چپڑ کے مقام پر سڑک کی بندش کے دوران پیش آنے والے فائرنگ کے واقعے میں عثمان کی ہلاکت سے متعلق عینی شاہد بدر الاسلام کا بیان سامنے آگیا ہے۔
آزاد کشمیر میں کالعدم ایکشن کمیٹی کی 4اکتوبر کی احتجاجی کال کے دوران چپڑ کے مقام پر ستملہ سکیم (آمنہ) کے رہائشی بدر الاسلام ولد لطیف الرحمان کے مطابق وہ اُس وقت سڑک بند کرنیوالے افراد میں موجود تھا۔
مزید یہ بھی پڑھیں:بھارتی فنڈنگ،کالعدم ایکشن کمیٹی کے دھرنے میں شرپسندوں کی موجودگی کا انکشاف
اس کے بقول پولیس کے موقع پر پہنچنے کے بعد وہاں موجود افراد منتشر ہوگئےجبکہ وہ اپنی جان بچانے کیلئے قریب ہی زیرِ تعمیر کمروں میں چھپ گیا۔
عینی شاہد نے بتایا کہ پولیس کی جانب سے سڑک پر موجود رکاوٹیں اور پتھر ہٹا کر راستہ بحال کرنے کا عمل شروع کیا گیا تو وہ بھی پولیس اہلکاروں کے ساتھ سڑک سے پتھر ہٹانے میں مدد کرنے لگا۔
بدر الاسلام کے مطابق پولیس ٹیم سڑک صاف کرتے ہوئے دوسرے یا تیسرے موڑ کے قریب پہنچی تو پہاڑی کی جانب سے اچانک شدید سنگ باری اور فائرنگ شروع ہوگئی۔
عینی شاہد نے دعویٰ کیا کہ فائرنگ پہاڑی پر موجود نعیم کونسلر اور ان کے ساتھ موجود مسلح افراد کی جانب سے کی گئی۔
اس دوران فائرنگ کی زد میں آکر نوجوان عثمان کے سینے میں گولی لگی، جس کے نتیجے میں وہ شدید زخمی ہو کر موقع پر گر پڑا۔
عینی شاہد کے مطابق فائرنگ کے ماحول میں پولیس نے کور فراہم کرتے ہوئے زخمیوں اوردیگر افراد کو گاڑیوں کے ذریعے محفوظ مقام پر منتقل کیا، تاہم عثمان شدید زخمی ہونے کے باعث جانبر نہ ہوسکا۔
مزید یہ بھی پڑھیں:میرپور:سکول اور یونیورسٹی کے طلباء سڑکوں پرآگئے، شدید احتجاج، کوٹلی روڈ بند
بدر الاسلام نے اپنے بیان میں دعویٰ کیا کہ عثمان کی ہلاکت پہاڑی کی جانب سے ہونے والی فائرنگ کے نتیجے میں ہوئی۔




