مظفرآباد : فوڈ اتھارٹی نے عوام الناس کی صحت سے کھیلنے والے عناصر کے خلاف کریک ڈاؤن کرتے ہوئے مظفرآباد میں واقع کشمیر کرسٹل واٹرنامی واٹر فلٹریشن و بوٹلنگ پلانٹ کو فوری طور پر سیل کر کے تیار شدہ تمام اسٹاک ضبط کر لیا۔
تفصیلات کے مطابق، ڈسٹرکٹ فوڈ کنٹرولر / فوڈ سیفٹی آفیسر مظفرآباد نے ہمراہ فوڈ سیفٹی ٹیم مذکورہ واٹر پلانٹ سے پانی کا سرکاری نمونہ حاصل کر کے مائیکرو بائیولوجیکل تجزیے کے لیے پاکستان کونسل آف ریسرچ ان واٹر ریسورسز (PCRWR) کی لیبارٹری بھیجا تھا۔
یہ بھی پڑھیں:مظفرآباد کے معروف ہوٹل میں صفائی کے ناقص انتظامات پر فوڈ اتھارٹی کا سخت ایکشن
پی سی آر ڈبلیو آر کی جاری کردہ لیبارٹری ٹیسٹ رپورٹ کے مطابق پانی کے نمونے میں انسانی صحت کے لیے انتہائی مضر اور بیماریوں کا سبب بننے والے بیکٹیریا ٹوٹل کوليفارم (Total Coliforms) کی موجودگی پائی گئی۔
آزاد کشمیر پیور فوڈ ریگولیشنز 2019ء اور PSQCA کے طے شدہ معیار کے مطابق پینے کے پانی میں کوليفارم جراثیم کی مقدار بالکل صفر (0 CFU/100 mL) ہونی چاہیے۔ لیبارٹری نے مائکرو بائیولوجیکل ٹیسٹ کی بنیاد پر کشمیر کرسٹل واٹر کو باضابطہ طور پر غیر محفوظ (UNSAFE) قرار دیا ہے۔
مائیکرو بائیولوجیکل کنٹیمینیشن ثابت ہونے پر ڈسٹرکٹ فوڈ کنٹرولر مظفرآباد نے آزاد جموں و کشمیر فوڈ اتھارٹی ایکٹ 2017ء کے تحت واٹر پلانٹ کو سیل کر دیا ہے۔
اسسٹنٹ فوڈ سیفٹی افسران (AFSOs) پر مشتمل ٹیموں کو ہدایت کی گئی ہے کہ وہ واٹر پلانٹ کی پیداوار اور سپلائی کو فوری طور پر بند کروتے ہوئے مارکیٹ اور فیکٹری میں موجود تمام تر واٹر باٹلز اور کینز کو قبضے میں لے کر تلف کریں۔
یہ بھی پڑھیں:فوڈ اتھارٹی مظفرآباد کی زیرو پوائنٹ پر کارروائی، غیر معیاری دودھ ضبط
فوڈ اتھارٹی حکام کا کہنا ہے کہ آزاد کشمیر کے شہریوں کو پاک و صاف اور معیاری پینے کا پانی اور خوراک فراہم کرنا ہماری اولین ترجیح ہے اور ملاوٹ یا غیر معیاری اشیاء کی فروخت پر کسی قسم کا سمجھوتہ نہیں کیا جائے گا۔




