار ن لیگ کو فائدہ پہنچتا نظر آرہا ہے کیونکہ مرکز میں اس کی حکومت ہے تاہم، کچھ حلقوں، جیسے استور سے سابق وزیراعلیٰ خالد خورشید کی والدہ امیدوار ہیں، جس سے ہمدردی کے ووٹ ملنے کے امکانات زیادہ ہیں۔
سیاسی وابستگیوں کے علاوہ مقامی سطح پر برادری اور رشتہ داری کا نظام بھی جیت اور ہار کا فیصلہ کرنے میں اہم کردار ادا کرتا ہے۔
یہ بھی پڑھیں:پی ٹی آئی رہنما جنید اکبر گلگت بلتستان سے گرفتار
گلگت بلتستان میں انتخابات باقی ملک کی نسبت ذرا مختلف ہوتے ہیں، یہاں رشتہ داری، برادری ، مسلک اور علاقائیت کو بھی ترجیح دی جاتی ہے، جبکہ پارٹیوں کا ووٹ بینک بھی موجود ہے۔
ان انتخابات میں آئینی حیثیت، صوبائی حقوق، نوجوانوں کے لیے روزگار، سیاحت، ماحولیاتی تبدیلی اور سی پیک جیسے منصوبے ووٹرز کے لیے اہم ترین موضوعات بنے ہوئے ہیں۔




