راولاکوٹ: راولاکوٹ میں فائرنگ کے واقعے کے حوالے سے بھارتی خفیہ ایجنسی ’’را‘‘ سے منسلک ایک سوشل میڈیا اکاؤنٹ اور کالعدم قرار دی گئی عوامی ایکشن کمیٹی کے واٹس ایپ گروپس کے درمیان مبینہ رابطے کا انکشاف سامنے آیا ہے۔
مزید یہ بھی پڑھیں:نیلم ویلی:کالعدم ایکشن کمیٹی کے ناپاک عزائم خاک میں ملا دیئے
ذرائع کے مطابق بھارتی خفیہ ایجنسی ’’را‘‘ سے منسلک قرار دیے جانے والے ایک اکاؤنٹ نے راولاکوٹ میں فائرنگ واقعے سے متعلق رات تقریباً 8 بجے ایک پیغام/ٹویٹ جاری کیا، جس کے تقریباً ڈیڑھ گھنٹے بعد اسی نوعیت کا بیانیہ عوامی ایکشن کمیٹی سے منسلک واٹس ایپ گروپس میں گردش کرنے لگا۔

دونوں مقامات پر استعمال ہونے والے بیانیے میں مماثلت محض اتفاق نہیں بلکہ ممکنہ رابطے یا معلومات کی بروقت منتقلی کی جانب اشارہ کرتی ہے۔
راولاکوٹ میں حالیہ کشیدگی کے دوران فائرنگ کے واقعات رپورٹ ہوئے ہ جبکہ کالعدم جوائنٹ عوامی ایکشن کمیٹی کے کارکنوں پر سکیورٹی فورسز کی جانب سے فائرنگ کے بے بنیاد الزامات عائد کئے گئے ہیں

ذرائع کا کہنا ہے کہ سوشل میڈیا اکاؤنٹس اور واٹس ایپ گروپس کے درمیان پیغامات کے اوقات، متن اور مواد کی مماثلت مزید شواہد کو مضبوط کرتی ہے کہ کالعدم ایکشن کمیٹی کے پیچھے بیرونی ہاتھ ہے ۔
اس مبینہ رابطے، بھارتی خفیہ ایجنسی سے منسلک اکاؤنٹ اور واٹس ایپ گروپس تک ممکنہ رسائی کے حوالے سے شہریوں میں کالعدم ایکشن کمیٹی کیخلاف مزید تشویش بڑھانے لگی۔
واضح رہے کہ جوائنٹ عوامی ایکشن کمیٹی کے احتجاج اور اس سے متعلق واقعات پر بھارتی اکائونٹس سے مسلسل تین ماہ سے سکیورٹی فورسز کیخلاف پروپیگنڈا کیا جارہا ہے ۔




