واشنگٹن: امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا ہے کہ انہوں نے ابھی تک ایران پر بڑے پیمانے پر حملے کرنے یا نہ کرنے کا فیصلہ نہیں کیا کیونکہ تہران کے ساتھ جاری مذاکرات میں ایرانی حکام اب زیادہ سنجیدگی کا مظاہرہ کر رہے ہیں۔
اوول آفس میں صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے بڑے فوجی آپریشن پر مشیروں سے ملاقات کی خبروں کے تناظر میں جب ان سے پوچھا گیا کہ کیا انہوں نے کوئی فیصلہ کر لیا ہےتو ٹرمپ نے جواب دیانہیںمیں نے ابھی کوئی فیصلہ نہیں کیا۔
یہ بھی پڑھیں:امریکی صدر ٹرمپ کو بغیر سوچے سمجھے جارحیت کی قیمت چکانا پڑے گی : عباس عراقچی
امریکی صدر نے کہا کہ ایران مذاکرات کیلئےسنجیدہ ہے لیکن ڈیل کرنے کیلئے تیار نہیں۔
ٹرمپ نے کہا کہ دیکھیں اس وقت ہماری ان سے بات چیت جاری ہے۔ میرے خیال میں وہ ہر گزرتے دن کے ساتھ زیادہ سنجیدہ ہوتے جا رہے ہیں، شاید اس کی وجہ بھی سب پر واضح ہے۔
قبل ازیں شنگھائی تعاون تنظیم کی سائیڈ لائن پر میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے ایرانی وزیرخارجہ عباس عراقچی نے واضح کیا تھاکہ وہ کسی صورت دھمکیوں کی زبان برداشت نہیں کریں گے۔
انہوں نے کہا کہ ایران امریکاکے ناجائز مطالبات کے آگے کبھی نہیں جھکے گا اور جب تک آبنائے ہرمز سے متعلق ہمارے مطالبات پورے نہیں کیے جاتے، ہم تب تک اس عارضی جنگ بندی کو مسترد کرتے ہیں۔
یہ بھی پڑھیں:امریکا کے ایران پر مسلسل 13ویں رات بھی حملے،کئی شہر دھماکوں سے گونج اٹھے
عباس عراقچی نے کہا ہمارے اصولوں کے مطابق آبنائے ہرمز میں ایرانی مفادات کو نقصان نہیں پہنچانے دیں گے، جب تک ایرانی عوام کے جائز مطالبات اور مقاصد مان نہیں لیے جاتے، ہماری کوششیں جاری رہیں گی۔
ایرانی وزیرخارجہ نے چین اور روس سے متعلق بات کرتے ہوئے کہا کہ ان کی اپنے دوست ممالک چین اور روس کے ساتھ مختلف معاملات پر مسلسل بات چیت ہوتی رہتی ہے۔




