میرپور (کشمیر ڈیجیٹل)آزادکشمیر میں کالعدم ایکشن کمیٹی کی مبینہ سرگرمیوں میں اضافے اور مختلف اضلاع و تحصیلوں میں جتھوں کی تشکیل سے متعلق اہم انکشافات سامنے آئے ہیں۔
ذرائع کا دعویٰ ہے کہ کالعدم ایکشن کمیٹی نے اپنے شرپسندوں کو ضلع اور تحصیل کی سطح پر منظم کرنا شروع کردیا جبکہ ’’بی پلان‘‘ کے تحت آزادکشمیر میں بدامنی اور انتشار کو مزید ہوا دینے کی تیاری کی جارہی ہے۔
ذرائع کے مطابق بی پلان کے تحت بیرونِ ملک، بالخصوص بھارت سے وابستہ بعض عناصر کی کالعدم ایکشن کمیٹی سے رابطوں کے شواہد سامنے آئے ہیں۔
مزید یہ بھی پڑھیں:امتیاز اسلم مسلح جتھوں کا سرغنہ ، قانون سے نہیں بچ سکتا، ڈی ایس پی کوٹلی چوہدری مہدی
ذرائع کے مطابق بھارتی کارندوں کا کالعدم ایکشن کمیٹی کے شرپسندوں سے رابطوں کا مقصد آزادکشمیر میں امن و امان کی صورتحال کو متاثر کرنا اور قانون نافذ کرنے والے اداروں کے خلاف کارروائیوں کیلئے ایک منظم نیٹ ورک تیار کرنا ہے۔
ذرائع کے مطابق بھارتی کارندوں نے کالعدم ایکشن کمیٹی کی قیادت میں شامل سردار امان اور خواجہ مہران سے رابطہ کیا اور انہیں بھاری رقوم فراہم کردی ہیں۔
ذرائع کے مطابق اس رقم کو مبینہ طور پر اسلحہ اور دیگر ضروری سامان کی خریداری کیلئے استعمال کرنے کی تیاری کی جارہی ہے۔
ذرائع کا مزید کہنا ہے کہ کالعدم ایکشن کمیٹی سے وابستہ عناصر نے مختلف علاقوں میں اپنے مبینہ جتھوں کو منظم کرنے کیلئے جنگلات اور پہاڑی علاقوں کا انتخاب کیا ہے۔
ان مقامات کو اس لئے استعمال کیا جارہا ہے تاکہ قانون نافذ کرنے والے اداروں کی نقل و حرکت پر نظر رکھنے اور کسی ممکنہ کارروائی کی صورت میں دشوار گزار علاقوں سے فائدہ اٹھایا جاسکے۔
مزید یہ بھی پڑھیں:کشمیر ڈیجیٹل نے آزادکشمیر میں شرپسندوں سے برآمد اسلحے کا سراغ لگالیا
ٹی ٹی پی سے رابطوں کا انکشاف
ذرائع کے مطابق کالعدم تحریک طالبان پاکستان (ٹی ٹی پی) کے ایک اہم مبینہ کارندے کی سردار امان اور خواجہ مہران سے ملاقات بھی ہوئی ہے۔
ذرائع کے مطابق اس ملاقات میں ریاست مخالف سرگرمیوں، مبینہ کارروائیوں اور مستقبل کے مختلف آپشنز پر تبادلہ خیال کیا گیا۔
اس ملاقات کا مقصد مختلف گروہوں کے درمیان رابطہ کاری کو بڑھانا اور آزادکشمیر میں موجودہ صورتحال سے فائدہ اٹھاتے ہوئے کشیدگی میں اضافہ کرنا تھا۔




