امریکی ریاست کیلیفورنیا میں سزائے موت کے حوالے سے بڑا اور تاریخی فیصلہ سامنے آگیا، گورنر گیون نیوزوم نے ریاست کی تمام 548 سزائے موت پانے والے قیدیوں کی سزاؤں کو عمر قید میں تبدیل کرنے کا اعلان کردیا۔
گورنر کا کہنا ہے کہ کسی انسان کی جان لینا ریاست کی بنیادی اقدار کے منافی ہے، جبکہ عدالتی نظام میں انسانی غلطیوں اور نسلی امتیاز کے امکانات کو نظرانداز نہیں کیا جاسکتا۔
مزید یہ بھی پڑھیں:والدین کی اجازت بھی کام نہیں آئیگی، کیلیفورنیا میں کم عمری کی شادی پر پابندی
کیلیفورنیا کے گورنر گیون نیوزوم نے عوام کے نام جاری کردہ ایک کھلے خط میں اعلان کیا کہ ریاست کی جیلوں میں سزائے موت پانے والے تمام 548 قیدیوں کی سزاؤں کو عمر قید میں تبدیل کیا جا رہا ہے۔
گورنر گیون نیوزوم نے کہا کہ یہ فیصلہ ان کے ضمیر کی آواز اور اس احساس کے تحت کیا گیا ہے جو انہیں رات کو سکون سے سونے نہیں دیتا تھا۔
ان کے مطابق ریاست کی جانب سے کسی شخص کو موت کی سزا دینا کیلیفورنیا کی بنیادی اقدار سے مطابقت نہیں رکھتا۔
انہوں نے مزید کہا کہ نظام انصاف میں نسلی امتیاز اور انسانی غلطی کے امکانات ہمیشہ موجود رہتے ہیں، ایسے میں سزائے موت جیسے ناقابل واپسی فیصلے سنگین سوالات کو جنم دیتے ہیں۔
اعلان کے مطابق سزا میں تبدیلی کے باوجود ان قیدیوں کو رہائی کا حق حاصل نہیں ہوگا اور انہیں اپنی باقی زندگی جیل میں گزارنا ہوگی۔
مزید یہ بھی پڑھیں:کیلیفورنیا : ٹرک ڈرائیور نے لاٹری وینڈنگ مشین سے ایک لاکھ ڈالر کا انعام جیت لیا
اس اقدام کو امریکی تاریخ میں سزائے موت پانے والے قیدیوں کی سزاؤں میں تبدیلی کا ایک بڑا فیصلہ قرار دیا جا رہا ہے




