اسلام آباد(کشمیر ڈیجیٹل) وزیراعظم شہباز شریف سے پمز آتشزدگی کے دوران اپنی جان خطرے میں ڈال کر نومولود کی جان بچانے والی نرس رضیہ نورین نے ملاقات کی۔
وزیراعظم نے نرس کی بہادری، ہمت اور فرض شناسی کو سراہتے ہوئے انہیں ایک کروڑ روپے کا چیک دیا اور 23 مارچ کو تمغۂ خدمت دینے کا اعلان بھی کیا۔
ملاقات کے دوران وزیراعظم شہباز شریف نے رضیہ نورین کی بہادری کو سراہتے ہوئے کہا کہ قوم ان کی ہمت اور جذبے کی معترف ہے۔ وزیراعظم نے کہا کہ مشکل اور خطرناک حالات میں اپنی جان کی پروا کیے بغیر نومولود کی زندگی بچانا ایک عظیم عمل ہے۔
شہباز شریف نے کہا کہ عظیم مقصد کے لیے اپنی جان خطرے میں ڈال کر نومولود کی جان بچانا عظیم عمل ہے۔ انہوں نے رضیہ نورین سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ ان کے اس نیک عمل پر اللہ تعالیٰ انہیں بہت اجر عطا فرمائے گا۔
مزید یہ بھی پڑھیں:یومِ دفاع پاکستان: اسلام آباد سے مظفرآباد کاروانِ کشمیر کار ریلی کا انعقاد
وزیراعظم نے کہا کہ پوری قوم کو رضیہ نورین پر فخر ہے اور قوم کی بیٹی کا یہ کارنامہ سنہری حروف میں لکھا جائے گا، ان کا کہنا تھا کہ رضیہ نورین نے اپنی پیشہ ورانہ ذمہ داری کے ساتھ ساتھ انسانیت اور بہادری کی بھی مثال قائم کی ہے۔
وزیراعظم شہباز شریف نے کہا کہ پوری قوم رضیہ نورین کو خراج تحسین پیش کرتی ہے اور ایسے بہادر افراد ملک کا فخر ہیں۔
وزیراعظم شہباز شریف نے نرس رضیہ نورین کی خدمات کے اعتراف میں اعلان کیا کہ انہیں 23 مارچ کو تمغۂ خدمت سے نوازا جائے گا۔
وزیراعظم نے کہا کہ رضیہ نورین نے جس حوصلے اور جذبے کے ساتھ نومولود کی جان بچائی، وہ قابل تحسین ہے اور قومی سطح پر ان کی خدمات کا اعتراف کیا جانا چاہیے۔
وزیراعظم شہباز شریف نے ملاقات کے دوران نرس رضیہ نورین کو ایک کروڑ روپے کا چیک بھی دیا، وزیراعظم نے کہا کہ حکومت ایسے افراد کی حوصلہ افزائی جاری رکھے گی جو اپنی جان کی پروا کیے بغیر دوسروں کی زندگی بچانے اور انسانیت کی خدمت کے لیے آگے بڑھتے ہیں۔
نرس رضیہ نورین نے حوصلہ افزائی اور پذیرائی پر وزیراعظم شہباز شریف کا شکریہ ادا کیا۔ انہوں نے وزیراعظم کی جانب سے ان کی خدمات کے اعتراف کو اپنے لیے باعثِ اعزاز قرار دیا۔
رضیہ نورین کا کہنا تھا کہ نومولود کی جان بچانا ان کی ذمہ داری تھی اور مشکل وقت میں ایک نرس کی حیثیت سے انہوں نے اپنا فرض ادا کیا۔
وزیراعظم شہباز شریف نے اس موقع پر ایک مرتبہ پھر رضیہ نورین کی ہمت اور جذبے کو سراہتے ہوئے کہا کہ ان کا اقدام نہ صرف قابل تحسین ہے بلکہ معاشرے کے لیے انسانیت، فرض شناسی اور بہادری کی روشن مثال بھی ہے۔
مزید یہ بھی پڑھیں:حریت رہنما یاسین ملک کا مقدمات کا دفاع نہ کرنے کا فیصلہ
پمز اسپتال میں پیش آنے والے آتشزدگی کے واقعے کے دوران اسپتال کی نرسری میں آگ لگنے سے دھواں پھیل گیا جس کے نتیجے میں 14 بچے جاں بحق ہو گئے۔
اس موقع پر نرس رضیہ نورین نے اپنی جان کی پروا کیے بغیر نومولود کو محفوظ مقام تک پہنچانے کے لیے غیر معمولی ہمت کا مظاہرہ کیا، آگ اور دھویں کے باوجود نومولود کی جان بچانے کے لیے رضیہ نورین کی کوشش نے انہیں قومی سطح پر پذیرائی دلائی۔
جس وقت اسپتال میں آگ پھیلی اس وقت انکیوبیٹر ز میں پندرہ بچے موجود تھے، نرس رضیہ نورین ایک بچے کو بچانے میں کامیاب رہیں۔




