دھاوا

بھارتی نظام کی اندرونی لڑائی عروج پر: راشٹریہ رائفلز کا پولیس اسٹیشن پر دھاوا، مارپیٹ کی ویڈیو وائرل

بھارتی نظام کی اندرونی لڑائی کھل کر سامنے آگئی،فوجی افسران کے خلاف ایف آئی پر17 راشٹریہ رائفلز نے پولیس اسٹیشن پر دھا وا بول دیا، ویڈیو منظر عام پر آگئی۔

ضلع کشتواڑ کے علاقے آتھولی میں ایک پولیس اسٹیشن پرحملے، اہلکاروں پر تشدد اور سرکاری املاک کو نقصان پہنچانے کے واقعے کی ویڈیو منظر عام پر آئی ہے جس نے بھارت کے اندرونی اور انتظامی نظام کو مکمل برہنہ کردیا ہے۔

چند دن قبل30 سے 40 اہلکاروں پر مشتمل ایک گروہ نے پولیس اسٹیشن آتھولی میں داخل ہو کر توڑ پھوڑ کی اور پولیس اہلکاروں پر حملہ کیا، اہلکاروں کے پاس لاٹھیاں، لوہے کی سلاخیں اور سروس اسلحہ موجود تھا۔

اطلاعات کے مطابق اس واقعے کے دوران سینئر پولیس افسران سمیت متعدد اہلکاروں پر تشدد کیا گیا، جن میں ایس ایچ او، ایس ڈی پی او آتھولی اور ایس پی اوکے زخمی ہونے کی بھی اطلاعات ہیں اس دوران سرکاری گاڑیوں اور پولیس اسٹیشن کے مرکزی گیٹ کو بھی نقصان پہنچا۔

پولیس نے واقعے کا مقدمہ درج کرتے ہوئے میجر وکاس شرما، لیفٹیننٹ کرنل ،نائب صوبیدار شنکر گورکھے، جی ڈی راج کمار، سپاہی راہول کمار، سپاہی انوپ سنگھ اور سپاہی اومکار انگلے سمیت متعدد اہلکاروں کو نامزد کیا ہے مقدمہ مختلف دفعات کے تحت درج کیا گیا ہے جن میں قتل کی کوشش، فساد، غیر قانونی اجتماع، سرکاری ملازمین پر حملہ اور توڑ پھوڑ شامل ہیں۔

اس ایف آئی کا بدلہ لینے کے لیے17 راشٹریہ رائفلز نے پولیس سٹیشن پر دھاوا بولا اوراہلکاروں پر تشدد کیا ،سامنے آنے والی ویڈیو میں مسلح فوجی اہلکاروں کو پولیس اسٹیشن میں داخل ہوتے دیکھا جا سکتا ہے، جہاں مختلف اہلکار احاطے میں حرکت کرتے نظر آتے ہیں جبکہ صورتحال کشیدہ دکھائی دیتی ہے اور بعض مقامات پر توڑ پھوڑ جیسے مناظر بھی سامنے آتے ہیں۔

مزید یہ بھی پڑھیں:ڈی پی آئی آر کا بڑاسکیورٹی لیپس، بھارتی فوج کی خفیہ معلومات لیک

خطے میں اس نوعیت کے واقعات پہلے بھی رپورٹ ہوتے رہے ہیں۔ ماضی میں بھی تلاشی کارروائیوں اور ناکوں پر چیکنگ کے دوران پولیس اور سیکیورٹی فورسز کے درمیان تنازعات سامنے آتے رہے ہیں یہ در اصل بھارتی نظام کی اندرونی لڑائی اب کھل کر سامنے آرہی ہے بھارت میں پرتشدد واقعات عام بات ہے جو بھارت کو ایک دہشتگرد ریاست ثابت کرنے کیلئے کافی ہے ۔

جموں و کشمیر میں ماضی کے دوران پولیس اور شکست خوردہ بھارتی فوج کے درمیان مختلف مواقع پر تنازعات اور جھڑپوں کے واقعات رپورٹ ہوتے رہے ہیں، جن میں بعض سنگین نوعیت کے معاملات بھی شامل ہیں۔

جنوری 2018 میں شوپیاں کے گنوپورہ گاؤں میں ایک واقعے کے دوران پتھراؤ کرنے والے ہجوم پر فوج کی فائرنگ سے تین عام شہری ہلاک ہوئے تھے۔ اس واقعے کے بعد پولیس کی جانب سے دسویں گڑھوال رائفلز کے اہلکاروں اور ایک میجر آدتیہ کے خلاف قتل اور اقدامِ قتل کے تحت مقدمہ درج کیا گیا تھا۔ تاہم بعد ازاں بھارتی سپریم کورٹ نے اس کیس کی تحقیقات پر روک لگا دی تھی۔

2017 میں گاندربل کے علاقے میں امرناتھ یاترا کی ڈیوٹی کے دوران پولیس اہلکاروں اور فوجی اہلکاروں کے درمیان سڑک پر تنازع پیش آیا تھا۔ اس دوران فوجی اہلکاروں کی جانب سے ایک پولیس چوکی پر حملہ کیا گیا اور اہلکاروں کو زد و کوب کیا گیا، جس پر پولیس کی جانب سے سخت احتجاج ریکارڈ کرایا گیا تھا۔

وادی کے مختلف حصوں میں اس نوعیت کے متعدد واقعات رپورٹ ہو چکے ہیں، جہاں تلاشی مہمات یا ناکوں پر شناختی دستاویزات کی جانچ کے دوران پولیس اور فوجی اہلکاروں کے درمیان کشیدگی پیدا ہوئی۔

مزید یہ بھی پڑھیں:بھارتی فوج کے میجر جنرل سمیت 20 فوجی افسران کا کورٹ مارشل، بھاری رشوت کا انکشاف

انسانی حقوق کے ماہرین اور تجزیہ کاروں کے مطابق جب بھی سیکیورٹی فورسز کے خلاف پولیس کی جانب سے مقدمات درج کیے گئے تو بعض قوانین جیسے آرمڈ فورسز اسپیشل پاورز ایکٹ( کالا قانون) کے تحت حاصل استثنیٰ کے باعث قانونی کارروائی آگے نہیں بڑھ سکی۔