مظفرآباد: آزاد جموں و کشمیر کے انتخابی حلقے ایل اے 34 جموں 1 سے پاکستان مسلم لیگ (ن) کے باقاعدہ ٹکٹ ہولڈر ناصر ڈار کے کاغذاتِ نامزدگی کو الیکشن کمیشن میں قانونی طور پر چیلنج کر دیا گیا ہے۔ اس اہم پیش رفت کے بعد حلقے کی سیاسی صورتحال میں اچانک شدید قانونی اور سیاسی ہلچل مچ گئی ہے اور سب کی نظریں اب الیکشن کمیشن کے فیصلے پر ٹک گئی ہیں۔
مسلم کانفرنس کے امیدوار چوہدری سعود مختار سمیت عبد الرشید مرزا نے ناصر ڈار کے کاغذاتِ نامزدگی پر مختلف نوعیت کے اعتراضات عائد کرتے ہوئے الیکشن کمیشن میں گزشتہ دن باقاعدہ طور پر ایک اپیل دائر کر دی ہے، جس میں ان کی اہلیت کو چیلنج کیا گیا ہے۔
یہ بھی پڑھیں: پی ٹی آئی رجسٹریشن کیس: سپریم کورٹ آزاد کشمیر نے ہائی کورٹ کا فیصلہ معطل کر دیا
آبائی ضلع کا تنازع اور اعتراضات:
الیکشن کمیشن میں دائر کردہ اس اپیل میں باقاعدہ مؤقف اختیار کیا گیا ہے کہ مسلم لیگ (ن) کے امیدوار ناصر ڈار کا آبائی ضلع دراصل پلندری ہے، جس کے واضح اور انتہائی ٹھوس ثبوت بھی الیکشن کمیشن کے سامنے درخواست کے ساتھ موجود ہیں، اس لیے وہ اس حلقے سے الیکشن لڑنے کے مجاز نہیں۔
اہلیت یا نااہلیت کا فیصلہ آج متوقع:
تاہم، مسلم لیگ (ن) کے امیدوار ناصر ڈار کے الیکشن لڑنے کے اہل یا نااہل ہونے کا حتمی فیصلہ آج الیکشن کمیشن میں اس کیس کی تفصیلی سماعت کے بعد باقاعدہ طور پر کیا جائے گا۔ دونوں اطراف کے دلائل اور دستاویزی ثبوت دیکھنے کے بعد الیکشن کمیشن اس اہم قانونی نکتے پر اپنا فیصلہ جاری کرے گا۔




