چیئرمین پاکستان اٹامک انرجی کمیشن ڈاکٹر علی رضا انور نے بین الاقوامی نتھیا گلی سمر کالج کا افتتاح کر دیا

اسلام آباد:(کشمیر ڈیجیٹل) پاکستان اٹامک انرجی کمیشن کے چیئرمین ڈاکٹر راجہ علی رضا انور نے 51 ویں انٹرنیشنل نتھیاگلی سمر کالج کا افتتاح کر دیا۔

اس موقع پر انہوں نے سائنسی تحقیق، جدت، اعلیٰ تعلیم، انسانی صلاحیتوں کی ترقی اور عالمی سائنسی تعاون کے فروغ کے لیے پاکستان اٹامک انرجی کمیشن کے غیر متزلزل عزم کا اعادہ کیا

پاکستان اٹامک انرجی کمیشن کے زیرِ اہتمام 6 سے 18 جولائی 2026 تک جاری رہنے والا یہ باوقار سمر کالج 1976 میں نوبیل انعام یافتہ عظیم پاکستانی سائنسدان پروفیسر عبدالسلام کے وژن کے مطابق قائم کیا گیا تھا،

جس کا مقصد ترقی یافتہ اور ترقی پذیر ممالک کے سائنسدانوں کو ایک پلیٹ فارم پر جمع کرکے علم، تحقیق اور تجربات کے تبادلے کو فروغ دینا تھا۔

گزشتہ پانچ دہائیوں کے دوران یہ ادارہ اعلیٰ تعلیم، سائنسی تحقیق، علمی تبادلے اور صلاحیتوں میں اضافے کے حوالے سے عالمی سطح پر ایک معتبر مرکز کی حیثیت اختیار کر چکا ہے۔

مزید یہ بھی پڑھیں:عالمی شہرت یافتہ فٹبالر کرسٹیانو رونالڈو کا ورلڈکپ کے بعد ریٹائرمنٹ کا اعلان

افتتاحی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے چیئرمین پاکستان اٹامک انرجی کمیشن ڈاکٹر راجہ علی رضا انور نے کہا کہ بین الاقوامی نتھیا گلی سمر کالج پاکستان اٹامک انرجی کمیشن کے نمایاں ترین سائنسی منصوبوں میں شامل ہے جو تحقیق، ادارہ جاتی ترقی اور بین الاقوامی سائنسی تعاون کے فروغ کے لیے کمیشن کے مستقل عزم کی عکاسی کرتا ہے۔

انہوں نے تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ گزشتہ پچاس برسوں کے دوران اس سمر کالج میں دنیا کے نامور سائنسدانوں جن میں نو نوبیل انعام یافتہ سائنسدان بھی شامل تھے انہوں نے شرکت کی جبکہ پاکستان سمیت پچھتر سے زائد ممالک کے ہزاروں نوجوان محققین اس سے مستفید ہوئے۔

اس ادارے نے بلند توانائی کی طبیعیات، یورپی مرکز برائے جوہری تحقیق کے ساتھ تحقیقی تعاون، جوہری اور ذرّاتی تیزکار سائنس، شعاعی ٹیکنالوجی، پلازما طبیعیات اور جدید مادّی علوم کے میدان میں پاکستان کی تحقیقی صلاحیتوں کو مضبوط بنانے میں نمایاں کردار ادا کیا ہے۔

ڈاکٹر راجہ علی رضا انور نے کہا کہ سمر کالج نے عالمی سائنسی ترقی کے ساتھ ہم آہنگ رہتے ہوئے مصنوعی ذہانت، کوانٹم ٹیکنالوجی، جدید پیداواری طریقوں اور اعداد و شمار پر مبنی سائنس جیسے نئے شعبوں کو بھی اپنے نصاب کا حصہ بنایا ہے۔

انہوں نے کہا کہ اس سال کا پروگرام بنیادی سائنس، جدید ٹیکنالوجی اور عملی تحقیق کے درمیان مضبوط ربط قائم کرتا ہے، جس کے ذریعے شرکاء توانائی، صحت، زراعت اور پائیدار ترقی کے شعبوں میں قابلِ عمل حل تلاش کرنے کی صلاحیت حاصل کریں گے۔

انہوں نے بتایا کہ 51ویں بین الاقوامی نتھیا گلی سمر کالج پانچ اہم بین الشعبہ جاتی موضوعات پر مشتمل ہے، جن میں مصنوعی ذہانت اور مشین سے سیکھنے کی صلاحیت، جدید پیداواری طریقے، زراعت اور حیاتیاتی ٹیکنالوجی میں جوہری تکنیک، صحت اور ماحولیات میں جوہری تکنیک، اور پلازما سائنس و فیوژن ٹیکنالوجی میں جدید پیش رفت شامل ہیں۔

انہوں نے دوران خطاب کہا کہ یہ موضوعات پاکستان میں مصنوعی ذہانت، چوتھے صنعتی انقلاب، جدید پیداواری نظام، موسمیاتی تبدیلیوں سے ہم آہنگ زراعت، حیاتیاتی ٹیکنالوجی، صحت میں جدت، ماحول کے تحفظ اور مستقبل کی توانائی کے ذرائع کے فروغ میں اہم کردار ادا کریں گے۔

چیئرمین پاکستان اٹامک انرجی کمیشن نے کہا کہ دنیا تیزی سے تکنیکی تبدیلیوں کے دور سے گزر رہی ہے، جہاں مصنوعی ذہانت، کوانٹم ٹیکنالوجی اور سیمی کنڈکٹر کے شعبے میں ہونے والی پیش رفت توانائی، صحت، مواصلات اور صنعت کے مستقبل کو نئی سمت دے رہی ہے۔

