راہول گاندھی کا دھرنا، مودی سرکار گھٹنے ٹیکنے پر مجبور ہو گئی

ممبئی:اپوزیشن لیڈر راہول گاندھی کے احتجاج پر مودی سرکار نئی دہلی میں 20 جولائی کے احتجاج کے دوران زخمی ہونے والے طالب علم کی ایف آئی آر درج کرنے پر مجبور ہوگئی۔

نجی ٹی وی کے مطابق ساحل لوچاب نامی نوجوان 20 جولائی کو پارلیمنٹ کی جانب مارچ کرنے والے احتجاجی مظاہرین میں شامل تھا جب اسے پیلٹ گن کے چھرے لگے تھے۔

یہ بھی پڑھیں:بھارت میں پرامن احتجاج جرم بن گیا، راہول گاندھی،پریانکا گاندھی گرفتار

یہ چھرے مبینہ طور پر پولیس نے مظاہرین کو منتشر کرنے کے لیے چلائے تھے۔ نوجوان کو شدید زخمی حالت میں پہلے لیڈی ہارڈنگ میڈیکل کالج لے جایا گیا تھا۔

آنکھ بری طرح متاثر ہونے کے باعث آل انڈیا انسٹی ٹیوٹ آف میڈیکل سائنسز منتقل کیا گیا اور اس کی آنکھ کا آپریشن بھی ہوا تاہم ایک آنکھ کی بینائی تاحال متاثر ہے۔

اس نوجوان نے مودی سرکار کی اس بربریت کے خلاف مقدمہ درج کرانے کی کوشش کی لیکن ناکام رہا تھا جس پر کانگریس کے رہنما اور قائد حزب اختلاف راہول گاندھی پولیس اسٹیشن کے باہر دھرنے پر بیٹھ گئے تھے۔

اس دوران بھی مودی سرکار نے روایتی ہٹ دھرمی کا مظاہرہ کیا اور راہول گاندھی کو بھی تشدد کا نشانہ بنایا گیا تھا تاہم احتجاجی مظاہرین ٹس سے مس نہ ہوئے۔ جس کے بعد دہلی پولیس نے جمعہ کو پیلٹ گن سے زخمی 19 سالہ طالب علم ساحل لوچاب کے معاملے میں ایف آئی آر درج کرلی۔

یہ بھی پڑھیں:پاکستانی فضائی حدود کی بندش، بھارتی ایئرلائنز کو اربوں ڈالر کا نقصان

پولیس کا کہنا ہے کہ متاثرہ طالب علم کی شکایت، طبی رپورٹ اور دیگر متعلقہ دستاویزات حاصل کرنے کے بعد نامعلوم افراد کے خلاف مقدمہ درج کیا گیا ہے۔

نئی دہلی پولیس نے بتایا کہ اگر تفتیش کے دوران ثابت ہوگیا کہ پیلٹ گولیاں اہلکاروں نے ماری تھیں تو تادیبی کارروائی بھی کی جائے گی۔