کولکتہ(کشمیر ڈیجیٹل) مغربی بنگال میں مبینہ پولیس کریک ڈاؤن کی ایک ویڈیو سوشل میڈیا پر تیزی سے وائرل ہو رہی ہے، جس میں ایک نوجوان کو اہلکاروں کی جانب سے سرِعام مارا پیٹا جاتا دکھایا گیا ہے۔ ویڈیو کے منظرِ عام پر آنے کے بعد شہری حلقوں میں تشویش پائی جا رہی ہے۔
فوٹیج میں دیکھا جا سکتا ہے کہ متعدد پولیس اہلکار ایک نوجوان کو قابو میں کیے ہوئے ہیں جبکہ اسے مبینہ طور پر تشدد کا نشانہ بنایا جا رہا ہے۔ واقعے کی تصدیق اور پس منظر کے حوالے سے سرکاری سطح پر مکمل تفصیلات جاری نہیں کی گئیں، تاہم حکام کا کہنا ہے کہ معاملے کی جانچ کی جا رہی ہے۔
مزید یہ بھی پڑھیں:ایرانی شہر گراش میں 4.3 شدت زلزلے کے جھٹکے ،گہرائی 10 کلومیٹر،امریکی زلزلہ پیما مرکز
انسانی حقوق کے کارکنان اور سماجی تنظیموں نے واقعے کی شفاف تحقیقات اور ذمہ داروں کے تعین کا مطالبہ کیا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ قانون نافذ کرنے والے اداروں کو کارروائی کے دوران انسانی حقوق اور قانونی تقاضوں کا خیال رکھنا چاہیے۔
دوسری جانب پولیس ذرائع کے مطابق واقعہ ایک آپریشن کے دوران پیش آیا، تاہم حتمی مؤقف تحقیقاتی عمل مکمل ہونے کے بعد سامنے آئے گا۔ حکام نے یقین دہانی کرائی ہے کہ اگر کسی اہلکار کی جانب سے اختیارات سے تجاوز ثابت ہوا تو قانونی کارروائی کی جائے گی۔
مزید یہ بھی پڑھیں:ہماری دفاعی صلاحیتیں اور عزم وقت کی کسوٹی پر ثابت شدہ ہیں، خواجہ آصف
کولکتہ: نریندر مودی کی پالیسیوں پر تنقید کے درمیان ریاست مغربی بنگال میں ایک مسلمان شہری پر مبینہ پولیس تشدد کی ویڈیو سوشل میڈیا پر وائرل ہوگئی، جس کے بعد سیاسی اور سماجی حلقوں میں تشویش کی لہر دوڑ گئی ہے۔
وائرل ویڈیو میں دیکھا جا سکتا ہے کہ چند پولیس اہلکار ایک شہری کو حراست میں لے کر اس پر تشدد کرتے دکھائی دے رہے ہیں۔ ویڈیو کے منظرِ عام پر آنے کے بعد انسانی حقوق کے کارکنان اور مقامی افراد نے واقعے کی شفاف تحقیقات کا مطالبہ کیا ہے۔
مزید یہ بھی پڑھیں:مظفرآباد: وراثتی فراڈ بے نقاب، ڈسٹرکٹ جج کا سخت حکم، پولیس کو فوجداری کارروائی کا حکم
ریاستی حکام کی جانب سے واقعے کا نوٹس لیے جانے کی اطلاعات ہیں، جبکہ اپوزیشن جماعتوں نے اس معاملے کو اقلیتوں کے تحفظ کے تناظر میں اٹھاتے ہوئے سخت ردعمل ظاہر کیا ہے۔ دوسری جانب پولیس حکام کا کہنا ہے کہ واقعے کی مکمل جانچ کی جا رہی ہے اور حقائق سامنے آنے کے بعد ضروری کارروائی عمل میں لائی جائے گی۔
مزید یہ بھی پڑھیں:ہونڈا پرائیڈر کا نیا ورژن متعارف، قیمت اور تفصیلات جاری
ماہرین کا کہنا ہے کہ ایسے واقعات معاشرتی ہم آہنگی کو متاثر کر سکتے ہیں، اس لیے ضروری ہے کہ ذمہ داران کا تعین کر کے قانون کے مطابق کارروائی کی جائے تاکہ عوام کا اعتماد بحال رہے۔




