آزادکشمیر :تعلیمی ادارے ، انٹرنیٹ بندش ، لاکھوں طلباء وطالبات کا مستقبل مخدوش

مظفرآباد(کشمیر ڈیجیٹل) آزاد کشمیر میں غیر یقینی صورتحال، تعلیمی اداروں کی بندش اور انٹرنیٹ کی عدم دستیابی کے باعث ہزاروں طلبہ و طالبات کا تعلیمی مستقبل شدید متاثر ہونے کا خدشہ پیدا ہو گیا ہے۔

کشمیر یونیورسٹی نے نیلم ویلی اور جہلم ویلی کیمپسز میں نئے داخلے لینے سے انکار کر دیا ہے۔ نیلم ویلی میں سولر انٹرنیٹ کی سہولت بھی اس وقت دستیاب نہیں، جبکہ جہلم ویلی میں بھی مناسب انٹرنیٹ سہولیات کا فقدان ہے۔

دوسری جانب آزاد جموں و کشمیر یونیورسٹی کے طلبہ بھی تقریباً ایک سال سے تعلیمی تعطل کا شکار ہیں۔ ہڑتالوں، احتجاجی سرگرمیوں اور دیگر مسائل کے باعث تعلیمی سرگرمیاں بار بار متاثر ہوتی رہی ہیں۔

مزید یہ بھی پڑھیں:حکومت کا 100روزہ اصلاحاتی پلان ہر گھر پہنچائیں گے، وزیراعظم گیلانی

میرپور، مظفرآباد، پلندری اور راولاکوٹ سمیت مختلف علاقوں میں بھی موجودہ صورتحال کے باعث یونیورسٹیوں کی تعلیمی سرگرمیاں معمول کے مطابق جاری نہیں رہ سکیں۔

انٹرنیٹ کی عدم دستیابی نے میڈیکل، انجینئرنگ اور دیگر پیشہ ورانہ شعبوں میں داخلے کے خواہشمند طلبہ کی مشکلات بھی بڑھا دی ہیں۔

کئی علاقوں میں موبائل فون سروس بھی متاثر ہے، جس کے باعث طلبہ آن لائن درخواستیں جمع کرانے اور ضروری معلومات حاصل کرنے سے محروم ہیں۔

مزید یہ بھی پڑھیں:حویلی:آٹے کا بحران شدت اختیار کرگیا،شہری دربدر ٹھوکریں کھانے پر مجبور

والدین اور طلبہ نے مطالبہ کیا ہے کہ تعلیمی اداروں کو فوری طور پر فعال کیا جائے، انٹرنیٹ اور مواصلاتی سہولیات بحال کی جائیں اور طلبہ کا مزید تعلیمی نقصان روکا جائے۔

تعلیمی حلقوں کے مطابق نوجوان آزاد کشمیر کا مستقبل اور تعمیر و ترقی کے اصل معمار ہیں، اس لیے حالات کو جلد از جلد معمول پر لانا اور تعلیمی سلسلہ بحال کرنا وقت کی اہم ضرورت ہے۔