وادی نیلم (کشمیر ڈیجیٹل)آزاد کشمیر بھر میں کالعدم جوائنٹ عوامی ایکشن کمیٹی کے دھرنوں اور سرگرمیوں کے دوران سکیورٹی فورسز، پولیس اور قانون نافذ کرنے والے اداروں کے جوانوں پر مبینہ حملوں پر شہریوں نے شدید تشویش کا اظہار کیا ہے۔ اب وقت آف چکا ہے کہ ریاستی قانون کے مطابق مسلح جھتے کے ساتھ نمٹا جائے۔
کشمیر ڈیجیٹل کی رپورٹ کے مطابق گزشتہ چند دنوں سے راولاکوٹ اور گرد و نواح کے علاقوں میں کالعدم ایکشن کمیٹی کے شرکاء کی جانب سے مبینہ طور پر قانون نافذ کرنے والے اداروں کے اہلکاروں کو نشانہ بنایا جا رہا ہے، جس کے نتیجے میں متعدد جوان زخمی اور شہادت کے درجے پر فائز ہوئے ہیں۔
اس صورتحال نے خطے کے امن و امان کو شدید خطرات سے دوچار کر دیا ہے۔کنٹرول لائن سے تعلق رکھنے والے شہریوں کا کہنا ہے کہ یہاں کے غیور عوام ہمیشہ سے افواجِ پاکستان اور ملک کے پشت بان اور بلا تنخواہ سپاہی ہے ہیں۔
مزید یہ بھی پڑھیں:امریکی گورنر نے 548 قیدیوں کی سزائے موت عمر قید میں تبدیل کردی
شہریوں نے کالعدم ایکشن کمیٹی کی کارروائیوں کو احمقانہ اور قابلِ مذمت قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ سکیورٹی فورسز اور پولیس کے جوان عام شہریوں کے جان و مال کے تحفظ اور قانون کی عملداری کیلئے تعینات ہیں، لہٰذا ان پر حملے کرنے کی کسی کو اجازت نہیں دی جا سکتی۔
انہوں نے کہا کہ گزشتہ چار پانچ ماہ سے جاری ان دھرنوں اور احتجاجی سرگرمیوں کی وجہ سے راولاکوٹ اور گرد و نواح کے شہریوں کی روزمرہ زندگی مکمل طور پر مفلوج ہو کر رہ گئی ہے۔
مزید یہ بھی پڑھیں:ترک پارلیمنٹ نے پاکستان، سعودی عرب اور ترکیہ کے دفاعی معاہدے کی توثیق کردی
شہریوں نے حکومتِ آزاد کشمیر اور قانون نافذ کرنے والے اداروں سے مطالبہ کیا ہے کہ عوام کے مفادات، تاجروں کے کاروبار اور عام شہریوں کی محفوظ زندگی کی بحالی کیلئے ریاست اپنے آئینی اور قانونی اختیارات استعمال کرتے ہوئے ان عناصر کے خلاف سخت کارروائی کرے اور دھرنوں کو ختم کرائے۔




