کورٹ مارشل

بھارتی فوج کے میجر جنرل سمیت 20 فوجی افسران کا کورٹ مارشل، بھاری رشوت کا انکشاف

بھارتی فوج کی بھرتی کے عمل میں مبینہ بدعنوانی کا ایک بڑا اسکینڈل سامنے آیا ہے جس کے بعد ایک میجر جنرل سمیت 20 فوجی افسران کیخلاف کورٹ مارشل کی کارروائی شروع کیے جانے کی اطلاعات سامنے آئی ہیں ۔

یہ معاملہ ایس ایس بی کپور تھلہ بھرتی اسکینڈل سے متعلق بتایا جا رہا ہے جس نے فوجی بھرتی کے نظام کی شفافیت اور ساکھ پر سنگین سوالات کھڑے کر دیے ہیں ۔

رپورٹ کے مطابق بھرتی کے دوران ایسے اُمیدواروں کو کامیاب قرار دلوانے کے لیے بھاری رشوت لی گئی جو طبی معائنے میں نااہل قرار دئیے جا چکے تھے ۔

اطلاعات کے مطابق ہر اُمیدوار سے مبینہ طور پر 50 ہزار بھارتی روپے سے لیکر 10 لاکھ بھارتی روپے تک وصول کیے گئے تاکہ انہیں میڈیکل بنیادوں پر مسترد ہونے کے باوجود کلیئر کرایا جا سکے ۔

مزید یہ بھی پڑھیں:بھارتی فوجی افسر نابالغ لڑکی کو ہراساں کرتے پکڑا گیا، لوگوں نے درگت بنا دی

اس معاملے میں ایک جوان کا کردار بھی سامنے آیا ہے جس پر الزام ہے کہ وہ مسترد کیے گئے اُمیدواروں کی فہرستیں محفوظ رکھتا تھا اور انہی افراد کو غیر قانونی سہولت فراہم کرنے کے لیے رابطوں کا ذریعہ بنتا تھا ۔

مبینہ طور پر انہی فہرستوں کی مدد سے ایسے اُمیدواروں کی نشاندہی کی جاتی جنہیں رقم کے عوض بھرتی کے عمل میں آگے بڑھایا جا سکتا تھا ۔

تحقیقات کے دوران مالی لین دین کے شواہد بھی سامنے آنے کا دعویٰ کیا گیا ہے ۔ اطلاعات کے مطابق ادائیگیوں کا سراغ ڈیجیٹل ذرائع سے لگایا گیا، جن میں آن لائن ٹرانزیکشنز اور یو پی آئی کے ذریعے کی جانے والی رقوم کی منتقلی شامل ہے ۔

مزید یہ بھی پڑھیں:مقبوضہ کشمیر: راجوری سیکٹر میں آزادی پسندوں کاحملہ، 3 بھارتی فوجی ہلاک،ایک یرغمال

مزید یہ کہ بعض ادائیگیاں مبینہ طور پر ملزمان کے اہل خانہ کے اکاؤنٹس میں منتقل کی گئیں ، جس سے تحقیقات کو اہم شواہد حاصل ہوئے۔اس اسکینڈل کو فوجی بھرتی کے نظام میں اعتماد کیلئے ایک سنگین دھچکا قرار دیا جا رہا ہے ۔