انہوں نے انسانی وسائل کی ترقی اور تحقیقی ڈھانچے میں مسلسل سرمایہ کاری کی ضرورت پر زور دیتے ہوئے کہا کہ نتھیا گلی سمر کالج جیسے پلیٹ فارم نوجوان سائنسدانوں کو عالمی معیار کی تحقیق اور جدت کے مواقع فراہم کرتے ہیں۔

مزید یہ بھی پڑھیں:دارالحکومت مظفرآباد سمیت آزادکشمیر میں وقفے وقفے سے بارش کا سلسلہ شروع

انہوں نے ملک کی سماجی و معاشی ترقی میں پاکستان اٹامک انرجی کمیشن کے کردار پر روشنی ڈالتے ہوئے کہا کہ کمیشن پرامن مقاصد کے لیے جوہری سائنس اور ٹیکنالوجی کے استعمال کے ذریعے عوام کے معیارِ زندگی کو بہتر بنانے کے لیے مسلسل خدمات انجام دے رہا ہے۔

انہوں نے بتایا کہ پاکستان اٹامک انرجی کمیشن کے چھ جوہری بجلی گھر ملک کو تین ہزار پانچ سو میگاواٹ سے زائد صاف، قابلِ اعتماد اور کم لاگت بجلی فراہم کر رہے ہیں، جس سے قومی توانائی کا تحفظ مضبوط ہونے کے ساتھ ماحول کے تحفظ میں بھی مدد مل رہی ہے۔

انہوں نے مزید کہا کہ پاکستان اٹامک انرجی کمیشن کے اکیس ایٹمی توانائی کینسر ہسپتال اور تشخیصی مراکز ملک کے تقریباً اسی فیصد کینسر کے مریضوں کو جامع طبی سہولیات فراہم کر رہے ہیں

جبکہ کمیشن کے زرعی مراکز بہتر اقسام کی فصلوں کی تیاری، زرعی نقصان رساں کیڑوں کے مؤثر تدارک اور موسمیاتی تبدیلیوں سے ہم آہنگ کاشتکاری کے فروغ کے ذریعے قومی غذائی تحفظ کو مضبوط بنا رہے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ پاکستان اٹامک انرجی کمیشن کی تحقیق و ترقی کی سرگرمیاں مصنوعی ذہانت، کوانٹم ٹیکنالوجی، سیمی کنڈکٹر تحقیق اور دیگر جدید سائنسی شعبوں میں بھی قومی صلاحیتوں کو وسعت دے رہی ہیں۔

اپنے خطاب کے اختتام پر ڈاکٹر راجہ علی رضا انور نے سائنسی تحقیق، عالمی تعاون اور بین الاقوامی نتھیا گلی سمر کالج کی مسلسل کامیابی کیلئے پاکستان اٹامک انرجی کمیشن کے عزم کا اعادہ کرتے ہوئے نوجوان سائنسدانوں پر زور دیا کہ وہ جدت کو اپنائیں، روایتی سوچ سے آگے بڑھیں اور سائنس و ٹیکنالوجی کے ذریعے انسانیت کی خدمت میں اپنا بھرپور کردار ادا کریں۔

اس سے قبل سمر کالج کے سائنسی سیکریٹری ڈاکٹر راحت اللہ نے شرکاء کا خیرمقدم کرتے ہوئے رواں سال کے سمر کالج کی تفصیلات سے آگاہ کیا۔

انہوں نے بتایا کہ اس سال ایشیا، یورپ، شمالی امریکہ، جنوبی امریکہ، اوشیانا اور مشرقِ وسطیٰ کے بیس ممالک سے تعلق رکھنے والے 45 ممتاز سائنسدان اس علمی اجتماع میں شریک ہیں، جبکہ پاکستان کے معروف محققین، صنعتی ماہرین اور نوجوان سائنسدان بھی اس کا حصہ ہیں۔

انہوں نے مزید بتایا کہ تین سو منتخب شرکاء سمر کالج میں براہِ راست شرکت کر رہے ہیں، جبکہ ہائر ایجوکیشن کمیشن کے زیرِ اہتمام لائیو سٹریمنگ کے ذریعے سینکڑوں مزید افراد بھی سائنسی نشستوں میں شریک ہوں گے۔

انہوں نے کہا کہ یہ بھرپور بین الاقوامی شرکت اس ادارے کی بڑھتی ہوئی عالمی ساکھ اور سائنسی تعاون و سائنسی سفارت کاری میں پاکستان کے مضبوط ہوتے کردار کا واضح ثبوت ہے۔

تقریب کے اختتام پر پاکستان اٹامک انرجی کمیشن کے چیئرمین ڈاکٹر راجہ علی رضا انور نے کہا کہ یہ بھرپور شرکت سمر کالج کی بڑھتی ہوئی عالمی اہمیت، سائنسی تعاون میں پاکستان کے مضبوط ہوتے کردار اور “اڑان پاکستان” پروگرام کے اہداف، خصوصاً جدت، انسانی وسائل کی ترقی اور جدید ٹیکنالوجی کے فروغ، کی عکاسی کرتی ہے

افتتاحی تقریب کے اختتام پر پاکستان اٹامک انرجی کمیشن کے چیئرمین ڈاکٹر راجہ علی رضا انور نے 51ویں بین الاقوامی نتھیا گلی سمر کالج میں شریک غیر ملکی اساتذہ اور شرکاء میں یادگاری شیلڈز تقسیم کیں، جبکہ ممبر سائنس ڈاکٹر شکیل عباس روفی نے چیئرمین پاکستان اٹامک انرجی کمیشن کو یادگاری شیلڈ پیش کی-