بھمبر: پاکستان مسلم لیگ (ن) آزاد کشمیر کے امیدوار قانون ساز اسمبلی برائے حلقہ LA-7 بھمبر-III چوہدری طارق فاروق نے چیف الیکشن کمشنر آزاد جموں و کشمیر کو ایک تفصیلی درخواست ارسال کی ہے۔ اس درخواست میں انہوں نے حلقے میں انتخابی ضابطۂ اخلاق، عبوری آئین 1974، الیکشن قوانین اور مالیاتی قواعد کی مبینہ خلاف ورزیوں کا فوری نوٹس لینے کی استدعا کی ہے۔
درخواست میں مضبوط مؤقف اختیار کرتے ہوئے واضح کیا گیا ہے کہ انتخابی شیڈول کے نفاذ کے بعد حلقہ LA-7 بھمبر-III میں تقریباً 17 کروڑ 88 لاکھ روپے کے خطیر ترقیاتی فنڈز جاری کیے گئے ہیں۔ ان فنڈز کو نئی ترقیاتی سکیموں، سڑکوں، گلیوں، حفاظتی دیواروں کی تعمیر، ہینڈ پمپوں کی تقسیم اور دیگر منصوبوں کے ذریعے انتخابی مقاصد کے لیے استعمال کیا جا رہا ہے، جس کا بنیادی مقصد ایک مخصوص امیدوار کو ناجائز انتخابی فائدہ پہنچانا ہے۔
یہ بھی پڑھیں: چوہدری لطیف اکبر کے کاغذاتِ نامزدگی مسترد ہونے کے خلاف اپیل: چیف الیکشن کمشنر نے سماعت کے بعد فیصلہ محفوظ کر لیا
سرکاری وسائل کا انتخابی مہم پر استعمال اور منصفانہ الیکشن کا مطالبہ:
چوہدری طارق فاروق نے متعلقہ حکام پر سنگین الزام عائد کرتے ہوئے کہا کہ مالیاتی قواعد کی کھلی خلاف ورزی کرتے ہوئے مختلف منصوبوں کے لیے رقوم منتقل کی گئیں اور سرکاری وسائل کو انتخابی مہم پر اثرانداز ہونے کے لیے بے دریغ استعمال کیا گیا۔ انہوں نے الیکشن کمیشن سے پرزور مطالبہ کیا ہے کہ حلقے کے تمام ترقیاتی فنڈز فوری طور پر منجمد کیے جائیں، جبکہ نئی ادائیگیوں اور منظوریوں پر مکمل پابندی عائد کی جائے۔
انہوں نے مزید کہا کہ اس پورے معاملے کی غیر جانبدارانہ تحقیقات کرائی جائیں، متعلقہ ریکارڈ کو فوری طور پر محفوظ بنایا جائے اور منتقل شدہ رقوم کا باقاعدہ فرانزک آڈٹ کرایا جائے۔ الزامات ثابت ہونے کی صورت میں ملوث ذمہ داران کے خلاف قانون کے مطابق سخت کارروائی عمل میں لائی جائے۔ چوہدری طارق فاروق کا کہنا تھا کہ آزادانہ، منصفانہ اور شفاف انتخابات کو یقینی بنانا الیکشن کمیشن کی آئینی ذمہ داری ہے، اس لیے درخواست پر فوری سماعت کرتے ہوئے عبوری احکامات جاری کیے جائیں تاکہ تمام امیدواروں کے لیے مساوی مواقع اور انتخابی عمل کی شفافیت برقرار رکھی جا سکے۔




