آبنائے ہرمز کو دوبارہ کھولنے سے متعلق غیر یقینی صورتحال برقرار رہنے کے باعث عالمی منڈی میں خام تیل کی قیمتوں میں اضافہ ہوگیا۔
میڈیا رپورٹس کے مطابق ایشیائی مارکیٹ میں پیر کی صبح ہونے والی تجارت کے دوران خام تیل کی قیمتوں میں تیزی دیکھی گئی جس کے نتیجے میں عالمی سطح پر توانائی کی مارکیٹ میں ایک بار پھر بے یقینی کی کیفیت پیدا ہوگئی ہے۔
یہ بھی پڑھیں:ترکش کمپنی سمندری حدود میں تیل وگیس کے ذخائر تلاش کریگی، وزیر پیٹرولیم
برینٹ خام تیل کی قیمت ایک فیصد سے زائد اضافے کے بعد 84 ڈالر فی بیرل سے تجاوز کرگئی جبکہ امریکی خام تیل کی قیمت میں بھی ایک فیصد سے زیادہ اضافہ ریکارڈ کیا گیا۔
دنیا کی اہم ترین آبی گزرگاہوں میں شمار ہونے والی آبنائے ہرمز کے مستقبل کے حوالے سے صورتحال تاحال واضح نہیں ہوسکی ہے۔
عالمی توانائی کی منڈی میں تیل کی قیمتوں کے حوالے سے آبنائے ہرمز کی صورتحال کو انتہائی اہم سمجھا جاتا ہے کیونکہ اس آبی گزرگاہ سے عالمی سطح پر تیل کی بڑی مقدار کی ترسیل ہوتی ہے۔
یاد رہے کہ ایران کی سپریم نیشنل سکیورٹی کونسل نے آبنائے ہرمز کی ناکہ بندی ختم کرنے کے لیے امریکا سے جنگ کا ہرجانہ ادا کرنے سمیت 6 نئی شرائط پیش کردی ہیں۔
ایرانی سپریم نیشنل سکیورٹی کونسل کے سیکرٹری محمد باقر ذوالقدر نے نئی شرائط پیش کرتے ہوئے کہا ہے کہ امریکا جنگ کا ہرجانہ ادا کرے اور آبنائے ہرمز کی ناکہ بندی ختم کی جائے۔
محمد باقر ذوالقدر کے مطابق دوسری شرط یہ ہے کہ ایران چاہتا ہے کہ امریکا سب سے پہلے ایران اور اس کی مقدس اقدار کے خلاف دھمکیاں دینا بند کرے۔
تیسری شرط یہ ہے کہ تہران کے خلاف فوجی کارروائی کے ساتھ ساتھ خطے میں ایران کے اتحادیوں کے خلاف فوجی کارروائیاں بھی مستقل طور پر روک دی جائیں۔
یہ بھی پڑھیں:امریکا مفاہمت کی یادداشت کی خلاف ورزیوں کا ازالہ کرے، ایرانی وزیر خارجہ
محمد باقر ذوالقدر نے چوتھی شرط کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ امریکا آبنائے ہرمز کی ناکہ بندی میں شامل اپنی بحری اور فضائی افواج کو علاقے سے واپس بلائے۔
اس کے علاوہ پانچویں اور چھٹی شرط یہ رکھی گئی کہ ایران پر عائد امریکی پابندیاں ختم کی جائیں اور بیرونِ ملک منجمد کیے گئے ایرانی اثاثے بھی بحال کیے جائیں۔
محمد باقر ذوالقدر نے کہا کہ سپریم نیشنل سکیورٹی کونسل جنگ ہو یا مذاکرات، ان مطالبات سے پیچھے نہیں ہٹے گی۔



