کیا سردار تنویر الیاس بھی آزادکشمیر کے جہانگیر ترین بننے جا رہے ہیں؟

اسلام آباد( عامر اقبال ہاشمی سے)آزادکشمیر انتخابات کے پہلے مرحلے کے بعد دوسرے مرحلے میں بھی استحکام پاکستان پارٹی کے امیدوار مکمل ناکام ہو گئے ہیں ،استحکام پاکستان پارٹی کے صدر, سابق وزیراعظم  سردار تنویر الیاس کو بھی نیلم کے حلقہ میں عبرتناک شکست کا سامنا کرنا پڑا۔

سردار تنویر الیاس نے شکست سے دلبرداشتہ ہو کر انتخابات کے تیسرے مرحلے کےبائیکاٹ کا بھی اعلان کردیا ہے جس پر سردار تنویر الیاس کے سیاسی مستقبل پر سوالات اٹھنا شروع ہو گئے ہیں۔

سردار تنویر الیاس نے حلقہ وسطی باغ اور پاچھیوٹ سے بھی کاغذات نامزدگی جمع کروارکھے ہیں، سردار تنویر الیاس کے بائیکاٹ کے اعلان کے بعد مظفرآبادکوٹلہ سے مضبوط امیدوار سردار تبارک کو بھی بڑا جھٹکا لگنے کا امکان ہے۔

سردار تنویر الیاس نے 2021کے الیکشن میں پاکستان تحریک انصاف کے پلیٹ فارم سے سیاست کا آغاز کیا اور پاکستان تحریک انصاف کی بھرپور فنڈنگ کی ، سردارتنویر الیاس نےآبائی حلقہ کے بجائے حلقہ وسطی باغ کا انتخاب کیا اور کامیابی حاصل کرلی۔

سردار تنویر الیاس کی خواہش تھی کہ بھاری فنڈنگ کے اعتراف میں مجھے وزیراعظم بنایا جائیگا، دوسری طرف بیرسٹر سلطان محمود چوہدری بھی وزارت عظمیٰ کے امیدوار تھے جس پر بانی پی ٹی آئی عمران خان نے عبدالقیوم نیازی کو وزیراعظم نامزد کردیا۔

عبدالقیوم نیازی کے وزیراعظم بننے پر سردار تنویر الیاس کو موسٹ سینئر وزیر بنایا گیا لیکن وہ راضی نہیں ہوئے اور آخرعلی امین گنڈاپور سے مل کر اپنی ہی پارٹی کے وزیراعظم عبدالقیوم نیازی کیخلاف تحریک عدم اعتماد پیش کرکے وزیراعظم بن گئے۔

یہ بھی پڑھیں:بدترین شکست،تنویر الیاس نے الیکشن کے تیسرے مرحلے کا بائیکاٹ کردیا

سردار تنویر الیاس نے وزیراعظم ہوتے ہوئے عدلیہ پر تنقید کی جس پر انہیں آزادکشمیر ہائیکورٹ نے نااہل قرار دیدیا، نااہلی کو بعد بھی عدالت سےختم کرایا گیا، دوبارہ سیاست میں انٹری دینے پر سردار تنویر الیاس نے پی ٹی آئی سے راہیں جدا کرکے استحکام پاکستان پارٹی بنائی اور صدر بنے لیکن پذیرائی نہ ملی اور بعد میں پاکستان پیپلزپارٹی میں شامل ہو گئے۔

پاکستان پیپلزپارٹی نے ٹکٹوں کی تقسیم کے موقع پر سردار تنویر الیاس کو حلقہ وسطی باغ سے ٹکٹ دینے سے انکارکردیا جس پر انہیں مشیروں نے بغاوت کا مشورہ دیا جو غلط ثابت ہوا۔

سردار تنویر الیاس نےدوبارہ استحکام پاکستان پارٹی میں انٹری دی اورخو د3حلقوں سے الیکشن لڑنے کا اعلان کیا جبکہ 35حلقوں میں امیدوار بھی اتارے،پہلے اور دوسرے مرحلے میں کوئی بھی امیدوار کامیاب نہ ہوسکا۔

سردار تنویر الیاس نے ابتدائی طور پر انتخابات کے تیسرے مرحلے کے بائیکاٹ کا اعلان کیا ہے لیکن سیاسی مبصرین کے مطابق سردار تنویر الیاس دلبرداشتہ ہیں اور سیاست سے بھی علیحدگی اختیار کرسکتے ہیں۔

سردار تنویر الیاس کامیاب کاروباری شخصیت ہیں، اسی طرح پاکستان کی معروف کاروباری شخصیت جہانگیر خان ترین نے پی ٹی آئی آئی کی حکومت بنانے کیلئے اپنا جہاز استعمال کیا لیکن اختلافات ہونے پر علیحدگی اختیار کرکے استحکام پاکستان پارٹی بنائی تو خود بھی ہار گئے جس پر انہوں نے سیاست کو خیرآباد کہہ دیا۔

اب یہ سوال پیدا ہو رہاکہ سردار تنویر الیاس بھی سیاست میں پیسہ گنوانے کے بعد اپنے مشیروں کو چھٹی دے کر سیاست سے توبہ کر لیں گےیا پھر نیا گھونسلہ تلاش کریں گےیہ وقت ہی بتائے گالیکن فی الحال وہ سیاست میں مکمل ناکام ہو گئے۔

سیاست میں پیسہ اڑانے پرہی سردار تنویر الیاس کے اپنے خاندان کیساتھ تعلقات کشیدہ ہیں اور معاملہ عدالت میں بھی چل رہا ہے۔