اسلام آباد(کشمیر ڈیجیٹل) اشیائے خورونوش کی قیمتوں میں مسلسل اضافے نے عوام کی مشکلات بڑھا دیں۔ چاول، گھی، آئل، سبزیوں اور پھلوں کی قیمتوں میں اضافے کا رحجان دیکھنے میں آیا۔
بڑھتی ہوئی قیمتوں کے باعث شہریوں کا کہنا ہے کہ روزمرہ استعمال کی بنیادی غذائی اشیا بھی ان کی پہنچ سے دور ہوتی جا رہی ہیں۔
ذرائع کے مطابق درجہ اول چاول 480 سے 550 روپے فی کلوگرام جبکہ پریمیم کوالٹی پیکنگ والے چاول 640 روپے فی کلوگرام میں فروخت ہو رہے ہیں۔
مزید یہ بھی پڑھیں:مسلح افراد کا گشت، ناکے، آزادکشمیر میں غذائی قلت کا باعث ہیں،پونچھ انتظامیہ
درجہ دوم چاول کی قیمت 380 سے 450 روپے، درجہ سوم چاول 300 سے 360 روپے جبکہ ادھواڑ چاول 280 روپے فی کلوگرام میں دستیاب ہیں۔
دوسری جانب صارفین گھی اور آئل کی قیمتوں میں کمی کے منتظر ہیں، تاہم درجہ سوم گھی اور آئل کی قیمت بڑھ کر 490 روپے فی کلوگرام تک پہنچ چکی ہے۔
سبزیوں اور پھلوں کی قیمتیں بھی عام آدمی کی قوتِ خرید سے باہر ہوتی جا رہی ہیں۔شہریوں نے حکومت سے مطالبہ کیا ہے کہ گھی اور آئل کی قیمتوں میں فوری کمی کے لیے مؤثر اقدامات کیے جائیں۔
شہریوں کے مطابق بیشتر مقامات پر سرکاری نرخنامے کو نظر انداز کرتے ہوئے من مانی قیمتوں پر فروخت جاری ہے۔
مزید یہ بھی پڑھیں:سندھ طاس معاہدہ معطلی ، پانی کا بطور ہتھیار استعمال دہشتگردی ،پاکستان کا بھارت کو کرارا جواب
مارکیٹ میں پیاز 120 سے 130 روپے، ٹماٹر 250 روپے، آلو 60 روپے، ادرک 450 روپے اور لہسن 400 روپے فی کلوگرام میں فروخت کیا جا رہا ہے۔
شہر میں کہیں بھی سرکاری نرخنامے پر سبزیاں دستیاب نہیں، جبکہ دکانداروں کا مؤقف ہے کہ جب تک سبزی منڈیوں میں قیمتوں کو مؤثر انداز میں کنٹرول نہیں کیا جاتا، ریٹ میں کمی ممکن نہیں۔
شہریوں نے ضلعی انتظامیہ سے مطالبہ کیا ہے کہ سرکاری نرخنامے پر سختی سے عمل درآمد یقینی بنایا جائے۔




