برطانیہ کے نئے وزیراعظم اینڈی برنہم نے حلف ٹھانے کے بعد حکومت پر اپنی گرفت مضبوط کرنے کے لیے متعدد فوری اقدامات کئے ہیں اور کابینہ بھی تشکیل دیدی ہے۔
انہوں نے سابق وزیراعظم کیئر سٹارمر کے کئی قریبی اتحادیوں کو کابینہ سے فارغ کر دیا ہے جبکہ سابق حکومت میں شامل متعدد وزراء کے قلم دان بھی تبدیل کئے ہیں۔
یہ بھی پڑھیں: آسٹریلیا کے بعد اب برطانیہ میں بھی بچوں کے سوشل میڈیا استعمال پر پابندی
فرانسیسی خبر رساں ایجنسی اے ایف پی کے مطابق سابق وزیر دفاع جان ہیلی کو ریچل ریوز کی جگہ نیا وزیر خزانہ مقرر کیا گیا ہے جبکہ ایڈ ملی بینڈ کو توانائی کی وزارت سے ہٹا کر وزیر خارجہ کا عہدہ دیا گیا ہے۔
وزیر داخلہ شبانہ محمود کو برطانیہ کے پناہ گزینوں کے نظام سے متعلق سخت اصلاحات مکمل کرنے کے لیے دوبارہ وزیر داخلہ مقرر کیا گیا ہے۔
دوسری جانب ڈیوڈ لیمی نائب وزیراعظم کے عہدے سے الگ ہو گئے ہیں۔یوویٹ کوپر کو نئی برطانوی کابینہ میں وزیرِ صحت و سماجی نگہداشت مقرر کیا گیا، وہ اس سے قبل کیئر سٹارمر کی حکومت میں وزیر خارجہ اور اس سے پہلے وزیر داخلہ رہ چکی ہیں۔
پیٹ میک فیڈن ستمبر 2025 سے سنبھالا گیا اپنا عہدہ برقرار رکھتے ہوئے ایک بار پھر وزیر برائے ورک اینڈ پنشنز مقرر کر دئیے گئے ہیں جبکہ لوئز ہیگ کو چانسلر آف دی ڈچی آف لنکاسٹر، فرسٹ سیکریٹری آف سٹیٹ اور کابینہ آفس کی وزیر مقرر کیا گیا ہے۔
اسی طرح سے جان ہیلی دفاعی وزارت چھوڑنے کے دو ماہ سے بھی کم عرصے بعد دوبارہ کابینہ میں شامل ہو گئے اور انہیں وزیر خزانہ (چانسلر آف دی ایکسچیکر) کی ذمہ داریاں دی گئی ہیں۔
اس سے قبل نئے وزیر اعظم اینڈی برنہم نے پیر کو اپنا منصب سنبھالا تھا۔ اس موقع پر انہوں نے اعلان کیا تھا کہ وہ ملک کے لیے ایک 10 سالہ قومی منصوبہ پیش کریں گے، جس کا مقصد مہنگائی اور بڑھتے ہوئے اخراجاتِ زندگی کے بحران سے نمٹنا، معیشت کو مضبوط بنانا اور سڑکوں پر بے گھر افراد کے سونے کا خاتمہ کرنا ہوگا۔
یہ بھی پڑھیں:برطانوی وزیراعظم کیئر اسٹارمر کیخلاف لیبر پارٹی میں بغاوت،شبانہ محمود نے بھی مشورہ دیدیا
خبر رساں ایجنسی اے ایف پی کے مطابق 56 سالہ اینڈی برنہم اپنی اہلیہ میری فرانس وان ہیل کے ہمراہ بکنگھم پیلس پہنچے، جہاں انہوں نے بادشاہ چارلس سوم سے ملاقات کی۔
اس ملاقات کے بعد انہیں باضابطہ طور پر حکومت سازی کی دعوت دی گئی۔ یہ پیش رفت سابق وزیر اعظم کیئر سٹارمر کے استعفے کے بعد سامنے آئی ہے۔
اینڈی برنہم بعد ازاں ’10 ڈاؤننگ سٹریٹ‘ پہنچے جہاں حامیوں نے ان کا پرتپاک استقبال کیا۔ انہوں نے اپنی مختصر تقریر میں کہا کہ ’سنہ 2016 کے آغاز سے اب تک میں برطانیہ کا ساتواں وزیر اعظم ہوں۔
انہوں نے کہا کہ ’برطانیہ کو دنیا کے سامنے یہ ثابت کرنا ہوگا کہ وہ دوبارہ استحکام حاصل کر سکتا ہے۔ان کے بقول وہ ملک کو ایک نیا سیاسی ماڈل دیں گے اور نئی معیشت کی بنیاد رکھیں گے۔
وزیر اعظم نے کہا کہ ’میں جلد ہی برطانیہ کے لیے ایک نیا 10 سالہ منصوبہ پیش کروں گا، تاہم انہوں نے اس کی تفصیلات نہیں بتائی۔
انہوں نے قلیل مدتی ترجیحات بیان کرتے ہوئے کہا کہ ’حکومت فوری طور پر عوام کو مہنگائی کے دباؤ سے کچھ ریلیف فراہم کرے گی تاکہ لوگوں کو سانس لینے کی کچھ گنجائش مل سکے۔
اینڈی برنہم نے یہ بھی اعلان کیا کہ ان کی پہلی ترجیح سڑکوں پر بے گھر افراد کے سونے کے خاتمے کے لیے اقدامات کرنا ہوگی۔ انہوں نے کہا کہ ’گریٹر مانچسٹر کے میئر ہونے کے ناطے سے بھی میں نے اس مسئلے کے حل کی کوشش کی تھی، تاہم اس وقت مکمل کامیابی حاصل نہیں ہو سکی تھی۔
انہوں نے مزید اعلان کیا کہ ’حکومت سرکاری خریداری کے ذریعے صنعتی شعبے کو دوبارہ مضبوط بنانے اور زیادہ عوامی رہائشی مکانات تعمیر کرنے کی پالیسی پر عمل کرے گی۔
یہ بھی پڑھیں:3مرتبہ میئر لندن منتخب ہونے والے صادق خان کو تاحیات لارڈ بنانے کا اعلان
خارجہ پالیسی کے حوالے سے اینڈی برنہم نے کہا کہ وزیر اعظم بننے کے بعد ان کی پہلی فون کالز امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ اور یوکرین کے صدر وولودیمیر زیلنسکی کو ہوں گی۔ انہوں نے کہا کہ ’میں زیلنسکی کو یقین دلاؤں گا کہ میں سو فیصد آپ کے ساتھ ہوں۔
دوسری جانب مستعفی ہونے والے وزیر اعظم کیئر سٹارمر نے ’ڈاؤننگ سٹریٹ‘ سے اپنی الوداعی تقریر میں کہا کہ ’مجھے یقین ہے کہ دو سال پہلے کے مقابلے میں آج برطانیہ زیادہ مضبوط اور زیادہ منصفانہ ملک ہے۔
انہوں نے کہا کہ ’میں خوش دلی، مسکراہٹ اور اپنی حکومت کی کامیابیوں پر فخر کے ساتھ رخصت ہو رہا ہوں۔




