بھارت میں 13 کروڑ سے زائد ووٹر لسٹوں سے نام نکالے جانے کا معاملہ مودی سرکار کی گلے کی ہڈی بن گیا ۔پوزیشن جماعتوں اور مظاہرین نے انتخابی عمل کی شفافیت پر سوال اُٹھاتے ہوئے چیف الیکشن کمشنر گنیش کمارکے استعفے کا مطالبہ کردیا۔
برطانوی اخبار دی ٹیلی گراف کی رپورٹ میں دعویٰ کیا گیا ہے کہ ووٹر لسٹوں سے خارج کئے گئے افراد کی تعداد میکسیکو کی کل آبادی سے بھی تجاوز کرتی ہے۔
مزید یہ بھی پڑھیں:راہول گاندھی کا دھرنا، مودی سرکار گھٹنے ٹیکنے پر مجبور ہو گئی
اس بڑے پیمانے پر ناموں کے اخراج نے بھارت میں ووٹ کے حق اور انتخابی نظام کی غیر جانبداری سے متعلق نئی بحث چھیڑ دی ہے۔
اپوزیشن رہنما راہول گاندھی سمیت متعدد سیاسی شخصیات اور مظاہرین اس معاملے پر آواز اُٹھا رہے ہیں۔ ناقدین کا خدشہ ہے کہ اس عمل سے مسلمان ووٹرز سمیت بعض طبقات کے انتخابی حقوق متاثر ہوسکتے ہیں۔
ان حلقوں کا یہ بھی الزام ہے کہ ووٹر فہرستوں میں ہونے والی تبدیلیوں سے حکمران جماعت بھارتیہ جنتا پارٹی (بی جے پی) کو سیاسی فائدہ پہنچنے کا امکان موجود ہے۔
تاہم، ان خدشات اور الزامات کی آزادانہ تصدیق ضروری ہے۔اس تنازع کیخلاف روایتی اپوزیشن جماعتوں کے علاوہ نوجوانوں کی قیادت میں سرگرم کاکروچ جنتا پارٹی سے منسوب مظاہرین بھی احتجاج کررہے ہیں۔
مظاہرین نے چیف الیکشن کمشنر سے استعفے کا مطالبہ کرتے ہوئے کہا ہے کہ اتنی بڑی تعداد میں ناموں کا فہرستوں سے اخراج صرف انتظامی کارروائی نہیں بلکہ شہریوں کے بنیادی حقِ رائے دہی سے جڑا معاملہ ہے۔
احتجاج کرنے والوں کے مطابق جمہوری نظام پر عوام کا اعتماد برقرار رکھنے کیلئے ضروری ہے کہ ووٹر فہرستوں کی تیاری اور ان میں تبدیلی کے طریقۂ کار کو شفاف بنایا جائے اور نام خارج کئے جانے کی وجوہات واضح کی جائیں۔
مزید یہ بھی پڑھیں:بھارت میں پرامن احتجاج جرم بن گیا، راہول گاندھی،پریانکا گاندھی گرفتار
رپورٹ کے مطابق نئی دہلی، ممبئی اور بنگلورو میں اس معاملے پر مظاہرے ہوچکے ہیں جبکہ کل 10 اکتوبر کو نئی دہلی کے جنتر منتر پر مزید احتجاج کا امکان ہے۔




