ایرانی سپیکر کا امریکا سے مزید مذاکرات سے صاف انکار، شرائط رکھ دیں

ایرانی پارلیمنٹ کے اسپیکر باقرقالیباف نے کہا ہے کہ ایران کی جانب سے جاری موجودہ ملاقاتوں کا مقصد ایم او یوکے تحت کئے گئے وعدوں پر عمل درآمد کو یقینی بنانا ہے۔

باقرقالیباف نےایرانی میڈیا کو انٹرویو دیتے ہوئے کہا کہ مفاہمتی یادداشت میں طے شدہ شرائط پوری ہونے تک ایران مزید مذاکرات میں شامل نہیں ہوگا۔

یہ بھی پڑھیں: امریکا سے مذاکرات،ایران نے ڈونلڈ ٹرمپ کے دعوے کی تردید کردی

انہوں نے کہا کہ یہ فیصلہ کیا گیا کہ لبنان ایران، امریکا،لبنان میں جنگ کےخاتمے کی نگرانی کے لیے ایک مشترکہ کمیٹی قائم کریں گے۔

باقرقالیباف نے بتایا کہ بحری ناکہ بندی کے خاتمے کے بعد سے ایران 40 ملین سے زائد بیرل تیل برآمد کر چکا ہے، ایران آبنائے ہرمز میں اپنے حقوق پر کبھی سمجھوتا نہیں کرے گا۔

ان کا کہنا تھا کہ مفاہمتی یادداشت کے مطابق آبنائے ہرمز سے بغیر کسی لاگت کے گزرنے کی اجازت صرف 60 دن کے لیے ہوگی۔

آبنائے ہرمز پر خودمختاری ایران اور عمان کی ہے، آبی گزرگاہ میں بحری آمدورفت انہی انتظامات کے مطابق ہوگی جو ایران مقرر کرےگا۔

یہ بھی پڑھیں:ایران امریکا معاہدہ پاکستان کیلئے اعزاز، قیام امن کیلئے فیلڈ مارشل نے شب و روز انتھک محنت کی، وزیراعظم شہباز شریف

ایرانی اسپیکر باقرقالیباف نے کہاکہ ہم خلیج کے ساحلی ممالک کے ساتھ باہمی مشاورت اور تبادلۂ خیال کرتے ہیں، اگر امریکا ایران کو تیل فروخت کرنے سے روکنے کا ارادہ رکھتا ہے تو پھر کوئی بھی تیل سےفائدہ نہیں اٹھا سکے گا۔

انہوں نے کہا کہ ہم اب اپنا تیل پہلے کے مقابلے میں 20 فیصد زیادہ قیمت پر فروخت کر رہے ہیں۔