ڈی پی آئی آر کا بڑاسکیورٹی لیپس، بھارتی فوج کی خفیہ معلومات لیک

بھارتی افواج کے انفارمیشن ونگ (ڈی پی آر) میں ایک بڑا سیکیورٹی لیپس سامنے آیا ہے، جس کے نتیجے میں بھارتی فوج کا ایک انتہائی خفیہ اور منظم نیٹ ورک بے نقاب ہو گیا ہے۔

اس حساس ترین ڈیٹا کے لیک ہونے سے معلوم ہوا ہے کہ ہندوستان کس طرح ریاستی سطح پر جھوٹے بیانیے (Narrative) تیار کرنے اور مخصوص میڈیا ایکو سسٹم کو کنٹرول کرنے کیلئے مربوط آپریشنز چلا رہا ہے۔

خفیہ دستاویزات کے منظرِ عام پر آنے سے یہ انکشاف ہوا ہے کہ بھارتی اسٹیبلشمنٹ نے اپنے مخصوص مقاصد اور پروپیگنڈے کی تشہیر کے لیے ایک انتہائی پیچیدہ اور وسیع نیٹ ورک قائم کر رکھا تھا۔ اس مربوط طریقہ کار میں درج ذیل اہم مہرے شامل ہیں:

حکومتی مواصلاتی ایجنسیاں: جو سرکاری سطح پر من پسند بیانیے کو ڈیزائن کرتی ہیں۔

فوجی معلوماتی جنگی ڈھانچہ (Information Warfare Structure): جو ڈیجیٹل اور سائبر اسپیس میں جعلی معلومات کو پھیلانے کا کام کرتا ہے۔

انٹیلی جنس تنظیمیں: جو پسِ پردہ رہ کر اس پورے آپریشن کی نگرانی اور فنڈنگ کو یقینی بناتی ہیں۔
اسٹریٹجک تھنک ٹینکس: جو علمی اور فکری لبادے میں من گھڑت تھیوریز اور بیانیوں کو فروغ دیتے ہیں۔
ہمدرد ’’میڈیا ایکو سسٹم‘‘: پالتو اور ہمنوا میڈیا ہاؤسز کا ایک ایسا نیٹ ورک، جس کا کام دن رات اس منظم بیانیے کی پرورش کرنا اور اسے دنیا بھر میں پھیلانا ہے۔

ادارہ جاتی معلوماتی کارروائیاں (Institutionalized Operations)لیک ہونے والی معلومات سے یہ واضح ہوتا ہے کہ ہندوستان میں من پسند بیانیے کی تخلیق اور سچائی کو مسخ کرنے کا کام محض انفرادی سطح پر نہیں، بلکہ باقاعدہ ادارہ جاتی نظم و نسق (Institutional Management) کے تحت کیا جا رہا ہے۔ اس نیٹ ورک کا بنیادی مقصد علاقائی اور بین الاقوامی سطح پر اپنے حریفوں کے خلاف منظم انفارمیشن وارفیئر چلانا اور اپنے حق میں رائے عامہ کو گمراہ کرنا ہے۔

بھارتی سیکیورٹی اداروں میں کھلبلیمحکمہ اطلاعات (DPR) کے اس اتنے بڑے سیکیورٹی لیپس اور خفیہ طریقہ کار کے فاش ہونے پر بھارتی فوج اور انٹیلی جنس ایجنسیوں میں شدید تشویش کی لہر دوڑ گئی ہے۔ دفاعی ماہرین کے مطابق، اس ڈیٹا کے افشا ہونے سے بین الاقوامی سطح پر بھارت کا وہ چہرہ بے نقاب ہو گیا ہے جو دنیا کو گمراہ کرنے کے لیے اربوں ڈالر کے پروپیگنڈا انفراسٹرکچر پر انحصار کرتا ہے۔

ہندوستان نے حکومتی مواصلاتی ایجنسیوں،فوجی معلوماتی جنگی ڈھانچے، انٹیلی جنس تنظیموں، اسٹریٹجک تھنک ٹینکس اور ہمدرد’’میڈیا ایکو سسٹم‘‘ کے نیٹ ورک کے ذریعے منظم طور پر ادارہ جاتی معلوماتی کارروائیاں، بیانیہ کی تخلیق، پرورش کے نظم و نسق کیلئے مربوط طریقہ کارکی تشکیل کا پردہ چاک ۔

مزید یہ بھی پڑھیں:میرپور : لڑکی کی کالعدم ایکشن کمیٹی کے احتجاج میں گرفتارمنگیتر کی رہائی کی اپیل

