یورپی ممالک جانیوالےغیر ملکی شہریوں کیلئے سخت قوانین منظور

اسلام آباد(کشمیر ڈیجیٹل): یورپی ممالک نے غیر قانونی تارکینِ وطن کیخلاف نئے سخت قوانین و قواعد منظور کردیئے ۔

نئے قوانین کے مطابق غیر ملکی شہریوں کے ویزا ختم ہونے کے بعد مزید قیام کے سنگین نتائج بھگتنا ہوں گے۔

بیورو آف امیگریشن اینڈ اوورسیز ایمپلائمنٹ کے مطابق یورپی یونین نے ایسے غیر یورپی شہریوں کی واپسی سے متعلق قواعد مزید سخت کرنے کی منظوری دیدی۔

مزید یہ بھی پڑھیں:ایس ایس پی میرپور خرم اقبال کا سود خوروں کیخلاف سخت کارروائی کا اعلان

یورپی پارلیمنٹ نے 17 جون 2026 کو واپسی کے نئے ضوابط کی منظوری دی، جن کا مقصد غیر قانونی طور پر مقیم افراد کی واپسی کے عمل کو زیادہ مؤثر بنانا ہے۔

پاکستانی شہریوں کیلئے خصوصی آگاہی

یورپی ممالک کا سفر کرنے کے خواہش مند پاکستانی شہریوں کو قانونی طریقہ اختیار کرنے کی ہدایت کی گئی ہے۔

غیر قانونی راستوں سے یورپ پہنچنے، جعلی پناہ کی درخواست دینے، سیاحتی ویزے کی شرائط کی خلاف ورزی کرنے یا ویزا اور رہائشی اجازت نامے کی مدت ختم ہونے کے بعد قیام جاری رکھنے کے نتیجے میں گرفتاری، حراست، جبری واپسی اور یورپی ممالک میں داخلے پر پابندی جیسے اقدامات کا سامنا ہوسکتا ہے۔

نئے قواعد کا اطلاق کن پر لاگو ہوگا؟

نئے قواعد کا اطلاق صرف پناہ گزینوں تک محدود نہیں ہوگا بلکہ ان تمام غیر یورپی شہریوں پر بھی ہوسکتا ہے جن کے پاس یورپی یونین میں قیام کا قانونی حق موجود نہ ہو اور جن کے خلاف متعلقہ قومی حکام واپسی کا فیصلہ جاری کرچکے ہوں۔

ان میں مسترد شدہ پناہ کے درخواست گزار، ویزا یا رہائشی اجازت نامے کی مدت ختم ہونے کے باوجود قیام کرنے والے افراد اور دیگر غیر قانونی طور پر مقیم غیر یورپی شہری شامل ہوسکتے ہیں۔

نئے نظام کے تحت کسی شخص کو واپسی کا فیصلہ موصول ہونے کے بعد فوری طور پر یا مقررہ مدت کے اندر ملک چھوڑنا ہوگا۔ متعلقہ شخص پر لازم ہوگا کہ وہ اپنی شناخت، پاسپورٹ، سفری دستاویزات اور دیگر ضروری معلومات فراہم کرکے حکام کے ساتھ تعاون کرے۔

بیورو کے مطابق متعلقہ حکام سے تعاون نہ کرنے، شناخت چھپانے، مقررہ وقت پر رپورٹ نہ کرنے یا واپسی کے عمل میں رکاوٹ ڈالنے کی صورت میں بعض سہولتیں محدود کی جاسکتی ہیں جبکہ جبری واپسی کی کارروائی بھی شروع ہوسکتی ہے۔

گرفتار بھی کیا جاسکتا ہے

نئے قواعد کے تحت ہر معاملے کا انفرادی جائزہ لینے کے بعد ایسے شخص کو حراست میں لیا جاسکتا ہے جو حکام سے تعاون نہ کرے، فرار ہونے کا خطرہ رکھتا ہو یا سلامتی کے لیے خطرہ تصور کیا جائے۔

مخصوص حالات میں حراست کی مدت 24 ماہ تک ہوسکتی ہے جبکہ بعض صورتوں میں مزید چھ ماہ کی توسیع کی گنجائش بھی رکھی گئی ہے۔

سلامتی کیلئے خطرہ سمجھے جانے والے افراد پر طویل مدتی داخلے کی پابندی بھی عائد کی جاسکتی ہے، جو بعض حالات میں 10 سال سے زیادہ یا غیر معینہ مدت تک ہوسکتی ہے۔

تیسرے ممالک میں واپسی مراکز کا قیام

نئے نظام میں تیسرے ممالک کے ساتھ معاہدوں کے ذریعے واپسی مراکز قائم کرنے کی بھی گنجائش رکھی گئی ہے۔

ایسے مراکز میں واپسی کے فیصلے کا سامنا کرنے والے بعض افراد کو منتقل کیا جاسکتا ہے، جہاں سے انہیں ان کے ملکِ اصل یا کسی دوسرے ایسے ملک واپس بھیجا جاسکتا ہے جو انہیں قبول کرنے پر رضامند ہو۔

تاہم کسی شخص کو خودکار طور پر ایسے مرکز منتقل نہیں کیا جائے گا، اس کے لیے متعلقہ تیسرے ملک کی رضامندی اور باقاعدہ معاہدہ ضروری ہوگا۔

یورپی قواعد کے تحت انسانی حقوق اور بین الاقوامی قانون کا احترام بھی لازم ہوگا، کسی فرد کو ایسے ملک نہیں بھیجا جاسکے گا جہاں اسے تشدد، ظلم یا کسی سنگین نقصان کا حقیقی خطرہ لاحق ہو، اجتماعی ملک بدری کی بھی اجازت نہیں ہوگی۔

نابالغ بچوں کو واپسی مراکز میں منتقل نہیں کیا جاسکے گا۔ اس کے علاوہ واپسی کے فیصلے کے خلاف قانونی کارروائی اور دستیاب قانونی تحفظ حاصل کرنے کا حق بھی موجود ہوگا، تاہم بعض معاملات میں اپیل کی مدت مختصر ہوسکتی ہے۔