اسلام آباد :وفاقی وزیر منصوبہ بندی، ترقی و خصوصی اقدامات احسن اقبال نے کہا ہے کہ ملک کا بڑا مالیاتی حصہ قرضوں کی ادائیگی پر خرچ ہو رہا ہے جس کے باعث ترقیاتی بجٹ شدید دباؤ کا شکار ہے،آزاد کشمیر اور گلگت بلتستان کے لیے 153 ارب روپے مختص کیے جائیں گے۔
سالانہ پلان کوآرڈینیشن کمیٹی کے اجلاس کی صدارت اور بعد ازاں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے احسن اقبال نے کہا کہ گزشتہ آٹھ برسوں سے وفاقی ترقیاتی بجٹ جمود کا شکار ہے اور آج بھی تقریباً وہی سطح برقرار ہے جو 2018 میں تھی۔
یہ بھی پڑھیں:آزادکشمیر : 6ارب 60کروڑ روپے کے ترقیاتی فنڈز کا اجراء ہائیکورٹ میں چیلنج،فریقین کو نوٹس جاری
ان کا کہنا تھا کہ جاری ترقیاتی منصوبوں کی تکمیل کے لیے تقریباً 10 ہزار ارب روپے درکار ہیں، جبکہ مختلف وزارتوں نے آئندہ مالی سال کے لیے جاری منصوبوں کی مد میں 4 ہزار ارب روپے کی درخواست کی ہے، تاہم مالی وسائل کی محدود دستیابی کے باعث 3 ہزار ارب روپے کی طلب پوری نہیں کی جا سکے گی۔
احسن اقبال نے کہا کہ وفاق اور صوبوں کے ترقیاتی بجٹ میں نمایاں فرق پیدا ہو چکا ہے۔ گزشتہ آٹھ برسوں کے دوران صوبوں کا ترقیاتی بجٹ ایک ہزار ارب روپے سے بڑھ کر تین ہزار ارب روپے تک پہنچ گیا، جبکہ وفاقی ترقیاتی بجٹ تقریباً ایک ہزار ارب روپے کی سطح پر ہی موجود ہے۔
انہوں نے اعلان کیا کہ آئندہ مالی سال کے ترقیاتی پروگرام کا حجم 1126 ارب روپے رکھا جا رہا ہے۔ آزاد کشمیر اور گلگت بلتستان کے لیے 153 ارب روپے مختص کیے جائیں گے۔
ان کا کہنا تھا کہ آزاد کشمیر اور گلگت بلتستان کو قومی مالیاتی کمیشن میں حصہ ملنا چاہیے اور وفاق اپنے این ایف سی حصے سے ان علاقوں کی مالی معاونت جاری رکھے گا۔
وفاقی وزیر نے کہا کہ حکومت بلوچستان کی ترقی کو خصوصی اہمیت دے رہی ہے اور آئندہ بجٹ میں بلوچستان کے لیے 100 ارب روپے مالیت کے منصوبے شامل کرنے کی تجویز ہے۔
انہوں نے بتایا کہ این-25 شاہراہ کے لیے 25 ارب روپے مختص کرنے کی منصوبہ بندی کی جا رہی ہے، جبکہ اتحادی جماعتوں کی جانب سے تجویز کردہ 87 ارب روپے کے ترقیاتی منصوبوں پر بھی توجہ دی جائے گی۔
یہ بھی پڑھیں:بلاول بھٹو سے فیصل راٹھور کی اہم ملاقات، الیکشن، ترقیاتی منصوبوں پربریفنگ
معاشی صورتحال پر گفتگو کرتے ہوئے احسن اقبال نے کہا کہ حکومت غیر یقینی اور عارضی معاشی نمو کے بجائے پائیدار اور مستحکم ترقی پر یقین رکھتی ہے۔ ان کے مطابق اخراجات میں غیر معمولی اضافہ وقتی طور پر ترقی کی رفتار بڑھا سکتا ہے لیکن ایسی ترقی دیرپا نہیں ہوتی۔




