تہران(کشمیر ڈیجیٹل) ایران کی پاسدارانِ انقلاب بحریہ نے دعویٰ کیا ہے کہ اس نے آبنائے ہرمز میں ایک امریکی بغیر پائلٹ زیرِ آب گاڑی (AUV) ریموس 600 کو قبضے میں لے لیا ہے۔
رائٹرز کے مطابق ایرانی پاسدارانِ انقلاب نے امریکی زیرِ آب گاڑی کو مبینہ طور پر جاسوسی سرگرمیوں میں ملوث قرار دیا ہے۔ ایرانی سرکاری میڈیا کا کہنا ہے کہ ریموس 600 کو ایک مربوط اور پیچیدہ انٹیلی جنس کارروائی کے دوران روکا گیا۔
مزید یہ بھی پڑھیں:سرینگر: ہزاروں عارضی ملازمین کا اسمبلی کا گھیراو کرنے کا اعلان
پاسدارانِ انقلاب بحریہ کے مطابق امریکی خودکار زیرِ آب گاڑی آبنائے ہرمز میں مبینہ جاسوسی سرگرمیوں میں مصروف پائی گئی، جس کے بعد ایرانی ماہرین نے اسے اپنی تحویل میں لے کر اس کا تکنیکی معائنہ شروع کردیا ہے۔
ایرانی حکام کا کہنا ہے کہ ماہرین زیرِ آب گاڑی سے حاصل ہونے والے ڈیٹا اور دیگر معلومات کا جائزہ لے رہے ہیں، جبکہ اس میں موجود معلومات تک رسائی حاصل کرنے کی بھی کوشش کی جا رہی ہے۔
ایرانی پاسدارانِ انقلاب نے مزید دعویٰ کیا ہے کہ آبنائے ہرمز اس وقت ’بلاک‘ ہے اور ایرانی فورسز اس اہم آبی گزرگاہ میں خطرناک سرگرمیوں اور غیر مجاز راستوں سے گزرنے والے بحری جہازوں کے خلاف کارروائیاں جاری رکھے ہوئے ہیں۔
تاہم، رائٹرز کے مطابق امریکی زیرِ آب گاڑی کو قبضے میں لیے جانے کے ایرانی دعوے کی آزادانہ طور پر تصدیق نہیں ہوسکی۔
دوسری جانب ایرانی فوج کے ترجمان محمد اکرمینیا نے سرکاری میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا ہے کہ خطے میں امریکا کی موجودہ صورتحال کے باعث واشنگٹن ایران کے خلاف دوبارہ کارروائی کرسکتا ہے۔
انہوں نے کہا کہ ایران کسی بھی ممکنہ محاذ آرائی کے لیے تیار ہے اور اس کے پاس امریکا کو پہلے سے زیادہ نقصان پہنچانے کی صلاحیت موجود ہے۔
ریموس 600 کیا ہے؟
ریموس 600 ایک خودکار زیرِ آب گاڑی (AUV) ہے، جسے سمندری نگرانی، زیرِ آب سروے، ڈیٹا اکٹھا کرنے اور دیگر سمندری و زیرِ آب مشنز کے لیے استعمال کیا جاتا ہے۔




