آزاد کشمیر، گلگت بلتستان کے نمائندوں کو پارلیمنٹ میں دیکھنا چاہتے ہیں ، بلاول

گلگت :پاکستان پیپلز پارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری نے کہا ہے کہ گلگت بلتستان کے عوام نے ڈوگرہ راج سے آزادی حاصل کرکے پاکستان کے ساتھ الحاق کیا، مگر آج بھی وہ مکمل آئینی حقوق کے منتظر ہیں۔

شہید ذوالفقار علی بھٹو نے ایف سی آر کا خاتمہ کیا، عوام کو سبسڈی دی، شہید محترمہ بینظیر بھٹو نے خطے میں سیاسی عمل کی بنیاد رکھی جبکہ صدر آصف علی زرداری نے گلگت بلتستان کو انتظامی شناخت اور اختیارات فراہم کیے۔

یہ بھی پڑھیں:بلاول بھٹو سے چوہدری یٰسین،فیصل ممتاز راٹھور کی اہم ملاقات،آزادکشمیر بھر کے دورے کا اعلان

گلگت بلتستان کے نومنتخب وزیر اعلیٰ امجد حسین ایڈووکیٹ کی حلف برداری تقریب سے خطاب کرتے ہوئے بلاول بھٹو زرداری نے کہا کہ پیپلز پارٹی چاہتی ہے کہ گلگت بلتستان کو عبوری حیثیت کے ساتھ مکمل آئینی حقوق بھی حاصل ہوں اور وہ دن جلد آئے جب گلگت بلتستان کے منتخب نمائندے قومی اسمبلی میں بیٹھیں۔

انہوں نے کہا کہ عوام نے پیپلز پارٹی کو حقِ حکمرانی، حقِ ملکیت اور حقِ روزگار کے منشور پر مینڈیٹ دیا ہے، اس لیے پارٹی ریاست، وفاقی حکومت اور تمام سیاسی جماعتوں کو گلگت بلتستان کے آئینی حقوق پر قائل کرے گی۔

انہوں نے کہا کہ زمین کی ملکیت کا حق ہر صورت نافذ کیا جائے گا، عوام کو اجتماعی زراعت اور پبلک پرائیویٹ پارٹنرشپ کے ذریعے معاشی فوائد پہنچائے جائیں گے جبکہ نوجوانوں کو میرٹ کی بنیاد پر روزگار فراہم کیا جائے گا۔

بلاول بھٹو نے پیپلز پارٹی کے کارکنوں اور گلگت بلتستان کے عوام کا شکریہ ادا کرتے ہوئے کہا کہ وہ وزیراعظم میاں شہباز شریف کے بھی شکر گزار ہیں جنہوں نے پیپلز پارٹی کے عوامی مینڈیٹ کو تسلیم کیا اور تعاون کا یقین دلایا۔

انہوں نے کہا کہ پیپلز پارٹی حکومت اور اپوزیشن کی تفریق سے بالاتر ہوکر تمام سیاسی جماعتوں کے ساتھ مل کر عوامی مسائل حل کرے گی۔

انہوں نے آئی پی پی، مجلس وحدت المسلمین اور پی ٹی آئی کے حمایت یافتہ امیدواروں کا بھی شکریہ ادا کیا اور کہا کہ گلگت بلتستان میں سیاست کو دشمنی کے بجائے باہمی تعاون کی مثال بنایا جائے گا اور وزیر اعلیٰ تمام شہریوں کے ساتھ بلاامتیاز سلوک کریں گے۔

یہ بھی پڑھیں:میر اکبر کیلئے بڑادھچکا،سردار شاہد آفتاب چغتائی ،افراز گردیزی کا پیپلزپارٹی میں شمولیت کا اعلان

انہوں نے کہا کہ پیپلز پارٹی چاہتی ہے کہ بلدیاتی انتخابات موسم سرما سے قبل منعقد ہوں۔

بلاول بھٹو نے گلگت بلتستان کی تزویراتی اہمیت کا ذکر کرتے ہوئے سرحدوں پر خدمات انجام دینے والے پاک فوج کے جوانوں کو خراجِ تحسین پیش کیا اور کہا کہ گلگت بلتستان اور آزاد کشمیر کے عوام اپنی مسلح افواج پر فخر کرتے ہیں۔

بھارت کے حوالے سے انہوں نے کہا کہ پاکستان، گلگت بلتستان اور آزادکشمیر کے عوام بھارتی جارحیت کے خلاف متحد ہیں اور بھارت کی ہر سازش ناکام بنائیں گے۔

انہوں نے کہا کہ بھارت دریائے سندھ کو پاکستان کے خلاف ہتھیار کے طور پر استعمال کرنا چاہتا ہے مگر پاکستان سندھ طاس معاہدے پر کوئی سمجھوتہ نہیں کرے گا اور ’’مرسوں مرسوں، سندھو نہ دیسوں‘‘ کا نعرہ پورے ملک کی آواز ہے۔

بلاول بھٹو نے کہا کہ آزاد کشمیر کے انتخابات میں بھی پیپلز پارٹی کا منشور حقِ حکمرانی، حقِ ملکیت اور حقِ روزگار ہوگا، عوام سے اپیل کی کہ وہ انتخابی عمل میں بھرپور حصہ لیں اور کہا کہ کامیابی کی صورت میں آزاد کشمیر اور گلگت بلتستان کا مشترکہ آئینی کنونشن منعقد کیا جائے گا تاکہ دونوں خطوں کو مزید بااختیار بنایا جا سکے۔

یہ بھی پڑھیں:پی ٹی آئی کی بڑی وکٹ گر گئی، عامر نذیر چوہدری آئی پی پی کا حصہ بن گئے

انہوں نے کہا کہ وہ گلگت بلتستان اور آزاد کشمیر کے نمائندوں کو قومی اسمبلی اور سینیٹ میں دیکھنا چاہتے ہیں اور نہ مہاجرین کے حقوق پر سمجھوتہ ہوگا اور نہ ہی کشمیر اور گلگت بلتستان کے عوام کے حقِ حکمرانی پر۔

بلاول بھٹو نے کہا کہ آزاد کشمیر اور گلگت بلتستان پاکستان کی معیشت کا ’’کوہِ نور‘‘ ہیں اور پورے ملک کی ترقی میں کلیدی کردار ادا کریں گے، جبکہ خطاب کے اختتام پر انہوں نے نعرہ لگایا: ’’پانچوں صوبوں کی زنجیر، بینظیر بینظیر‘‘۔