چیئرمین پاکستان پیپلزپارٹی بلاول بھٹو زرداری نے کہا ہے کہ آزادکشمیر کے عوام مجھے دوتہائی اکثریت دیں، وعدہ ہے کشمیری عوام کی حقوق کی ترمیم لائوں گا۔
میرپور میں جلسہ سے خطاب کرتے ہوئے بلاول بھٹو زرداری نے کہا کہ آزادکشمیر کے عوام پرانی تنخواہ پر چلنے کیلئے تیارنہیں، میں چاہتا ہوں آزادکشمیر کا نمائندہ قومی اسمبلی اور سینیٹ میں بیٹھے۔
یہ بھی پڑھیں: مریم نواز کی مظفرآباد تقریر پر پیپلز پارٹی کا شدید ردعمل،ستھرا پنجاب محض ایک فراڈ ہے، ندیم افضل چن
انہوں نے کہا کہ ہم آزادکشمیر کے عوام کو حق ملکیت، حق حکمرانی دلائیں گے،انٹرنیٹ کی بندش ظلم، احتجاج کی سزا پورے کشمیر کو دی جا رہی ہے، احتجاج کرنیوالوں کی ویڈیوز بھی آ رہی ہیں پھر کیا فائدہ آزادکشمیر کے عوام کو سزا دینے کا۔
بلاول بھٹو نے کہا کہ پنجاب میں کون سی دودھ اور شہد کی نہریں بہہ رہی ہیں ،ڈڈیال گیا تو پنجاب میں سڑکوں کا برا حال تھا،یہ سمجھتے ہیں صرف رائیونڈ ہی پنجاب ہے ۔
انہوں نے سوال اٹھا کہ یہ بتائیں راجن پور کا کیا حال ہے ،لیہ کا کیا حال ہے ،قصور کا کیا حال ہے ،میانوالی کا کیا حال ہے ،ن لیگ عوام کو دھوکہ دیتی ہے
بلاول بھٹو نے کہا کہ اب کہتے ہیں سڑکیں بنائیں گے پہلے آپ کہاں تھے؟چار دفعہ وزیراعظم رہے چار بار وزیر اعلی ابھی بھی انہیں وقت چاہیے۔
چیئرمین پی پی نے کہا کہ ن لیگ کا منشور یہ ہے کہ ترمیم لائیں کہ آزادکشمیر کا وزیراعظم کشمیر کا فیصلہ نہ کرے ،پاکستان کا وزیراعظم ہی کشمیر کا فیصلہ کرے۔
ان کا کہنا تھا کہ ہم ان انتخابات میں واحد سیاسی جماعت ہیں جو مہاجرین کی بارہ نشستوں کے ساتھ بھی انصاف چاہتی ہے۔ میری نظر میں جب کوئی یہ سمجھتا ہے کہ یہ12 نشستیں اس کی جیب میں ہیں، تو یہ نہ صرف مہاجرین بلکہ آزاد کشمیر کے عوام کے ساتھ بھی ناانصافی ہے۔
انہوں نے کہا کہ کچھ لوگ کہتے ہیں کہ مہاجرین کو نمائندگی نہ دی جائے اور ووٹ کا حق بھی نہ دیا جائے، مگر ہمارا مؤقف بالکل واضح ہے۔ ہم کہتے ہیں کہ مہاجرین کو نمائندگی بھی ملنی چاہیے، ووٹ کا حق بھی حاصل ہونا چاہیے، لیکن کشمیر کا فیصلہ پنجاب نہیں کرے گا، سندھ نہیں کرے گا، بلکہ کشمیر کا فیصلہ صرف اور صرف کشمیری عوام کریں گے۔
یہ بھی پڑھیں: الیکشن سبوتاژ کرنیکی ناکام کوششیں، ہم پرامن انتخابات یقینی بنائیں گے،چیف الیکشن کمشنر
انہوں نے مزید کہا کہ حقِ حکمرانی کا معاملہ صرف 12 نشستوں تک محدود نہیں، بلکہ 1947 سے آزاد کشمیر کے عوام اپنے بنیادی حقوق کے منتظر ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ پیپلز پارٹی اقتدار میں آکر آزاد کشمیر کے عوام کو وہ حقوق دلانے کی کوشش کرے گی جن کے وہ حق دار ہیں۔
ان کا کہنا تھا کہ جو لوگ احتجاج کررہے ہیں وہ سزا ریاست پاکستان یا ریاست جموں و کشمیر کو نہیں دے رہے بلکہ وہ ریاست کی غلطیوں کی سزا آزاد جموں و کشمیر کے عوام کو دے رہے ہیں، میں آپ سے پوچھتا ہوں کہ میرپور والوں کی، کشمیر کے عوام کی کیا غلطی ہے جو اس احتجاج کی وجہ سے کشمیر کے عوام کی زندگی میں مشکلات پیدا ہو۔




