سرینگر(کشمیر ڈیجٹل) بھارت کے زیر قبضہ جموں وکشمیر میں تقریباً 61 ہزار عارضی سرکاری ملازمین نے مستقل کرنے کے دیرینہ مطالبے کے حق میں قانون سازاسمبلی کا گھیراو کرنے کا اعلان کردیا۔
کشمیر میڈیا سروس کے مطابق ڈیلی ویجرز فورم کے صدر سجاد احمد پرے نے سرینگر میں ایک پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ یومیہ اُجرت پر کام کرنیوالے ہزاروں ملازمین دو دہائیوں سے زائد عرصے سے مختلف محکموں میں خدمات انجام دے رہے ہیں،
انہوں نے کہا کہ اب بھی مستقل کرنے کیلئے ٹھوس اور مقررہ مدت پر مبنی پالیسی کے منتظر ہیں۔انتظامیہ نے 11 مارچ 2025 کو چیف سیکرٹری کی سربراہی میں ایک کمیٹی تشکیل دی تھی، جسے چھ ماہ کے اندر مستقل کرنے کیلئے سفارشات اور لائحہ عمل پیش کرنے کی ہدایت کی گئی تھی۔
سجادپرے نے قانون ساز اسمبلی میں وزیراعلیٰ عمر عبداللہ کی جانب سے رکن اسمبلی محمد یوسف تاریگامی کے سوال کے جواب میں دی گئی یقین دہانی کا بھی حوالہ دیا،
مزید یہ بھی پڑھیں:وزیراعظم افتخار گیلانی سے حنیف ملک کی ملاقات، اہم تجاویز پیش
اس یقین دھانی میں کہا گیا تھا کہ موجودہ مالی سال کے دوران مرحلہ وار طریقے سے مستقل کرنے کا عمل شروع کیا جائے گا۔
لیکن کافی وقت گزرنے کے باوجود کمیٹی کی رپورٹ یا ملازمین کو مستقل کرنے کے لیے کسی ٹھوس لائحہ عمل کے حوالے سے کوئی وضاحت موجود نہیں ہے۔
انہوں نے کہا کہ اسمبلی میں حکومت کے حالیہ جواب سے ہزاروں متاثرہ ملازمین اور ان کے خاندان مایوس ہوئے ہیں۔
ان کا کہنا تھا کہ واضح طریقہ کار کے بغیر بار بار دی جانے والی یقین دہانیوں نے غیر یقینی صورتحال کو مزید گہرا کر دیا ہے۔
سجادپرے نے کہا کہ یہ مسئلہ محض روزگار کا معاملہ نہیں بلکہ اس کے وسیع تر انسانی اور سماجی پہلو بھی ہیں، کیونکہ ہزاروں خاندان ان ملازمین پر انحصار کرتے ہیں۔
مزید یہ بھی پڑھیں:سرکاری ملازمین کی تعلیمی اسناد کی تصدیق 100 روزہ پلان میں شامل کرنے کا مطالبہ
انہوں نے سیاسی جماعتوں، ٹریڈ یونینوں، مذہبی رہنماوں، سول سوسائٹی کی تنظیموں اور معاشرے کے تمام طبقات سے اپیل کی کہ وہ 28 ستمبر کے احتجاج میں شرکت کریں۔
انہوں نے کہاکہ یومیہ اجرت پر کام کرنے والے ملازمین نے اپنی زندگی کے انتہائی اہم اور قیمتی سال عوام اور حکومت کی خدمت میں گزارے ہیں۔
ان کا طویل عرصے سے زیر التوا مطالبہ مقررہ مدت کے اندر انسانی ہمدردی کی بنیاد پر حل کئے جانے کا مستحق ہے۔
انہوں نے مقبوضہ جموں و کشمیر کے مفتی اعظم اور مذہبی برادری سے بھی اپیل کی کہ وہ اس مسئلے کو اٹھائیں اور اس کے انسانی پہلو کو اجاگر کریں۔