بھارتی وزارتِ دفاع کے میڈیا ونگ ‘ڈائریکٹوریٹ آف پبلک ریلیشنز’ (DPR) کے خفیہ طریقہ کار اور آپریشنل ڈھانچے کی تفصیلات منظرِ عام پر آ گئی ہیں۔ اس سیکیورٹی لیپس سے یہ واضح ہو گیا ہے کہ یہ ادارہ محض عام معلومات فراہم کرنے کا ذریعہ نہیں، بلکہ 10,000 سے زائد ملازمین پر مشتمل ایک ایسا منظم نیٹ ورک ہے جو عالمی سطح پر بھارتی بیانیے کی تشکیل، ایجنڈا سیٹنگ اور اسٹریٹجک اثر و رسوخ قائم کرنے کے لیے استعمال ہو رہا ہے۔

وسیع نیٹ ورک اور افرادی قوت کا انکشاف

دستاویزات کے مطابق، ڈی پی آر کا ہیڈ کوارٹر نئی دہلی میں ہے اور یہ وزارتِ دفاع، مسلح افواج، دفاعی و اسٹریٹجک اداروں کے لیے مواصلات کا واحد مجاز چینل ہے۔ اس کا آپریشنل نیٹ ورک درج ذیل اثاثوں پر محیط ہے:

علاقائی دفاتر: پورے ہندوستان میں تقریباً 25 علاقائی دفاتر سرگرم ہیں۔
سرشار یونٹس: بھارتی فوج (Army)، بحریہ (Navy) اور فضائیہ (Air Force) کے لیے الگ الگ پبلک ریلیشنز یونٹس قائم ہیں۔
افرادی قوت:
اس نیٹ ورک میں 10,000 سے زیادہ اہلکار کام کر رہے ہیں، جن میں میڈیا پروفیشنلز، ڈیجیٹل کمیونیکیشن ماہرین، تجزیہ کار اور انٹیلی جنس سپورٹ اسٹاف شامل ہیں۔

قیادت: اس پورے نیٹ ورک کی سربراہی ‘ایڈیشنل ڈائریکٹر جنرل (اسٹریٹیجک کمیونیکیشن)’ کرتے ہیں، جو حکومتِ ہند کے پرنسپل دفاعی ترجمان بھی ہیں۔

اسٹریٹجک تھنک ٹینکس سے گٹھ جوڑ
لیک ہونے والی معلومات کے مطابق، ڈی پی آر بھارت کے بڑے اور معروف اسٹریٹجک تھنک ٹینکس کے ساتھ مل کر کام کرتا ہے۔ ان اداروں میں درج ذیل شامل ہیں:
(انسٹٹیوٹ فار ڈیفنس اسٹڈیز اینڈ انالیسز)
(سینٹر فار ایئر پاور اسٹڈیز)
(سینٹر فار لینڈ وارفیر اسٹڈیز)
(نیشنل میری ٹائم فاؤنڈیشن)
یہ تھنک ٹینکس علمی لبادے میں ڈی پی آر کو ریسرچ، پالیسی مشورے اور اسٹریٹجک مدد فراہم کرتے ہیں تاکہ من پسند بیانیے کو منطقی اور فکری رنگ دیا جا سکے۔
خیالات کی تشکیل اور پوشیدہ ایجنڈا
رپورٹ کے مطابق، ڈی پی آر کا اصل کردار صرف خبریں جاری کرنا نہیں ہے، بلکہ اس کا دائرہ کار ‘معلوماتی جنگ’ (Information Warfare) تک پھیلا ہوا ہے۔ اس کے بنیادی مقاصد درج ذیل ہیں:
بیانیہ کی تشکیل (Narrative Shaping): مخصوص اہداف کے تحت بیانیے تیار کرنا اور ان کی پرورش کرنا۔

ایجنڈا سیٹنگ: میڈیا ہاؤسز کو مخصوص لائن دے کر عوامی توجہ کو من پسند موضوعات پر مرکوز رکھنا۔

داخلی مقاصد: عوام کا مسلح افواج پر اعتماد مضبوط رکھنا اور حکومت کی دفاعی پالیسیوں کو ہر حال میں فروغ دینا۔

دفاعی ماہرین کے مطابق، اس سیکیورٹی لیپس نے دنیا کے سامنے بھارتی دفاعی پروپیگنڈے کے اس وسیع انفراسٹرکچر کو مکمل طور پر بے نقاب کر دیا ہے جو پسِ پردہ رہ کر میڈیا اور عوامی سوچ کو کنٹرول کرتا ہے۔

مزید یہ بھی پڑھیں:کالعدم عوامی ایکشن کمیٹی کےسوشل میڈیا ایکٹویسٹ کے گرد گھیرا تنگ،مانیٹرنگ سیل قائم

اربوں ڈالر کا بجٹ اور میڈیا پر کنٹرول: بھارتی فوج کا ‘انفارمیشن وارفیئر نیٹ ورک بے نقاب

بھارتی وزارتِ دفاع کے میڈیا ونگ (DPR) کے حوالے سے سامنے آنے والے حالیہ سیکیورٹی لیپس میں ایک اور بڑا انکشاف ہوا ہے۔

