انٹرنیشنل کرکٹ

انگلش ٹیسٹ کپتان بین اسٹوکس کا انٹرنیشنل کرکٹ سے ریٹائرمنٹ کا فیصلہ

انگلینڈ کرکٹ ٹیم کے مایہ ناز آل راؤنڈر اور ٹیسٹ کپتان بین اسٹوکس نے بین الاقوامی کرکٹ کو خیرباد کہنے کا بڑا فیصلہ کر لیا ہے۔ وہ نیوزی لینڈ کیخلاف جاری میچ کے اختتام پر انٹرنیشنل کرکٹ سے باقاعدہ ریٹائر ہو جائیں گے۔

واضح رہے کہ بین اسٹوکس نے 15 سالہ طویل کیریئر میں انگلش ٹیم کیلئے شاندار خدمات انجام دیں، جس کے دوران انہوں نے 122 ٹیسٹ، 114 ون ڈے اور 43 ٹی 20 انٹرنیشنل میچز میں ملک کی نمائندگی کی۔

بین اسٹوکس 2019 کے ون ڈے ورلڈ کپ اور 2022 کے ٹی 20 ورلڈ کپ کی فاتح ٹیموں کے ہیرو رہے اور دونوں ٹورنامنٹس کے فائنل میچز میں تاریخی اور یادگار کارکردگی کا مظاہرہ کیا۔

سابق کپتانوں ناصر حسین اور مائیکل ایتھرٹن کا ردعمل:
نیوزی لینڈ کے خلاف دوسرے ٹیسٹ میچ سے بین اسٹوکس کو ڈراپ کیے جانے اور ان کے ریٹائرمنٹ کے فیصلے پر انگلینڈ کے سابق کپتانوں نے گہری تشویش کا اظہار کیا ہے۔

ناصر حسین کا بیان:
سابق کپتان ناصر حسین کا کہنا تھا کہ بین اسٹوکس نے انگلینڈ کرکٹ کیلئے بے پناہ خدمات انجام دی ہیں اور وہ ٹیم کے عظیم ترین لمحات کا حصہ رہے ہیں۔

انہوں نے اسٹوکس کو انگلش ٹیم کا “جنگجو” (واریئر) قرار دیتے ہوئے کہا کہ اس مرتبہ ان سے یقیناً ایک بڑی غلطی ہوئی ہے لیکن یہ کوئی ایسا سنگین جرم نہیں تھا کہ انہیں ٹیم سے فارغ کر دیا جاتا۔

ناصر حسین نے مزید کہا کہ عظیم کرکٹرز کو جذبات میں آکر ایسے فیصلے نہیں کرنے چاہئیں اور اگر ہم نے اسٹوکس کو آخری بار ایکشن میں دیکھا ہے تو یہ انتہائی افسوسناک ہوگا۔

مائیکل ایتھرٹن کا مؤقف:
دوسری جانب سابق کپتان مائیکل ایتھرٹن نے انتظامیہ کو تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا کہ میچ میں کامیابی کے بعد رات گئے تک باہر رہنا کوئی ایسا جرم نہیں جس پر کسی کو ٹیم سے نکالا جائے یا استعفیٰ مانگا جائے۔

انہوں نے کہا کہ بین اسٹوکس گزشتہ 4 سال سے ٹیم کی کپتانی کر رہے ہیں، ہمیں یہ سمجھنا ہوگا کہ وہ اس وقت کس ذہنی دباؤ میں ہیں۔ ایتھرٹن نے سوال اٹھایا کہ مستقبل میں جب کوئی پوچھے گا کہ بین اسٹوکس جیسے عظیم کھلاڑی نے اچانک ریٹائرمنٹ کیوں لی، تو ہمارے پاس کیا جواب ہوگا؟