کراچی میں مِلینیم انسٹی ٹیوٹ آف ٹیکنالوجی اینڈ انٹرپرینیورشپ (MiTE) اور سینٹر فار انٹرنیشنل اسٹریٹجک اسٹڈیز سندھ (CISSS) کے زیرِ اہتمام کتاب ’’معرکۂ حق، جنوبی ایشیا میں بازدار قوت، اشتعال انگیزی اور تزویراتی پختگی‘‘ کی پروقار تقریبِ رونمائی منعقد ہوئی۔
اس اہم تقریب کی مشترکہ میزبانی ایم آئی ٹی ای کی پروفیسر ڈاکٹر ہما بقائی اور سی آئی ایس ایس ایس کے ایگزیکٹو ڈائریکٹر سفیر (ر) قاضی خلیل اللہ نے کی۔ تقریب میں سابق فوجی افسران، سفارت کاروں، ممتاز ماہرینِ تعلیم اور پالیسی تجزیہ کاروں سمیت مختلف شعبہ ہائے زندگی سے تعلق رکھنے والی 200 سے زائد اہم شخصیات نے شرکت کی، جن میں طلبہ اور صحافی بھی شامل تھے۔
تقریب کے مہمانِ خصوصی سابق سینیٹر اور وفاقی وزیر جاوید جبار تھے، جبکہ نیشنل کمانڈ اتھارٹی کے مشیر برائے ترقی لیفٹیننٹ جنرل (ر) خالد احمد کِڈوائی نے تقریب سے کلیدی خطاب کیا۔ تقریب کے دوران مقررین نے کہا کہ اس کتاب میں مئی 2025 کے معرکۂ حق سے پہلے اور بعد کی صورتِ حال، پاکستان اور بھارت کے کشیدہ تعلقات، خطے میں جوہری بازدار قوت کے توازن اور جنوبی ایشیا کے مستقبل کے تزویراتی استحکام کا تفصیلی اور جامع جائزہ پیش کیا گیا ہے۔
دفاعی صلاحیتیں اور تزویراتی ماحول پر عسکری و سفارتی نقطہ نظر:
کلیدی مقرر لیفٹیننٹ جنرل (ر) خالد احمد کِڈوائی نے اپنے خطاب میں کہا کہ پاکستان کی روایتی اور جوہری دفاعی صلاحیتوں کے مضبوط امتزاج نے جنوبی ایشیا میں بازدار قوت کے استحکام کو یقینی بنایا ہے۔ انہوں نے واضح کیا کہ بھارت کے علاقائی بالادستی کے عزائم کے مقابلے میں پاکستان کی دفاعی صلاحیتیں ایک مؤثر رکاوٹ ہیں، اور مئی 2025 کے بحران کے بعد جنوبی ایشیا میں ایک نیا تزویراتی ماحول تشکیل پایا ہے، جس میں پاکستان کا کردار مرکزی اہمیت اختیار کر گیا ہے۔
یہ بھی پڑھیں: ڈی ڈی او درشہوار نقوی کی کتاب ’’ایلکمی آف مائنڈ ‘‘کی تقریب رونمائی،علمی شخصیات کی شرکت
سفیر (ر) قاضی خلیل اللہ نے اپنے خطاب میں زور دیا کہ معرکۂ حق پاکستان کی تاریخ کا ایک انتہائی اہم باب ہے، جس میں پاک مسلح افواج نے بے مثال جرات، پیشہ ورانہ مہارت اور قومی عزم کا مظاہرہ کیا۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان کی مقامی سطح پر تیار کردہ جدید دفاعی ٹیکنالوجیز اور فل اسپیکٹرم ڈیٹرنس پالیسی نے بھارتی جارحیت کا بھرپور مقابلہ کرنے میں اہم ترین کردار ادا کیا۔
کتاب کے مدیر ڈاکٹر ظفر خان نے کتاب کے اغراض و مقاصد پر روشنی ڈالتے ہوئے کہا کہ اس مجموعے کا بنیادی مقصد جنوبی ایشیا میں بازدار قوت، دباؤ کی حکمتِ عملی اور علاقائی بحرانوں کے دوران ریاستوں کے رویوں کو دستاویزی شکل دینا ہے۔ انہوں نے مزید بتایا کہ کتاب میں پاکستان کے تزویراتی تحمل اور خطے میں بڑھتی ہوئی کشیدگی کے ممکنہ اثرات کا بھی باریک بینی سے جائزہ لیا گیا ہے۔
مسئلہ کشمیر، پانی کے تنازعات اور عالمی سطح پر مؤقف کی پیش کش:
تقریب سے خطاب کرتے ہوئے سفیر (ر) مصطفیٰ کمال کاظی، پروفیسر ڈاکٹر رفیق احمد میمن، پروفیسر ڈاکٹر احمد سعید منہاس اور پروفیسر ڈاکٹر فتح محمد مری نے بھی جنوبی ایشیا میں سلامتی، دیرینہ مسئلہ کشمیر، پانی کے تنازعات، علاقائی کشیدگی اور جوہری بازدار قوت کے استحکام جیسے اہم موضوعات پر اپنے خیالات کا اظہار کیا۔
مہمانِ خصوصی جاوید جبار نے اپنے خطاب میں کہا کہ اس کتاب کا پیغام صرف پاکستان اور بھارت تک محدود نہیں ہے بلکہ اسے عالمی سطح پر متعارف کرانے کی شدید ضرورت ہے۔ انہوں نے تجویر دی کہ اس اہم تصنیف کا دنیا کی بڑی زبانوں میں ترجمہ کیا جائے تاکہ جنوبی ایشیا کی سلامتی اور تزویراتی صورتِ حال سے متعلق پاکستان کا بیانیہ اور مؤقف عالمی برادری کے سامنے مؤثر انداز میں پیش کیا جا سکے۔
تقریب کے تمام شرکا نے اس کتاب کو جنوبی ایشیا کے تزویراتی، دفاعی اور سفارتی معاملات کو درست تناظر میں سمجھنے کے لیے ایک اہم علمی اور تحقیقی کاوش قرار دیا، جس کی پذیرائی 200 سے زائد حاضرین نے کی جن میں سابق عسکری حکام، غیر ملکی سفارت کار، پالیسی تجزیہ کار اور دانشور موجود تھے۔




