عباس عراقچی

امریکی صدر ٹرمپ کو بغیر سوچے سمجھے جارحیت کی قیمت چکانا پڑے گی : عباس عراقچی

ایرانی وزیر خارجہ سید عباس عراقچی نے امریکی صدر کی جانب سے دی جانیوالی مسلسل فوجی دھمکیوں پر سخت ردعمل کا اظہار کرتے ہوئے خبردار کیا ہے کہ ڈونلڈ ٹرمپ کو بغیرسوچے سمجھے جارحیت کی قیمت چکانا پڑے گی۔

سماجی رابطے کی ویب سائٹ ‘ایکس’ (سابقہ ٹویٹر) پر جاری اپنے ایک بیان میں ایرانی وزیر خارجہ نے امریکی انتظامیہ کو شدید تنقید کا نشانہ بنایا۔

انہوں نے کہا کہ امریکی حکومت کے کچھ عہدیدار اور گمراہ افراد زمینی حقائق سے مکمل طور پر آنکھیں بند کیے ہوئے ہیں اور ان کی تمام تر توجہ صرف 2028 کے آنے والے صدارتی انتخابات پر مرکوز ہے۔

عباس عراقچی نے امریکی رویے پر تنبیہ کرتے ہوئے کہا کہ امریکہ بے سوچے سمجھے رویے کی وکالت کر رہا ہےاور اس کا ہر صورت منہ توڑ جواب دیا جائے گا۔

مزید یہ بھی پڑھیں:ابھی زیادہ تکلیف نہیں پہنچی، ٹرمپ نے ایران کو ایک اور دھمکی دیدی

ان کا مزید کہنا تھا کہ اس کے نتیجے میں صدر ٹرمپ کو اس معاہدے کیلئے کہیں زیادہ بھاری قیمت چکانا پڑے گی جسے وہ حاصل کرنے کی ناکام کوشش کر رہے ہیں۔

یہ شدید الفاظ کی جنگ ایک ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب امریکی ایوانِ نمائندگان کی جانب سے ایران میں ممکنہ جنگ سے روکے جانے کی کوششوں کے باوجود صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایران کیخلاف بڑے پیمانے پر ملٹری آپریشن کا اشارہ دیا ہے۔

امریکی خبر رساں ادارے ‘ایکزیوس’ (Axios) کو دیے گئے ایک انٹرویو میں صدر ٹرمپ نے دھمکی آمیز لہجے میں دعویٰ کیا کہ ایران کو ابھی تک کوئی بڑا نقصان نہیں پہنچا ہے۔

انہوں نے انکشاف کیا کہ واشنگٹن انتظامیہ ایران میں بڑی فوجی کارروائیاں دوبارہ شروع کرنے پر غور کر رہی ہے۔

مزید یہ بھی پڑھیں:امریکا کے ایران پر مسلسل 13ویں رات بھی حملے،کئی شہر دھماکوں سے گونج اٹھے

صدر ٹرمپ کے مطابق اگر نئی فوجی کارروائیوں کا حتمی فیصلہ ہوتا ہے تو وہ سابقہ “آپریشن ایپک فیوری” سے بھی زیادہ شدید اور بڑے پیمانے پر ہو سکتی ہیں ، تاہم انہوں نے واضح کیا کہ اس حوالے سے فی الحال کوئی حتمی فیصلہ نہیں کیا گیا ہے۔