امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا ہے کہ ایران کے ساتھ مذاکرات آج دوپہر سے شروع ہوں گے، ایران کے ساتھ رابطے مذاکراتی فریم ورک کے تحت ہو رہے ہیں۔
صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ ایران پر بڑے حملے کا منصوبہ سعودی عرب، متحدہ عرب امارات، قطر اور ایران کی درخواست پر منسوخ کیا۔
یہ بھی پڑھیں:امریکی صدر کا ایران پر حملہ موخر کرنے کا اعلان ، حملے کی منسوخی فوری معاہدے سے مشروط ہے ، ٹرمپ
ٹرمپ نے کہا کہ خطے کے ممالک کی اپیل پر حملہ روکنے کا فیصلہ کیا، ایران پر حملہ ہوتا تو یہ دوسری جنگ عظیم کے بعد سب سے بڑا حملہ ہوتا، میں لوگوں کو مارنا نہیں چاہتا، میری ترجیح معاہدہ کرنا ہے۔
مشرقِ وسطیٰ کے کئی اتحادی بھی فوجی کارروائی کے بجائے سفارتی حل کے حامی ہیں۔
امریکی صدر نے کہا کہ آبنائے ہرمز پر معاہدہ موجود ہے اور ایٹمی ہتھیاروں کے خاتمے پر بھی معاہدہ ہوگا۔معاہدہ ہی بہتر راستہ ہے ،مذاکرات ناکام ہوئے تو تنازع مزید بڑھ سکتاہے۔
دوسری طرف ایرانی صدرمسعودپزشکیان کا کہنا ہے کہ جس یادداشت پر دستخط ہوئے وہ شوریٰ کونسل کی اجتماعی دانشمندی کا نتیجہ ہے ، یہ یاداشت مستقبل میں ایران کی خارجہ پالیسی کی بنیاد بنے گا۔
یہ بھی پڑھیں:غزہ میں حماس غیر مسلح،بورڈ آف پیس نے معاہدہ کرلیا، ٹرمپ کا اعلان
ایرانی صدرمسعودپزشکیان نے ایکس پر بیان جاری کرتے ہوئے کہا کہ یادداشت پر عملدرآمد یقینی بنانے کے لیے دشمن کو اس کے وعدوں کا پابند بنانا ہوگا، اس یادداشت سے ایران، خطے اور اتحادیوں کی سلامتی مزید مضبوط ہوگی۔




