نیشنل ڈیٹا بیس اینڈ رجسٹریشن اتھارٹی (نادرا) نے خواتین کے لیے ایک بڑی اور اہم سہولت کا اعلان کیا ہے، جس کے تحت اب برتھ سرٹیفکیٹ کے بغیر بھی شناختی کارڈ بنوایا جا سکتا ہے۔ نادرا کی جانب سے یہ خصوصی اقدام شادی شدہ اور غیر شادی شدہ خواتین کو درپیش مشکلات کو مدنظر رکھتے ہوئے اٹھایا گیا ہے۔
کن خواتین کو یہ سہولت ملے گی اور طریقہ کار کیا ہے؟
نادرا کے مطابق یہ سہولت 18 سال سے زائد عمر کی ان تمام خواتین کے لیے ہے جن کے پاس برتھ سرٹیفکیٹ موجود نہیں ہے۔ وہ اب چند مخصوص شرائط کو پورا کر کے اپنا شناختی کارڈ بنوا سکیں گی۔ شادی شدہ خواتین کے لیے طریقہ کار یہ ہے کہ وہ کمپیوٹرائزڈ نکاح نامہ جمع کروا کر درخواست دے سکتی ہیں، تاہم اس کے لیے لازمی شرط یہ ہے کہ درخواست گزار خاتون کے شوہر یا والدین میں سے کسی ایک کا بائیومیٹرک تصدیق کے لیے موجود ہونا ضروری ہوگا۔
یہ بھی پڑھیں: نادرا کا بیرون ملک مقیم پاکستانیوں کے لیے اہم انتباہ، غیر مجاز ایجنٹس سے دور رہنے کی ہدایت
غیر شادی شدہ خواتین کے لیے نادرا نے آسان راستہ یہ نکالا ہے کہ اگر ان کے پاس والدین، بہن یا بھائی کا شناختی کارڈ موجود ہو تو وہ اس بنیاد پر اپنا کارڈ بنوا سکتی ہیں۔ البتہ اس کے لیے بھی یہ شرط رکھی گئی ہے کہ خاتون کے والدین یا بہن بھائی میں سے کوئی ایک بائیومیٹرک تصدیق کے وقت ذاتی طور پر موجود ہو۔
آخری تاریخ اور اہم ہدایات:
یاد رہے کہ نادرا کی یہ خصوصی سہولت مستقل نہیں بلکہ محدود مدت کے لیے ہے، جو 31 دسمبر 2026 تک برقرار رہے گی۔ اس تاریخ کے بعد اس کا اطلاق ختم ہو جائے گا، لہٰذا جو خواتین اس سہولت سے فائدہ اٹھانا چاہتی ہیں انہیں چاہیے کہ وہ مقررہ مدت کے اندر اپنے قریبی نادرا سینٹر سے لازمی رجوع کریں۔ یہ سہولت ان خواتین کے لیے بالخصوص انتہائی اہم ہے جو برتھ سرٹیفکیٹ نہ ہونے کے باعث اب تک شناختی کارڈ کے حصول میں مشکلات کا شکار تھیں۔




