لیپہ ویلی (کشمیر ڈیجیٹل) آزاد کشمیر کی تحصیل بلوچ میں تاجروں کی جانب سے شٹر ڈاؤن اور پہیہ جام کی کال پر عمل نہ کرنا کالعدم جوائنٹ عوامی ایکشن کمیٹی کی قیادت کیلئے لمحۂ فکریہ ہے۔
تمام دکانیں کھلی ر کھنے کا فیصلہ اس بات کی نشاندہی کرتا ہے کہ مسلسل ہڑتالوں اور کاروباری تعطل سے عام عوام معاشی مشکلات کا شکار ہو رہے ہیں۔
مزید یہ بھی پڑھیں:مظفرآباد: کالعدم جوائنٹ عوامی ایکشن کمیٹی کی ہڑتال کال مسترد ،زندگی رواں دواں
عوام اب سوال اُٹھا رہے ہیں کہ دھرنوں اور لاک ڈاؤن سے مسائل حل ہو رہے ہیں یا روزگار، کاروبار اور ریاستی معیشت کو مزید نقصان پہنچ رہا ہے۔
ناقدین کے مطابق، ایسی صورتِ حال کو بھارت تحریکِ آزادی کشمیر کے مؤقف کے خلاف استعمال کر سکتا ہے۔
اب کالعدم جوائنٹ عوامی ایکشن کمیٹی کی قیادت کو ایسی حکمتِ عملی پر غور کرنا ہوگا جس سے عوام کے حقوق بھی حاصل ہوں ۔
روزگار اور معیشت بھی محفوظ رہیں اور تحریکِ آزادی کشمیر کے مؤقف کو بھی نقصان نہ پہنچے۔
مسلسل احتجاجی سرگرمیوں کا سب سے بڑا بوجھ بالآخر عام عوام کو ہی برداشت کرنا پڑتا ہے۔
مسلسل احتجاجی سرگرمیوں کا سب سے زیادہ بوجھ بالآخر عام شہریوں، چھوٹے تاجروں اور مزدور طبقے کو برداشت کرنا پڑتا ہے۔
مزید یہ بھی پڑھیں:کالعدم جوائنٹ عوامی ایکشن کمیٹی کا پی ٹی آئی کے ساتھ مارچ: عوامی مفاد یا سیاسی گٹھ جوڑ؟
تحصیل بلوچ میں تاجروں کے فیصلے نے احتجاجی طریقۂ کار اور معاشی تحفظ کے درمیان توازن قائم کرنے کی ضرورت کو ایک بار پھر اجاگر کردیا ہے۔




