ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی نے کہا ہے کہ موجودہ صورتحال امریکا کی جانب سے مفاہمت کی یادداشت کی خلاف ورزیوں کا نتیجہ ہے اور واشنگٹن کو ان خلاف ورزیوں کا ازالہ کرنا ہوگا۔
اپنے ایک بیان میں ایرانی وزیر خارجہ نے کہا کہ امریکا کی جانب سے مفاہمت کی یادداشت میں کیے گئے وعدوں اور طے شدہ نکات کی خلاف ورزیوں کے باعث موجودہ صورتحال پیدا ہوئی۔
انہوں نے واضح کیا کہ ایران کی جانب سے معاملے کو آگے بڑھانے کیلئے امریکا کو پہلے اپنی خلاف ورزیوں کا ازالہ کرنا ہوگا۔
عباس عراقچی نے آبنائے ہرمز کی صورتحال پر بھی بات کرتے ہوئے بتایا کہ ایران اور عمان کے درمیان عارضی جہاز رانی کے راستے سے متعلق بات چیت جاری ہے۔
ان کے مطابق دونوں ممالک کسی ممکنہ معاہدے کے بہت قریب پہنچ چکے ہیں اور اس حوالے سے مذاکرات میں پیش رفت ہوئی ہے۔
مزید یہ بھی پڑھیں:ایران جنگ جلد ختم ہونے والی ہے، تیل کی قیمتیں مزید کم ہوں گی: صدرٹرمپ
ایرانی وزیر خارجہ نے تاہم واضح کیا کہ عمان کے ساتھ عارضی جہاز رانی کے راستے پر اتفاق کو آبنائے ہرمز کے مکمل طور پر دوبارہ کھلنے سے تعبیر نہیں کیا جاسکتا۔
ان کا کہنا تھا کہ آبنائے ہرمز کو معمول کی جہاز رانی کے لیے دوبارہ کھولنے کا فیصلہ دیگر اہم عوامل اور مجموعی صورتحال کو مدنظر رکھتے ہوئے کیا جائے گا۔
ایران کے وزیر خارجہ کے بیان کے مطابق آبنائے ہرمز میں جہاز رانی کے حوالے سے کسی بھی پیش رفت کا انحصار صرف ایران اور عمان کے درمیان ہونے والی بات چیت پر نہیں بلکہ دیگر متعلقہ معاملات پر بھی ہوگا۔
ایرانی وزیر خارجہ نے اس بات پر زور دیا کہ موجودہ صورتحال کے حل کے لیے امریکا کو اپنی ذمہ داری پوری کرنا ہوگی اور مفاہمت کی یادداشت کی خلاف ورزیوں کا ازالہ کرنا ہوگا۔
آبنائے ہرمز عالمی تجارت اور توانائی کی ترسیل کیلئے ایک اہم سمندری گزرگاہ ہے، جہاں کسی بھی قسم کی رکاوٹ سے خطے کیساتھ ساتھ عالمی منڈیوں پر بھی اثرات مرتب ہوسکتے ہیں۔
مزید یہ بھی پڑھیں:ایرانی اسپیکر اورچیف مذاکرات کار باقر قالیباف کا ٹرمپ کے بیانات پر ردِعمل، مذاکرات کی پیشکش
ایران اور عمان کے درمیان عارضی جہاز رانی کے راستے سے متعلق ممکنہ معاہدہ اسی تناظر میں اہم پیش رفت قرار دیا جارہا ہے۔