بھارتی اسٹیبلشمنٹ عالمی اور داخلی سطح پر من پسند اثر و رسوخ قائم کرنے اور پروپیگنڈا پھیلانے کے لیے سالانہ 1 ارب ڈالر (تقریباً 9,558 کروڑ بھارتی روپے) سے زائد کی خطیر رقم استعمال کر رہی ہے۔ اس بجٹ کا بڑا حصہ خفیہ فنڈز کے ذریعے ‘معلوماتی جنگ’ (Information Warfare) پر خرچ کیا جاتا ہے۔

اربوں ڈالر کا بجٹ: بیانیے کی خریداری

دستاویزات کے مطابق، بھارت بیانیے کے غلبے اور عوامی سوچ کو کنٹرول کرنے (Perception Management) کو قومی طاقت کا سب سے اہم ہتھیار سمجھتا ہے۔ اس کے لیے مختص کردہ بجٹ کی تفصیلات درج ذیل ہیں:
سرکاری بجٹ:
ڈی پی آر کو سالانہ تقریباً 2,882 کروڑ روپے (305 ملین ڈالرز) میڈیا مصروفیت اور آؤٹ ریچ سرگرمیوں کے لیے ملتے ہیں۔

خفیہ فنڈزInformation Warfare): معلوماتی جنگ اور پسِ پردہ آپریشنز کے لیے مختلف خفیہ ذرائع سے 6,615 کروڑ روپے (700 ملین ڈالرز) کی خطیر رقم فراہم کی جاتی ہے۔

تھنک ٹینکس کی فنڈنگ: من پسند ریسرچ اور پالیسی گائیڈ لائنز تیار کرنے والے دفاعی تھنک ٹینکس کو سالانہ 70 کروڑ روپے دیے جاتے ہیں۔

مجموعی بجٹ: یہ کل رقم تقریباً 9,558 کروڑ روپے (1.01 ارب امریکی ڈالر) بنتی ہے، جو کسی بھی معلوماتی نیٹ ورک کے لیے ایک بہت بڑی سرمایہ کاری ہے۔

اسٹریٹجک اہداف اور پروپیگنڈا مشن

اس بھاری فنڈنگ کے ذریعے بھارتی فوج درج ذیل تین بنیادی اہداف حاصل کرتی ہے:

فوجی جدید کاری کے لیے حمایت: فوجی پروگراموں اور ہتھیاروں کی خریداری کے لیے عوامی اور سیاسی تعاون حاصل کرنا۔

عالمی تاثر کو بدلنا: خطے میں بھارت کے سیکیورٹی کردار کے حوالے سے بین الاقوامی برادری کی سوچ کو اپنے حق میں متاثر کرنا۔

بحران اور فوجی آپریشنز کا انتظام: کسی بھی فوجی بحران، سرحدی جھڑپوں یا جنگی حالات کے دوران سچائی کو چھپانا اور من پسند بیانیے (Narrative) کو دنیا کے سامنے پیش کرنا۔

بھارتی میڈیا اسپیس پر مکمل کنٹرول

رپورٹ کے مطابق ڈی پی آر نے بھارتی میڈیا کو مکمل طور پر اپنے شکنجے میں جکڑ رکھا ہے۔ اس مقصد کے لیے درج ذیل ہتھکنڈے استعمال کیے جاتے ہیں:

صحافیوں کی ذہن سازی: مخصوص بریفنگز، میڈیا ٹورز اور ‘دفاعی نامہ نگاروں کے کورسز’ کے ذریعے صحافیوں اور ایڈیٹرز کو رام کیا جاتا ہے۔

سرکاری رپورٹرز کا گٹھ جوڑ: اس طریقہ کار سے دفاعی صحافیوں کی ایک ایسی کمیونٹی تیار کی گئی ہے جو ہر معاملے پر صرف سرکاری لائن پر ہی رپورٹنگ کرتی ہے۔

بحران میں یکطرفہ کوریج: قومی سلامتی کے بحرانوں یا سرحدی واقعات کے دوران یہ رشتہ مزید مضبوط ہو جاتا ہے، جس کے نتیجے میں پورا بھارتی میڈیا بغیر کسی تصدیق کے فوج اور حکومت کے موقف کو ہوبہو نشر کرنا شروع کر دیتا ہے۔

دفاعی تجزیہ کاروں کے مطابق، اس سیکیورٹی لیپس نے ثابت کر دیا ہے کہ بھارتی میڈیا آزاد نہیں، بلکہ اربوں ڈالر کے اس پروپیگنڈا نیٹ ورک کا ایک حصہ ہے جو سچ کو دبانے اور جھوٹ کو پھیلانے کے لیے چوبیس گھنٹے متحرک رہتا ہے۔